پنجاب بیت المال کونسل میں سیاسی کارکنوں کو شامل کرنے کیخلاف درخواست دائر

پنجاب بیت المال کونسل میں سیاسی کارکنوں کو شامل کرنے کیخلاف درخواست دائر

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)پنجاب بیت المال کونسل کی تشکیل کولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں میاں داؤد ایڈووکیٹ نے آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کونوازنے کے لئے انہیں غیر قانونی طور پر پنجاب بیت المال کونسل میں شامل کیا گیا ہے۔پنجاب بیت المال کونسل ایکٹ 1991 ء کی دفعہ 2 کے تحت پنجاب حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ معروف ماہرین تعلیم، صحت اور سماجی کارکنوں پر مشتمل 15 رکنی بیت المال کونسل تشکیل دے جو صوبے کے انتہائی غریب افراد کیلئے مالی امداد کا بندوبست کر سکے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پی ٹی آئی کی موجودہ و سابق شخصیات کو بیت المال کونسل میں شامل کر کے نوٹیفکیشن جاری کر وا دیا ہے جو ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، درخواست گزار کامزید کہناہے کہ ان سیاسی شخصیات میں امین بیت المال کونسل ملک محمد اعظم پی ٹی آئی پنجاب کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری پنجاب اور ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن پنجاب رہ چکے ہیں جبکہ ملک اقبال ثاقب پی ٹی آئی ڈیرہ غازی خان کے ضلعی صدر رہ چکے ہیں، بارڈر ملٹری پولیس کے ریٹائرڈ اہلکار سہراب خان بزدار، وزیر اعلیٰ کے قبیلے کے ریٹائرڈ سرکاری افسر اقبال خان بزدار، سابق نگران وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب احمد وقاص ریاض، تحریک انصاف وومن ونگ رحیم یار خان کی سابق صدر فوزیہ عباس، نائب صدر پی ٹی آئی وومن ونگ سنٹرل پنجاب میمونہ حسین، تحریک انصاف کی متحرک کارکن فرحت خالدکو بھی پنجاب بیت المال کونسل میں غیرقانونی طور پر شامل کر دیا گیا ہے۔پنجاب بیت المال کونسل کی تشکیل اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

بیت المال

مزید :

صفحہ آخر -