بیوروکریسی کے پیش نظر معاشی مسائل کا حل بھی ہونا چاہیے‘ چیئرمین اپٹپما

بیوروکریسی کے پیش نظر معاشی مسائل کا حل بھی ہونا چاہیے‘ چیئرمین اپٹپما

  

فیصل آباد(بیورورپورٹ) ٹیکسٹائل انڈسٹری ویلیو ایڈڈ انڈسٹری کے ناطے ٹیکسٹائل کی شعبہ میں ریٹرھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس کے ذریعہ حاصل ہونے والا کثیر زرمبادلہ اور لوکل ریونیو ملکی معیشت کیلئے نمایاں کردار ادا کرتے ہیں اس کے علاوہ لاکھوں افراد کے روزگار کا باعث بھی یہ انڈسٹری ہے۔ آپ لوگ جب اپنے پیشہ وارنہ فرائض کیلئے حکومتی اداروں کا حصہ بنیں گے تو آپ کے پیش نظر مستقبل میں پرائیویٹ سیکٹر کو درپیش مسائل کا حل بھی رہنا چاہیے اس طرح ملکی معیشت کی ترقی میں آپ کا حصہ بھی شامل ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان ٹیکسٹائل پر وسیسنگ ملز ایسوسی ایشن (اپٹپما) کے مرکزی چئیرمین محمد پرویز لالہ نے اپٹپما ہاؤس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے 28 ویں مڈکیرئیر مینجمنٹ کورس کے وفد کے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیہ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا اس وقت سب سے اہم مسئلہ شناختی کارڈ کا ہے، حکومت ہمیں کہہ رہی ہے کہ ہم نان رجسٹرڈ ٹریڈرز کو رجسٹرڈ کروائیں، حالانکہ یہ ہمارا نہیں بلکہ حکومت کا کام ہے۔ ہم تو خود حکومت کو یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ ایک سرکلر جاری کردیں جس میں لکھا ہو کہ آپ نے نان رجسٹرڈ لوگوں کو مال فروخت نہیں کرنا تو سارا مسئلہ ہی حل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ 17فیصد سیلز ٹیکس کی جو شرح رکھی گئی ہے وہ بہت زیادہ ہے، اس سے کاسٹ بڑھ جانے کے باعث ہم لوکل اور انٹرنیشنل مارکیٹوں سے مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ ای او بی آئی اور سوشل سکیورٹی جیسے سرکاری اداروں کی جانب سے نوٹسز کا سلسلہ بھی سکون نہیں لینے دیتا۔ انڈیا سے تجارت کی بندش کے باعث ہمیں ڈائیز اور کیمیکلز کی عدم دستیابی کا سامنا بھی ہے، کیونکہ بعض ڈائز اور کیمیکلز انڈیا سے ہی درآمد ہوتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ EOBI، سوشل سکیورٹی اور لیبر جیسے اداروں کو ون ونڈوسسٹم کے تحت انڈسٹری کے معاملات دیکھنے چاہیں۔

تاکہ فیکٹری مالکان اپنی تمام تر توجہ فیکٹری پر مر کوز کر کے انڈسٹری کو ترقی دیں سکیں۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے ریجنل چئیرمین انجئنیر حافظ احتشام جاوید نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا اس وقت ہمارے ملک میں محدود برانڈز (Brands) کے باعث ہی ملک کی انڈسٹری چل رہی ہے کیونکہ وہ مکمل طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ملک کی صرف 10 فیصد آبادی برانڈڈ کپڑے پہنتی ہے جبکہ 90 فیصد آبادی اپنی سکت کے مطابق نان برانڈڈ کپڑوں سے استفا دہ کرتی ہے۔ شناختی کارڈ کی شرط کے باعث ہمارے کئی ادارے اپنی سیلز ٹیکس کی ریٹرن تک فائل نہیں

مزید :

کامرس -