تصحیح ضروری تھی!

تصحیح ضروری تھی!
تصحیح ضروری تھی!

  

24، اگست 2020 کے اخبار میں میرا ایک کالم چھپا جس میں بین الاقوامی رفاہی تنظیم مسلم ہینڈز انٹرنیشنل کا تذکرہ تھا۔ اس کالم میں یہ ذکر کیا گیا تھا کہ کس طرح ایک سیدزادے نے مسجد کے ایک حجرے سے فلاح ِ انسانیت کے اس کام کا آغاز کیا اور اپنے خلوص کی بنیاد پر دنیا بھر میں خدمت کے ایک سمبل کے طور پر یاد کیا جانے لگا۔ اس کالم میں اعدادو شمار اور ناموں کے ضمن میں چند ایک غلطیاں ہوئیں۔چند احباب نے مہربانی فرماتے ہوئے فون کیاجبکہ تین چار ای میلز بھی موصول ہوئیں جن میں اس جانب توجہ مبذول کرائی گئی۔ان میں سب سے اہم فون محترم جناب نعیم ناز کا تھا وہ واقعے کے دونوں مرکزی کرداروں کے سگے بھائی ہیں۔ میں نے جو ذکر کیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اچ شریف میں ایک معذور لڑکی نے منو بھائی کو خط لکھا کہ مجھے ایک وہیل چیئر کی ضرورت ہے۔منو بھائی نے اس خط کا تذکرہ اپنے کالم میں کیا۔یہ کالم انگلینڈ میں مقیم ایک سید زادے نے پڑھا جن کا نام سید لخت حسنین تھا۔ وہ یہ فریاد پڑھ کر بے قرار ہو گئے اور اس دور میں پچیس ہزار کا بندوبست کیا اور پیسے منو بھائی کو بھیج دیے۔ انہوں نے وہیل چیئر خرید کر اس لڑکی کو دی۔ اس لڑکی کا کام تو ہو گیا لیکن یہیں سے سید لخت حسنین شاہ صاحب کے دل میں خدمت خلق کااچھوتا خیال آیا جو آج کل مسلم ہینڈز انٹرنیشنل کی صورت میں ابرِباراں بن کر انسانیت کے چمن پر چھائی خزاں کو دور کر کے امیدوں کے پھول کھلا رہا ہے۔ان کی خدمات کا اعتراف پوری دنیا نے کیا اور اب حکومت پاکستان نے بھی ان کے لیے ستارہ امتیاز کا اعلان کیا ہے“۔

اب تصحیح بھی ملاحظہ فرمائیں۔چونکہ مسلم ہینڈز انٹرنیشنل ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جس پر آنے والے اوقات میں باقاعدہ ریسرچ ہو گی اوریہ اعدادو شمار ایک ریفرنس کے طور پر ذکر کیے جائیں گے، لہذا تصحیح بہت ضروری ہے۔ اصل قصہ یوں تھا کہ منو بھائی کو خط لکھنے والی لڑکی بذات خود معذور نہیں تھی بلکہ معذور اس لڑکی کا بھائی تھا جں کا نام شبیر احمد ناز تھاجنہیں عین جوانی میں موٹر نیوران (Motor Neurone) نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔شبیر ناز کواپنے گاؤں ”موضع سرکی“ کا سرسید کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے معذور ہونے کے باوجوداپنے گاؤں میں اپنے ہی گھر کا صحن بچوں کے لیے سکول میں تبدیل کر دیا۔چونکہ کمرہ تعمیر کرنے کے ذرائع نہیں تھے لہذا چھپر ڈال کر ”چھپر سکول“ قائم کیا اور بجلی اور سکول جیسی بنیادی سہولیات سے محروم گاؤں کے ہزاروں بچوں کو تعلیم کی دولت سے مالامال کیا۔وہ نہ صرف پڑھاتے تھے بلکہ سہ ماہی میگزین ”جہان گشت“ اور پندرہ روزہ اخبار ”نوائے اچ“ میں اپنے علاقے کی زبوں حالی اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کی تباہ کاریوں پر کالم بھی لکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے مضامین وقتاً فوقتاًملک کے مؤقر جرائد و اخبارات میں شائع ہوتے رہتے تھے۔

  کہتے ہیں کہ ارادے نیک ہوں تو اللہ تعالیٰ مشکلات آسان کر دیتا ہے۔ شبیر احمد ناز کا جذبہ بھی بیمثال لیکن معذوری بھی حقیقت تھی اور اس کے عزائم میں رکاوٹ بھی۔ بہن نے بھائی کا جذبہ دیکھا تو منو بھائی کو خط لکھا۔موصوفہ آج کل ایڈووکیٹ ہیں اور بہاولپور میں وکالت کرتی ہیں۔جب میرا کالم چھپا تو سب سے زیادہ رسپانس انہی کی طرف سے آیا کہ تصحیح ہونی چاہیے تا کہ تاریخ کا دھارا درست رہے۔دوسری تصحیح یہ تھی کہ سید لخت حسنین شاہ صاحب نے پچیس ہزار روپے نہیں بھیجے تھے بلکہ انہوں نے انگلینڈ سے آٹو ٹرائی سائیکل (Auto Tricycle) خریدکربھیجی تھی جس کی لاگت بمطابق ”جہاں گشت میگزین“ ڈیڑھ لاکھ روپے تھی۔اس رقم کا انتظام انہوں نے خود کیا تھا کیونکہ اس وقت مسلم ہینڈز انٹرنیشنل قائم نہیں ہوئی تھی بلکہ اسی واقعہ نے اس تنظیم کے لیے بنیادی محرک یا خشت اول کا کردار ادا کیاتھا۔پاکستان درآمد کرنے کا ٹیکس حکومت پنجاب نے ادا کیا تھا جبکہ پچیس ہزار کی رقم بھی امداد کے طور حکومت پنجاب ہی کی طرف سے ادا کی گئی۔اس حوالے سے تقریب جولائی 1992میں ہی سرکٹ ہاؤس بہاولپور میں منعقد ہوئی جس میں مہمان خصوصی کمشنر بہاولپور ڈویژن مرتضیٰ برلاس صاحب تھے جو ایک معروف شاعر بھی ہیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدروائیں مرحوم کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ چیزیں شبیر احمد ناز کے حوالے کیں۔اس حوالے سے حکومت پنجاب کی جانب سے ایک اور اہم قدم یہ اٹھایا گیا کہ شبیر احمد ناز کے جذبے اور صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں گورنمنٹ کی مستقل ملازمت دے دی گئی اور علاقے کے لیے بے لوث محبت کو دیکھتے ہوئے موضع سرکی میں پہلا پرائمری سکول بھی بنایا گیا اور بجلی بھی مہیا کی گئی۔یہ سب کچھ سید لخت حسنین شاہ صاحب کی بدولت ہوا۔ صحابہ اور اہل بیت، دونوں ہی ہر لمحہ اپنے نبیؐ پر قربان اور ایک دوسرے کی عزت کرتے دیکھائی دیتے ہیں لیکن تاریخ میں ایک عجیب اتفاق دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب بھی انعام و اکرام کی بات ہوتی اہل بیت، صحابہ کو پہلی صف میں لا کھڑا کرتے اور خود آخر میں رہتے لیکن جب کبھی قربانیاں درپیش ہوتیں تو اہل بیت خود کو مقدم کر کے صحابہ کے لیے ڈھال بنا لیتے۔سید لخت حسنین شاہ صاحب کا تعلق اسی قبیلے سے ہے اور ویسے بھی اس انسان کے بارے میں کیا لکھا جا سکتا ہے جس کے ہزاروں مرید اس کی خدمت کرنے کے لیے بیتاب ہوں لیکن وہ خود انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہو۔

مزید :

رائے -کالم -