کہیں ایسا نہ ہو جائے،کہیں ویسا نہ ہو جائے

کہیں ایسا نہ ہو جائے،کہیں ویسا نہ ہو جائے
کہیں ایسا نہ ہو جائے،کہیں ویسا نہ ہو جائے

  

اپنی چالیس سالہ صحافتی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ حالات حاضرہ پر بات کرنے سے پہلے بے ساختہ منہ سے ”خاکم بدہن“ نکل رہا ہے۔ وطن عزیز کی موجودہ صورت حال کو نرم سے نرم الفاظ میں ”خوفناک“ ہی کہا جا سکتا ہے، جس کا نتیجہ المناک ہی ہو سکتا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس اس کے بعد گوجرانوالہ کے پُر ہجوم عوامی جلسے سے سیاسی منظر نامے پر جو کیفیت پیدا ہوئی تھی، وہ یقیناً تشویشناک تھی، مگر اس پر مقتدرہ نے لاتعلقی کا رویہ اختیار کیا، اس سے تباہی کی جانب سفر بگٹٹ ہو گیا۔ پھر کراچی کے بڑے جلسہ عام کے موقعہ پر جو کچھ ہوا اس نے ہماری  دانش و اہلیت پر ایسے سوالات اٹھا دیئے جو قومی سلامتی کے حوالے سے خطرناک تھے۔ یہ موقعہ تھا جب کچھ ایسا کر دیا جانا چاہئے تھا کہ آگ پھیلنے سے رک جاتی، خطرات بڑھنے کی رفتار کو بریکیں لگ جاتیں، مگر دانستہ یا نا دانستہ وہ ہو گیا جو نہ ہوتا تو بہتر تھا۔ مزار قائد پر جو ہوا وہ 1971ء میں بنائے گئے احترام مزار کے قانون کی خلاف ورزی تھا تو اس کی مدعی مزار کمیٹی ہوتی، اس کے سربراہ ہوتے، وہ آگے بڑھتے، عینی شہادت کی روشنی میں قانونی کارروائی کی راہ اختیار کی جاتی، معاملہ مزار کمیٹی اور خطا کاروں کے مابین ہوتا یا زیادہ سے زیادہ مقامی پولیس اور صوبائی حکومت فریق ہوتے مگر بعض اہل اختیار کی برق رفتار چابک دستی نے سارا معاملہ اس طرح الجھا دیا کہ نظام کے لئے ہی خطرات کی گھنٹی بجنے لگی۔ اگر کوئی ادارہ یا افراد کسی کو سزا دینا ہی چاہتے تھے تو دھیرج سے اس طرح پیشقدمی کرتے کہ،سانپ مرتا نہ مرتا ان کی لاٹھی تو سلامت رہتی۔ صوبائی حکمران جماعت جلسے کی میزبان تھی اور خطا کار اس کے مہمان تھے۔ صوبائی حکمران جماعت کا وفاقی حکمران جماعت کے ساتھ ”اِٹ کھڑکا“ ہے اور وفاقی حکمران مقتدرہ کے ساتھ ایک صفحے پر ہونے کے دعویدار ہیں۔ اس اقتداری مثلث کا ہر ضلع خود کو اصلی تے وڈا سمجھتا ہے۔ مہمان کی گرفتاری جس انداز میں ہوئی، وہ میزبان کے لئے شرمساری کا باعث تھی، چنانچہ انہوں نے واقعاتی تفصیلات جس انداز میں بیان کیں، اس سے ملکی دفاع کے عزت مآب ادارے پر بالواسطہ الزام آ رہا تھا۔

 صوبائی حکمران پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے  تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے بھی فوری طور پر فون کر کے انصاف کی یقین دہانی کرائی اور تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے  رپورٹ طلب کرلی۔ میزبان صوبائی حکومت نے بھی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا کر دس دن میں رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ ایوان بالا سینٹ نے بھی تحقیقاتی ٹیم بنا دی ہے۔ اب تین ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔ رپورٹیں پتہ نہیں کب آتی ہیں، لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں لگتا یہی ہے کہ وہی رپورٹ معتبر ہو گی جو چیف صاحب کی کمیٹی جمع کرائے گی۔ صوبائی حکومت کا الزام یہ ہے کہ پولیس پر دباؤ ہی نہیں ڈالا گیا، بلکہ رات گئے پولیس کے صوبائی سربراہ اور ان کے نائب کو اغوا کرکے حبس بیجا میں رکھا گیا۔ایف آئی آر درج کرائی  تو عجلت میں ایسے شخص کو مدعی بنایا جس کا نہ صرف مزار کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ وہ موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔ وہ حکمران جماعت کے ایک ایم پی اے کا بھانجا اور قانونی مفرور بتایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ  بار بار بلانے کے باوجود دستیاب نہیں ہو سکا۔ یہ معاملہ اس لئے  زیادہ خطرناک ہو گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار پولیس افسران نے احتجاجاً کام کرنے سے انکار کیا اور کام سے رخصت طلب کر لی۔  یہ رویہ ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ہے جو مزید عاقبت نااندیشی سے انارکی میں بدل کر خوفناک قومی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔اتوار کو  پی ڈی ایم کا تیسرا جلسہ کوئٹہ میں ہوا، یہ بھی حاضری کے اعتبار سے بڑا جلسہ تھا۔

اس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پھر خطاب کیا اور سوالات اٹھا دیئے۔ گزشتہ خطاب میں انہوں نے اپنے مقدمے کے دوران جسٹس شوکت صدیقی کے گھر ایک جنرل کی آمد اور دباؤ ڈالنے کی بات کی تھی، مگر نام نہیں لیا تھا۔ انہوں نے فیض آباد دھرنے کے حوالے سے جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے کا حوالہ دیا اور اس میں بھی نام لیا۔

 کوئٹہ کے جلسے میں جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا اویس نورانی کی تقریر بھی تھی۔ انہوں نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ بلوچستان کو آزاد ریاست ہونا چاہئے۔ اس پر بڑی لے دے ہوئی، تاہم بعد میں ایک چینل پر انہوں نے تردید کی اور کہا کہ یہ ایک طنزیہ جملے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر بیان کیا جا رہا ہے، وہ کسی قیمت پر بلوچستان کی علیحدگی کی بات نہیں کر سکتے۔ اسی جلسے میں قوم پرست رہنما محمود اچکزئی کی تقریر بھی پاکستان کی قومی پالیسی اور سلامتی کے برعکس قرار دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر لگنے والی باڑ ہمیں قبول نہیں۔ دونوں طرف ایک ہی قوم کے رشتہ دار ہیں۔  اگر باڑ نہ ہٹائی گئی تو ہم اکھاڑ کر پھینک دیں گے۔ اس طرح اس کامیاب جلسے کا تاثر ملک دشمن نظریات کے پرچار کا پیدا ہوا ہے۔ لگتا ہے کہ شیخ رشید کو اندازہ تھا کہ کس قسم کی تقاریر ہوں گی۔ ان کا ردعمل کیا ہوگا؟ اس لئے غالباً انہوں نے پیشگوئی کر ڈالی کہ جنوری میں جھاڑو پھر جائے گا۔ اس سے عام مفہوم یہ لیا جا رہا ہے کہ نظام لپیٹ دیا جائے گا یا کم از کم اپوزیشن اتحاد کے تمام رہنماؤں کو منظر سے ہٹا دیا جائے گا۔ جلسوں، جلوسوں، مظاہروں اور تقریروں پر مکمل پابندی لگا دی جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ملکی سلامتی کے تابوت میں ایک اور کیل بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -