شکریہ ٹی ڈی سی پی

شکریہ ٹی ڈی سی پی
شکریہ ٹی ڈی سی پی

  

کسی بھی ملک کی معیشت کا ُبنیادی انحصار دو اہم چیزوں پر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر ملک ترقی کی منازل طے کرتے ہیں ۔ایک ایگر یکلچر اور دوسرا سیاحت۔آپ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان ممالک میں سیاحت کتنی اہمیت کی حامل ہے خاص طور پر ملکی معیشت میں سیاحت کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ترکی سے لے کر ُدبئی تک اور پورپی ممالک سے کر جاپان اور چائنہ تک ان تمام ممالک کی معیشت کا بڑا انحصار سیاحت سے وابستہ ہے۔اس کے علاوہ کسی بھی ملک کا سافٹ اور مثبت امیج دنیا کو دکھانے کا واحد ذریعہ سیاحت ہی ہے۔

ویسے تو بہت سے ممالک دنیا میں ایسے ہیں جن کی ساری معیشت کا دار و مدار ہی سیاحت پر ہے مگر یہاں میں آپ کو دبئی اور ملائشیا کی مثال دینا چاہوں گا ،  وہ دبئی جو آج سے 40 سال پہلے تک محض صرف ایک ویران صحرا تھا اور ملائیشیا جو کچھ عرصہ قبل مچھیروں کی بستی تھا مگر صرف سیاحت کی بدولت آج یہ دونوں ممالک دنیا کی سیاحت کے بڑے مراکز میں سے ایک ہیں اور مضبوط ترین معاشی ملک بن چکے ہیں۔روزانہ دنیا بھر سے لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں اور ان  کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

بد قسمتی سے پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ رہا ہے کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس شعبے کی طرف توجہ نہیں دی اور سوتیلوں جیسا برتاؤ کیا گیا۔حالانکہ اللہ تعالی نے اس ملک کو قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے۔ویسے تو موجودہ حکومت کی کار کردگی کوئی اتنی تسلی بخش نہیں لیکن میری نظر میں اگر اس وقت پنجاب حکومت کا جو محکمہ سب سے بہتر کام کر رہا ہے وہ ہے ٹی ڈی سی پی (ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کارپوریشن آف پنجاب) ۔یہ پنجاب حکومت کا واحد محکمہ ہے جو نہ صرف اپنا ریونیو خود جنریٹ کرتا ہے بلکہ منافع میں بھی ہے۔اس کی واحد وجہ اس محکمے سے وابستہ ذمہ داران کا اخلاص اور دیوانوں کی حد تک اپنے کام سے لگن ہے۔

چند روز قبل ٹی ڈی سی پی اور پی ایف سی کے اشتراک سے صحافیوں ، معروف سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ اور وی لاگرز کے لئے سون سکیسر ویلی کے دو روزہ تفریحی دورے کا اہتمام کیا گیا ۔مقصد جھیلوں اور خوبصورت پہاڑیوں کے جھرمٹ میں واقع اس حسین وادی کو دنیا کے سامنے متعارف کرانا تھا۔آپ یقین کریں اگر آپ نے اب تک اس وادی کا رخ نہیں کیا تو آپ نے کچھ نہیں دیکھا ۔ آپ مری ، ایوبیہ اور نتھیا گلی کو بھول جائیں گے۔ کھبیکی جھیل اور کنہٹی باغ کے حسن کا تو کوئی ثانی ہی نہیں ہے، دیگر تفریحی مقامات کی نسبت یہاں کا خرچ بھی نسبتاً کم ہے۔

ٹی ڈی سی پی نے پاکستان کے مثبت امیج ُاجاگر کرنے اور پاکستان میں سیاحت کے فروغ کا جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ قابلِ تحسین ہے اور اس کاوش میں ایڈوائزر وزیرِاعلی پنجاب برائے ٹورازم آصف شاہ ، سیکرٹری یوتھ اینڈ سپورٹس ٹورازم محبوب ندیم ، مینیجنگ ڈائریکٹر ٹی ڈی سی پی تنویر جّبار اور جی ایم آپریشنز عاصم رضا سرِ فہرست ہیں۔یہ ذمہ داران اس ادارے کے ماتھے کا ُجھومر ہیں ۔ان لوگوں نے سیاحت کے فروغ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔یہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں ۔میں یقین سے کہتا ہوں اگر دیگر سرکاری محکموں کو بھی ایسے دو چار صاحبِ جنوں میسر آ جائیں جو کام کو کام نہیں بلکہ ایک مقصد اور مشن سمجھ کر کرتے ہیں تو  اس ملک کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مزید :

بلاگ -