دنیا ہمیں شک کی نگاہ سے کیوں دیکھتی ہے؟

دنیا ہمیں شک کی نگاہ سے کیوں دیکھتی ہے؟
دنیا ہمیں شک کی نگاہ سے کیوں دیکھتی ہے؟

  

آج جب دنیا ایک گاؤں کا روپ دھار چکی ہے۔ ملکوں کا آپس میں لین دین ہے۔ اب اعتبار کی اہمیت پہلے سے بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ بین الاقوامی اداروں سے قرض لینا ہو یا خوشحال ممالک سے امداد سب اعتبار کی بنیاد پر ہی مل سکتا ہے۔ کسی ملک کو گرے فہرست سے نکالنا ہو یا اس پر پابندیاں لگانی ہوں۔ کسی کے ساتھ تعلقات استوار کرنے ہوں یا سفارتی تعلقات توڑنے کی بات ہو اس میں بھی اعتبار کو اہمیت حاصل ہے۔ 

جھوٹ بولنا، دھوکا دہی، نوسربازی دنیا کے ہر ملک میں ہوتی ہے۔ ہر ملک میں چور بھی ہیں۔ اور ڈاکو بھی ہیں۔ جھوٹے بھی ہیں اور نوسرباز بھی،  لیکن ایسا کیوں ہے کہ دنیا ہمیں بطور ایک قوم شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے؟ ہم کسی بھی ملک میں جاتے ہیں تو ہمارا سبز پاسپورٹ دیکھتے ہی ہمیں شکی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔خصوصی تلاشیاں لی جاتی ہیں۔ 

دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور مغرب کی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا ہے اور سب سے زیادہ قربانیاں ہماری فوج اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دی ہیں۔ لیکن پھر بھی کیا وجہ ہے کہ کوئی ملک ایسا نہیں جو ہم پر  اعتبار کرتا ہو۔

آخر ہم سے کونسا ایسا جرم سرزد ہوا ہے کہ پوری دنیا ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ہم خود بھی ایک دوسرے کا اعتبار نہیں کرتے ہیں۔ بیرون پاکستان بھی پاکستانی دوسری قوم کے بندوں پر اعتبار کرتے ہیں لیکن اپنوں پر سرے سے یقین نہیں کرتے۔ اس کے برعکس جاپانی جہاں بھی ہوگا وہ سب سے زیادہ جاپانی پر اعتماد کرے گا، سکنڈے نیوین جہاں بھی ہوں گے وہ اپنے ہی خطے کے لوگوں پر سب سے زیادہ یقین کریں گے۔ یورپین یورپین کی بات کو ہی سچ مانتے ہیں۔ اب ذرا سوچتے ہیں کہ ہمارے اس قدر بے اعتبار ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ 

ہمارا ایک دوست تھا جو نارویجین پارلیمنٹ کا ممبر اور خارجہ امور کی کمیٹی کا بھی اہم رکن تھا۔ جو کبھی کبھار کشمیر کے معاملے میں ہماری مدد بھی کرتا تھا۔ ایک بار ہم نے اسے رات کے کھانے پر دعوت دی، وہاں دوستانہ ماحول میں گفتگو ہو رہی تھی۔ تو میں نے اس سے سوال کیا کہ کشمیر میں بھارت جو مظالم ڈھا رہا ہے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے انکاری ہے۔ اس پر دنیا کیوں چپ سادھے ہوئے ہے۔ تو اس نے کہا کہ دنیا آپ کی بات کو سچ نہیں مانتی۔ کیونکہ آپ کے ملک میں جمہوریت کبھی مضبوط نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہر ملک کے ادارے اپنے ملکی مفاد میں جھوٹ بھی بولتے ہیں اور دوسرں کو دھوکا بھی دیتے ہیں پھر سارا الزام ہمارے اداروں پر کیوں آتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں دوسرے ممالک کی ایجنسیاں بھی جھوٹ بولتی ہیں۔ لیکن ان کا جھوٹ اس وقت تک سامنے نہیں آتا،جب تک  وہ خود اس کا کسی کتاب وغیرہ میں اعتراف نہ کر لیں۔ جبکہ آپ لوگوں کی ایجنسیاں ایک طرف جھوٹ بول رہی ہوتی ہیں تو دوسری طرف سچ سامنے آرہا ہوتا ہے۔ جیسا کہ دنیا کہہ رہی تھی کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گرد ہیں۔ لیکن ہم اس کا مسلسل انکار کر رہے تھے۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد پاکستانی فوج نے آپریشن شروع کیا جو کئی برسوں کی جنگ میں تبدیل ہوا۔ ایک موقع پر ایک عراقی دہشت گرد یوسف رمزی کو پاکستان سے گرفتار کیا گیا جو امریکہ کو مطلوب تھا۔ پاکستان کی وزرات خارجہ کہہ رہی تھی کہ ہم اسے امریکہ کے حوالے نہیں کریں گے، جبکہ ادھر امریکہ والوں نے دکھا بھی دیا کہ رمزی کو ان کے حوالے کیا بھی جا چکا ہے۔ اسی طرح کارگل پر ہم یہ کہتے رہے کہ وہاں صرف کشمیری مجاہدین لڑ رہے ہیں لیکن ازاں بعد ہم نے اپنے فوجیوں کو کارگل جنگ کی کارکردگی پر اعزازات سے بھی نوازا، 

یہ باتیں تو ماضی قریب کی ہیں۔ لیکن پاکستان کی تاریخ کو جاننے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل غلام محمد کو جب معزول کر کے گرفتار کیا جا چکا تھا۔ اسی وقت یہ اعلان ہو رہا تھا کہ جناب گورنر جنرل بیمار ہیں اور علاج کی غرض سے بیرون ملک جا رہے ہیں  ان کی لیموزین گاڑی کراچی کی سڑکوں پر ایئرپورٹ کی طرف رواں دواں تھی اور راستے میں لوگ پاکستانی پرچم کے ساتھ ان کو الوداع کر رہے تھے۔ پاکستان کے آئین کو مسلسل پامال کیا جاتا رہا۔

جب اوپر سے جھوٹ بولا جائے اور حکومت کی طرف سے عوام کو درست اطلاعات تک رسائی نہ دی جائے تو پھر نیچے  بھی جھوٹ اور افواہوں پر ہی عمل کیا جاتا ہے۔ ہمارے فقیر بھی نوسر بازی کرتے ہیں۔ ضرورت سے نہیں لالچ سے مانگتے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -