نوازشریف کو سروسز ہسپتال سے منتقل کرنے کا فیصلہ مگر کہاں ؟ نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کردیا

نوازشریف کو سروسز ہسپتال سے منتقل کرنے کا فیصلہ مگر کہاں ؟ نجی ٹی وی چینل نے ...
نوازشریف کو سروسز ہسپتال سے منتقل کرنے کا فیصلہ مگر کہاں ؟ نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کردیا

  

لاہور، کراچی (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے اہل خانہ نے سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لاہور ہسپتال سے رائے ونڈ میں قائم شریف میڈیکل سٹی ہسپتال منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے پلیٹ لیٹس نارمل ہونے تک کہیں نہیں جانا چاہیے کیونکہ نئی جگہ پر نئے ڈاکٹر اور  نیا علاج ہوگا، موجودہ ڈاکٹرز نے ان کی بیماری کو سمجھ کر علاج شروع کردیا۔ 

ایکسپریس نیوز کے اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو نواز شریف کے ای سی جی اوردیگرکارڈیک طبی ٹیسٹوں کی رپورٹس نارمل آئی ہیں، نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد45ہزار سے زائد ہوگئی ہے جو طبی نکتہ نگاہ سے اچھی علامات ہیں۔سابق وزیراعظم کے اہلخانہ نے انہیں شریف میڈیکل سٹی ہسپتال منتقل کرنے کافیصلہ  کیا ہے ۔  

نواز شریف کا بلڈ پریشر اور دیگر کیے جانے والے طبی ٹیسٹ کی رپورٹس پر میڈیکل بورڈکے ارکان نے اطمینان کا اظہارکیا ہے تاہم میڈیکل بورڈکے ارکان کی جانب نواز شریف کی فیمیلی سے کہا گیا ہے کہ وہ نوازشریف سے کم سے کم ملاقات کریں۔

میڈیکل بورڈکے ارکان نے مریم نواز اور شہبازشریف سے یہ بھی کہا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کونوازشریف سے ملاقات کی اجازت نہ دیں، میڈیکل بورڈکے ماہرین نے نواز شریف کی ہارٹ اٹیک کی علامات نارمل آنے پر بھی اطمینان کا اظہارکیا ہے تاہم نواز شریف نے امراض خون کے ماہر ڈاکٹرطاہر شمسی سے مسلسل رابطے اور نجی طور پر علاج کرانے کی یقین دہانی بھی لی ہے، نواز شریف نے میڈیکل بورڈکے تمام اراکان کا انتہائی شکریہ بھی اداکیا۔

میڈیکل بورڈکے بعض اراکان سے بات چیت میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ بیرون ملک نہیں جاؤںگا اور اپنے ہی ملک میں علاج کو ترجیحی دوںگا۔دریں اثنا سابق وزیراعظم نوازشریف کو خون کی بیماری iTPکی تشخیص اورiVIG علاج تجویزکرنے والے ڈاکرطاہرشمسی ہفتہ کی رات لاہور سے کراچی پہنچ گئے۔

ڈاکٹرطاہرشمسی کوحکومت پنجاب نے نوازشریف کے پلیٹ لیٹ غیرمعمولی طورپرکم ہونے اورمرض کی تشخیص کیلیے لاہوربلایاتھا جس پر انھوں نے نوازشریف کے طبی ٹیسٹوں میں نہ صرف مرض کی تشخیص کے بلکہ انجکشن تھراپی کے ذریعے پلیٹ لیٹ کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -سندھ -