خبر لیجئے دہن بگڑا

خبر لیجئے دہن بگڑا
خبر لیجئے دہن بگڑا

  

”ہم بلوچستان کو ایک آزاد ریاست دیکھنا چاہتے ہیں“ ……بھلا یہ بھی کوئی ایسی بات ہے جو زبان پھسلنے پر ادا ہو جائے، کیا زبان بلا وجہ پھسل جاتی ہے، جب تک اسے دماغ کی سپورٹ نہ ملے، وہ ایک لفظ ادا نہیں کر سکتی، پھر زبان تو کسی لفظ کے غلط استعمال پر پھسلتی ہے۔ ایک پورے مفہوم کو جملے میں ادا کرتے ہوئے زبان کا پھسلنا کیسے ممکن ہے؟ اویس نورانی کو اگر اپنی زبان پر کنٹرول نہیں تو پھر انہیں بھرے جلسوں میں تقریر کرنے کے شوق سے باز آ جانا چاہئے۔ انہوں نے کوئٹہ کے جلسے میں ایک ایسی بات کہہ دی ہے جو شاید ہمارے دشمن بھی اتنے کھلے طور پر نہیں کہتے۔ اب وہ ٹی وی چینلوں پر وضاحتیں دے رہے ہیں کہ ان کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا، زبان پھسل گئی تھی…… کیا سیانوں نے کہا نہیں کہ  ”پہلے تولو پھر بولو“…… یہ کیا حماقت ہے کہ پہلے کہہ دو پھر سوچو اور معذرتیں کرو۔ بلوچستان کے لئے ریاست کا لفظ استعمال ہی کیسے کیا جا سکتا ہے؟ وہ تو پاکستان کا ایک صوبہ ہے۔ کیا اویس نورانی اتنے ہی کم فہم ہیں کہ انہیں صوبے اور ریاست میں فرق کا بھی ادراک نہیں؟ ایسے کم علم والوں کو اگر ہم رہنمائی کے درجے پر فائز کرتے رہیں گے تو وہ ایسے ہی گل کھلاتے رہیں گے۔

اویس نورانی نے اپنی حماقت پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنے عظیم والد علامہ شاہ احمد نورانی کی آئین سازی کے سلسلے میں خدمات کا تذکرہ کیا ہے اور یہ دلیل گھڑی ہے کہ بھلا ایک ایسی جماعت، جس نے ملک کا آئین بنایا ہو، ملک توڑنے کی بات کیسے کر سکتی ہے؟ لوگ چونکے بھی تو اسی وجہ سے ہیں کہ اویس نورانی یہ بات کیسے کہہ گئے؟ یہ تو ملک دشمنوں کا بیانیہ ہے، جو بلوچستان کو پاکستان سے جدا کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے بیرون ملک بھی اپنے ڈانڈے پھیلا رکھے ہیں اور وہاں بھی فری بلوچستان کی شرپسندانہ سرگرمیاں شروع کی ہوئی ہیں۔ سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ پی ڈی ایم تو ملک میں بقول شخصے جمہوریت کی بحالی کے لئے تحریک چلا رہی ہے، کٹھ پتلی وزیر اعظم کے خلاف جلسے کر رہی ہے، احتساب کے نام پر انتقام پر سراپا احتجاج ہے، پھر یہ بلوچستان کی آزاد ریاست کا ذکر کہاں سے آ گیا؟ یہ کون سی ذہنیت ہے جو اس طرح اندر ہی اندر پروان چڑھائی جا رہی ہے اور جس میں وہ لوگ بھی بہتے چلے جا رہے ہیں، جن کے آباؤ اجداد پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کے علمبردار تھے۔ اویس احمد نورانی کی اس بات سے،پھر اس اعتراف سے کہ ان کی زبان پھسل گئی تھی، کیا یہ ضروری نہیں ہو جاتا کہ وہ ابھی خود کو تربیت کے مرحلے سے گزاریں، بڑے اجتماعات کو دیکھ کر اس قدر جذبات میں نہ آ جائیں کہ ان کی زبان ہی قابو میں نہ رہے۔

جہاں تک زبان پھسلنے کی بات ہے تو وہ حکومت کے حق میں بھی پھسل سکتی تھی، اویس احمد نورانی غلطی سے یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ حکومت نے بلوچستان میں بہت ترقیاتی کام کرائے ہیں، علیحدگی پسندوں کو کچلا ہے، دہشت گردوں کا قلع قمع کیا ہے عمران خان بڑی اچھی حکومت چلا رہے، ہیں، مگر ایسا تو انہوں نے کچھ بھی نہیں کہا اور بلوچستان کو آزاد ریاست بنانے کی بات کر گئے۔ سوال یہ ہے کہ ان کی زبان اسی نکتے پر آ کر کیوں پھسلی، کیا وہ بھی لاشعوری طور پر اس منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہو گئے ہیں جو ملک دشمن بلوچستان کے حوالے سے جاری رکھے ہوئے ہیں، کیا انہیں کسی نے استعمال کیا، آخر کس وجہ سے وہ اپنی زبان کو پھسلنے سے  نہ روک سکے؟ بدقسمتی سے اس وقت جو فضا بنی ہوئی ہے اس میں سیاسی حدود کا تعین مشکل ہو گیا ہے۔ قومی مفاد کہاں سے شروع ہوتا ہے، اس کا بھی دھیان نہیں رکھا جا رہا۔ حکومت مخالف بیانیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا تڑکا لگا کر قومی سلامتی اور قومی اداروں کو بے دریغ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ بہت تشویشناک ہے، لیکن کسی کو اس کی پرواہ نہیں۔ خود حکومت کے وزراء بھی ہوش اور دلیل سے کام لینے کی بجائے ٹھٹھہ مخول کے انداز میں معاملات کو چلا رہے ہیں جس کی وجہ سے پوری سیاسی فضا نہ صرف مکدر ہو چکی ہے، بلکہ قومی سلامتی کی حدود بھی متاثر ہونے لگی ہیں۔

چلیں اویس احمد نورانی کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ ان کی زبان پھسل گئی تھی اور وہ یہ انتہائی متنازعہ بات کہہ گئے تھے، مگر ملک کی نمائندہ جماعتوں کے جلسے میں ایک بڑی جماعت کے سربراہ کی زبان سے آزاد بلوچستان کی اصطلاح کا سامنے آنا اور آواز،لفظوں کی صورت میں ریکارڈ ہو جانا کیا کوئی معمولی واقعہ ہے، کیا اسی جلسے میں قومی رہنماؤں کو اپنی تقاریر میں اس کی مذمت نہیں کرنی چاہئے تھی، اسے پی ڈی ایم کے بیانیہ سے متصادم قرار نہیں دینا چاہئے تھا؟ بعد میں آنے والے بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن نے اس پر اویس احمد نورانی کی کوئی گرفت نہیں کی۔ گویا ان کے نزدیک یہ کوئی ایسی انہونی یا نازیبا بات ہی نہیں تھی کہ جس کا نوٹس لیا جاتا۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے سیاسی رہنماؤں کی زبانیں قومی سلامتی کے حوالے سے اتنی تیزی کے ساتھ نہیں پھسلتیں، جتنی ہمارے رہنماؤں کی آئے دن پھسلتی رہتی ہیں۔ کیا وطن کی مٹی سے ان کا تعلق اتنا ہی کمزور ہے کہ اس کی سلامتی کا خیال بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -