نیشنل ٹی ٹونٹی ابھرتے کھلاڑیوں کی متاثر کن پرفارمنس  

  نیشنل ٹی ٹونٹی ابھرتے کھلاڑیوں کی متاثر کن پرفارمنس  

  

ٹی ٹونٹی کرکٹ پاکستان میں تیزی سے مقبول ہونے والا فارمیٹ ہے او ر اس فارمیٹ کی کرکٹ میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جس کا عملی مظاہرہ حال ہی میں فیصل آباد میں ہونے والے قومی ٹی ٹونٹی ایونٹ میں کیا گیا جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ نئے ٹیلنٹ نے بھی اپنے کھیل کا مظاہر ہ کیا اور شائقین کرکٹ کو خوب محظوظ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام اس ایونٹ میں پاکستان کے چاروں صوبوں کی ٹیموں نے حصہ لیا جس کامقصد کھلاڑیوںکی ایک طرف تو کارکردگی کو جانچنا تھا اور دوسری طرف نئے ٹیلنٹ کی تلاش بھی تھی اور اس میں توقعات کے مطابق کامیابی حاصل ہوئی نیشنل ٹی ٹونٹی ایونٹ میں پاکستان نادرن کی ٹیم نے بہت عمد ہ کھیل کامظاہر ہ کیا اور ایونٹ اپنے نام کیا جبکہ فائنل میں اس نے بلوچستان کی ٹیم کو شکست سے دوچارکیا عمر امین نے فاتح ٹیم کی جانب سے بہت اچھے کھیل کامظاہر ہ کیا اور مین آف دی میچ ایوارڈ کے حق دار ٹھہرے،اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں 10 روزہ ایونٹ میں 674 مرتبہ گیند باو¿نڈری کے باہر گئی۔ جس میں 484 چوکے اور 190 چھکے شامل تھے۔190میں30 فیصد چھکے ناردرن کے بلے بازوں نے جڑے، جس میں مڈل آرڈر بلے باز آصف علی نے مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ناردرن کی جانب سے لگائے گئے 56 میں سے 19 چھکے جڑے۔آصف علی نے ایک اننگز میں 10 چھکے لگائے۔ایونٹ کی رنرزاپ ٹیم بلوچستان نے سب سے زیادہ،109،چوکے لگا ئے۔نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے دوران 18 میچوں میں5448 رنز اسکور کیے گئے، جس میں 26 نصف سنچریاں اور 2 سنچریاں شامل تھیں۔ ایونٹ کی دونوں سنچریاں سنٹرل پنجاب کے بلے بازوں کے نام رہیں، جس میں بابراعظم اور احمد شہزاد کے نام شامل ہیں۔ محمد عامر، سہیل تنویر، حارث رو¿ف، موسیٰ خان، عماد وسیم اور شاداب خان کی موجودگی میں ناردرن کے پاس ایونٹ کی سب سے مضبوط باو¿لنگ لائن اپ تھی، جنہوں نے ایونٹ میں 59 بار حریف کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ایونٹ میں کل 221 وکٹیں گریں۔ایونٹ کے چیمپئن کپتان عماد وسیم نے کہا کہ ناردرن کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ اور باو¿لنگ ایونٹ میں شامل تمام ٹیموں سے بہتر تھی اور یہی ان کی جیت کی وجہ رہی۔انہوں نے کہا کہ ٹیم میں شامل ہر کھلاڑی نے اس ایونٹ کو ایک انٹرنیشنل ٹورنامنٹ سمجھ کر کھیلا۔نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں صرف ایک مرتبہ کسی باو¿لر نے 5 وکٹیں حاصل کیں۔ خیبرپختونخوا کے فاسٹ باو¿لر عثمان شنواری نے یہ کارنامہ ناردن کے خلاف سیمی فائنل میں انجام دیا۔ 13 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو آو¿ٹ کرنے کے باوجود عثمان شنواری میچ میں اپنی ٹیم کو کامیابی نہ دلاسکے۔6میچوں میں 215 رنز اور وکٹوں کے پیچھے 6 شکار کرنے والے خیبرپختونخوا کے کپتان محمد رضوان کو ایونٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ محمد رضوان نے ایونٹ میں 2 نصف سنچریاں اسکور کیں۔ ایونٹ میں14وکٹیں حاصل کرنے والے ناردرن کے تجربہ کار میڈیم پیسر سہیل تنویر کو بہترین باو¿لرجبکہ276 رنز بنانے والے بلوچستان کے اوپنراویس ضیاءنے ٹورنامنٹ کے بہترین بیٹسمین کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔ ناردرن کے روحیل نذیر کوٹورنامنٹ کے بہترین وکٹ کیپر کا ایوارڈ دیا گیا۔ ایسے ایونٹس ہمیشہ ہی کرکٹ کی بہتری اور فروغ کے لئے اہم ہوتے ہیں اور اس سے جہاں پر نئے کھلاڑیوں کو پلیٹ فارم ملتا ہے وہی پر ملک میں بھی کھیل فروغ پاتا ہے پی سی بی کی یہ ایک بہت اچھی کاوش تھی جس میں وہ کامیاب ہوئی اور امید ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح سے متواتر مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور نیا ٹیلنٹ اس کی بدولت منظر عام پر آئے گا سابق کرکٹرز نے بھی اس ایونٹ کو نوجوان کھلاڑیوں کے لئے خوش آئند قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ ایونٹ کو آرگنائز کیا گیا اور جس طرح سے شائقین کرکٹ نے اس میں بھرپور دلچسپی لی وہ قابل تعریف ہے یہ فارمیٹ کی کرکٹ بہت مقبول ہے اور ایسے ایونٹس سے مزید مقبولیت پیدا ہوگی خاص طور پر نوجوان کھلاڑیوں نے اس ایونٹ میں بہت عمدہ پرفارم کیا اور امید ہے کہ وہ اسی طرح سے محنت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنیں گے ایونٹ میں شریک پاکستان کے نامور کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ خاص طور پر نوجوان کھلاڑیوں نے ایونٹ کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے اپنے مستقبل کے لئے بہت خوش آئند قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہی پلیٹ فارم ہمیں ہماری کارکردگی کو جانچنے کا موقع دیتے ہیں اور ہمیں ایسے ایونٹس میں سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں چاروں صوبوں میں کرکٹ کا بہت ٹیلنٹ ہے او ر ایک ساتھ ان کو ایسے ایونٹس میںموقع ملنا اچھا عمل ہے جبکہ اسی طرح سے فیصل آباد کے شائقین کرکٹ جنہوں نے میچز دیکھے اور خوب انجوائے کیا انہوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ فیصل آباد میں اس ایونٹ کا انعقاد نے خوشی دوبالا کردی بہت مزا آیا اور اس طرح کے ایونٹس اسی طرح سے پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے چاہئیے تاکہ شائقین اپنے سٹارز کھلاڑیوں کو اپنے سامنے کھیلتا دیکھ سکیں جبکہ اختتامی تقریب کے موقع پر جس طرح سے زبردست پرفارمنس کامظاہرہ کیا یہ ہم مدتوںنہیںبھول سکیں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -