رستم، سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر پر ائیویٹ کلینکس میں ڈیوں ٹیادینے لگے

رستم، سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر پر ائیویٹ کلینکس میں ڈیوں ٹیادینے لگے

  

رستم(تحصیل رپورٹر)تحصیل رستم میں سرکاری ڈاکٹروں نے ہسپتال میں ڈیوٹیاں دینے کی بجائے اپنے پرائیویٹ کلینکس پر ڈیوٹیاں سر انجام دینا شروع کر دیں، مریضوں کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، مریض پرائیویٹ کلینکس پر علاج کروانے پر مجبور ہیں جبکہ پرائیویٹ ڈاکٹرز کی فیسیں مریضوں کی پہنچ سے باہر ہیں غریب مریض مہنگائی کے دور میں علاج کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں نے ذاتی مفاد کی غرض سے ہڑتال کر رکھی ہے اور سرکاری ہسپتال میں تعینات ڈاکٹروں نے سرکاری ہسپتال میں ڈیوٹی دینے کی بجائے ہسپتال کے باہر اپنے پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتال بنا کر وہاں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں، جن میں ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بھاری فیسیں، ہسپتالوں کے اندر موجود میڈیکل سٹورز اور لیبارٹریوں میں مہنگے ٹیسٹوں کے نام پر بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں، متعدد سرکاری ڈاکٹرز نے سول ہسپتال کے باہر پرائیویٹ کلینک کھول رکھے ہیں، جہاں مریضوں سے فیسوں اور ٹیسٹوں کی مد میں بھاری رقم وصول کی جاتی ہے، دوسری جانب ادویات بنانے والی کمپنیوں سے مراعات ملنے پر ڈاکٹروں نے پلاٹس اور گاڑیاں خریدیں ہیں، میڈیسن کمپنیوں کے ساتھ معاملات طے ہونے کیوجہ سے سادہ لوح غریب مریضوں کو مہنگی ادویات کے نسخے تجویز کرکے دیئے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے مریض لٹنے پر مجبور ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -