سموگ اور اس کا علاج

سموگ اور اس کا علاج
سموگ اور اس کا علاج

  

کئی برسوں سے پاکستان اور ہندوستان کے سرحدی علاقے کے ایک حصے پر سموگ طاری ہے۔ کل میرا نواسہ اخبار کی ایک خبر لے کر آیا اور پوچھا کہ یہ سموگ کیا چیز ہے؟ میں نے بتایا کہ سموگ (دھواں) اور فوگ (دھند) کو ملا کر ایک مخفف بنا دیا گیا ہے، جسے سموگ کہا جانے لگا ہے۔ یوں سمجھو کہ یہ دھواں بھی ہے اور دھند بھی۔ 

اس کا اگلا سوال پریشان کن تھا۔ کہنے لگا صبح جب سکول جاتے ہیں تو خاصی پرابلم ہوتی ہے۔ ماما کہتی ہیں کہ ہم جب سکول جاتے تھے تو فوگ تو ہوتی تھی لیکن دوپہر کے آتے آتے آسمان کلیئر ہو جاتا تھا اور سڑکیں اور فضائیں صاف ہو جاتی تھیں۔ لیکن اب نہ صرف گاڑی ڈرائیو کرنے میں مشکل ہوتی ہے بلکہ دوپہر تک بھی مطلع صاف نہیں ہوتا۔ اوپر سے کورونا کا عذاب الگ ہے۔ ماسک تو سب نے پہنے ہوئے ہیں لیکن میرے زمانے میں کوئی ماسک واسک نہیں ہوتے تھے۔ سکول جاتے ہوئے گاڑی کی رفتار کم ہوتی تھی لیکن آتے وقت فراٹے بھرتے آتے تھے۔ میں نے ماما سے پوچھا فراٹے کیا ہوتے ہیں؟ کہنے لگیں اوور سپیڈنگ کو اردو میں فراٹے کہتے ہیں۔

میرے نواسے، نواسی کی عادت ہے کہ وہ سکول سے واپسی پر بیگ ’ٹھکانے‘ لگانے کے بعد جب تک دن بھر کی سچوایشن رپورٹ فائل نہیں کر لیتے، کھانے کی میز پر نہیں جاتے۔ جس اخبار کا حوالہ وہ دے رہا تھا وہ ایک دن پہلے کی تھی۔ اس کے بابا نے آرڈرز دیئے ہوئے ہیں کہ انگریزی اخباروں کی سرخیاں روزانہ دیکھنی اور پڑھنی ہیں اور جس بات کی سمجھ نہ آئے نانا ابو سے پوچھ لیا کرو۔ چنانچہ وہ ”دی نیویارک ٹائمز“ کا صفحہ میرے پاس لایا تھا جس میں باتصویر خبریں ہوتی ہیں، کوئی خبر ”بے تصویر“ نہیں ہوتی۔

یہ دہلی کی خبر تھی اس کے ساتھ جو تصویر لگی تھی وہ ”اینٹی سموگ گن“ کی تھی۔ یہ گن ایک گاڑی پر نصب تھی اور اس کی بڑی سی نالی سے پانی کے فوارے چھوٹ رہے تھے۔ چھینٹوں سے سارا ماحول دھندلایاہوا تھا اور تصویر کے نیچے جو کیپشن لگا ہوا تھا، اس میں درج تھا کہ اس گن کے ذریعے ہوا میں پانی کے قطرات پھینک کر گرد آلود فضا کی آلودگی صاف کی جا رہی ہے…… میں نے بچوں کو بتایا کہ اللہ کریم جب آسمان سے بارش برساتا ہے تو اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ماحول کا گرد و غبار دھل جاتا ہے…… مجھے اپنے طالب علمی کے زمانے کی وہ نظم یاد آ گئی جو حضرت حفیظ جالندھری کی تھی اور پہلا شعر تھا:

آج بادل خوب برسا اور برس کر کھل گیا 

گلستاں کی ڈالی ڈالی پتہ پتہ دُھل گیا

دی نیویارک ٹائمز کی اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ نئی دہلی میں فضائی آلودگی کا موسم شروع ہو گیا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ کورونا کا بھی زور ہے اور ڈاکٹر کہتے ہیں کہ جب سانس کی تکلیف شروع ہو جائے تو سمجھو کورونا کی آخری سٹیج آ گئی ہے۔ بدقسمتی سے یہ سموگ سانس کی اس تکلیف کو دوبالا بلکہ سہ بالا اور چہار بالا کر دیتی ہے، لوگ تیزی سے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں اور بہت کم ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں جو شمشان یا قبرستان جانے سے بچ جاتے ہیں۔

میں اس ”سموگی خبر“ کا مطالعہ کرتا گیا اور ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کی ”ترقی“ کے فال آؤٹ پر بھی غور کرتا گیا۔ لکھا تھا کہ اگر دو نشانہ باز آپ کے نازک پھیپھڑوں پر گولیاں برسانے لگیں تو ظاہر ہے سانس کی تکلیف کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ انڈیا کو دوگونہ عذاب کا سامنا ہے۔ ایک یہ کہ سموگ کا حملہ ہے اور دوسرے کورونا کی مصیبت ہے۔ لکھا تھا کہ آج انڈیا میں 77لاکھ کورونا متاثرین ہیں جبکہ امریکہ پہلے نمبر پر ہے جس میں 84لاکھ متاثرین ہیں۔ انڈیا میں اس سموگ نے اس تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے اور ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ انڈیا بہت جلد امریکہ سے ’سبقت‘ لے جائے گا۔

میں خبر پڑھتے پڑھتے سنجیدہ ہو گیا تو بچے سہم گئے۔ آگے چل کر لکھا تھا کہ انڈیا نے گزشتہ 20برسوں میں تیزی سے اقتصادی ترقی کی منزلیں طے کی ہیں اور ’بڑا مال‘ بنایا ہے۔ لیکن اس سے دو طرح کے نقصانات ہوئے ہیں …… ایک یہ کہ لوگ دیہاتوں اور قصبوں سے اٹھ کر شہروں میں آ بسے ہیں اور دوسرے آبادیاں گنجان ہو گئی ہیں جس سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دہلی کی آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

مجھے اپنا کراچی یاد آ گیا۔ اس کا حال بھی یہی ہے۔ وہاں دہلی میں شہری آبادیاں بڑھی ہیں اور کارخانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو یہاں کراچی میں بھی کوڑے کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر لگے ہیں، بے ہنگم ٹرانسپورٹ ہے اور فیکٹریوں اور کارخانوں کے دھوئیں نے سموگ کا سماں پیدا کر دیا ہے جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ اور ملتان میں بھی یہی عالم ہے۔ لاہور بالخصوص سموگ کی زد میں ہے۔ واہگہ کے دونوں اطراف میں اس موسم میں کھیتوں میں تازہ فصلوں کی کاشت کے لئے پرانی فصلوں کی باقیات جلائی جاتی ہیں۔ چھڑیاں، بھوسہ، دھان کی دُھکی (چھلکا)، بُورا اور فصلوں کی جڑیں اور پرالی وغیرہ جب جلائی جاتی ہے تو ہوا دھوئیں کو اڑا کر کبھی واہگہ کے پار لے جاتی ہے اور کبھی بھارتی پنجاب کا دہقانی دھواں ہمارے ہاں آکر فضائی آلودگی کو ’چارچاند‘ لگا دیتا ہے۔

آج دنیا میں جن 20شہروں میں فضائی آلودگی کا تناسب سب سے زیادہ ہے ان میں 10شہر بھارت میں ہیں اور چار پاکستان میں ہیں …… دوسرے لفظوں میں برصغیر کے اس حصے میں کہ جہاں لاہور، گوجرانوالہ،چندی گڑھی، فیروزپور، امرتسر، گڑگانواں اور دہلی واقع ہے۔ 70 فیصد شہر ایسے ہیں جو اواخر اکتوبر سے لے کر اواخر جنوری تک فضائی آلودگی کی زد میں رہتے ہیں۔

ہمارے اخبار ”ڈان“ (24اکتوبر، صفحہ 10) میں AFP کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کی سرخی ہے، ”کھیتوں میں لگی آگ نے سموگ کی شدت میں اضافہ کرکے دہلی کا گلا گھونٹ (Choke) دیا ہے“…… اس رپورٹ میں بھی فضائی آلودگی کی وہی وجوہات گنوائی گئی ہیں جو درجِ بالا سطور میں لکھی گئیں۔ البتہ دو مزید وجوہات کا ذکر بھی ہے…… ایک یہ کہ شہر کا درجہ حرارت گر گیا ہے۔ سردیوں کی آمد آمد ہے اس لئے عمل تکثیر کے باعث دھوئیں کے ذرات جم جاتے ہیں اور فضا دھندلی ہو جاتی ہے اور …… دوسرے ہواؤں کے چلنے کی رفتار اس موسم میں سست ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دھوئیں کے منجمد ذرات جس جگہ ہوں وہیں رک جاتے ہیں۔ دہلی اور لاہور میں فضائی آلودگی کے جو بادل نظر آتے ہیں، وہ انہی دو وجوہات کی بناء پر ہیں۔AFP (ایجنسی فرانس پریس) کی اسی خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کا انڈکس دہلی میں 282سے لے کر 446تک جا پہنچا ہے۔ لیکن ہمارے روزنامہ ”پاکستان“ (24اکتوبر صفحہ اول) میں جو سرخی لگائی گئی ہے وہ اس طرح ہے: ”لاہور سمیت، ملک کے بیشتر علاقے سموگ کی لپیٹ میں آگئے…… سانس، ناک اور آنکھوں کے امراض میں اضافہ“ اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے سندر انڈسٹریل ایریا میں فضائی آلودگی کا اشاریہ 466تک جا پہنچا ہے، گڑھی شاہو میں 204 اور ائرپورٹ پر 215ریکارڈ کیا گیا ہے“……اس کا مطلب یہ ہے کہ لاہور کی فضاؤں کی اوسط آلودگی 295 ہے (466 + 204 +  215 = 885  ٪3 =  295)…… کسی بھی شہر میں اگر فضائی آلودگی 300 تک چلی جائے تو شہریوں کی صحت کا جو حال ہو گا، اس کا اندازہ مشکل نہیں۔

اب آخر میں سوال یہ ہے کہ اس آلودگی کا علاج کیا ہے…… میرے خیال میں اس کا علاج یہ ہے کہ آدھا علاج تو ہمارے بس میں ہے اور آدھا بس میں نہیں …… جو کچھ ہمارے بس میں ہے وہ یہ ہے کہ ……(1) کوڑے دانوں کو آگ نہ لگائیں …… (2) اینٹوں کے بھٹوں اور کارخانوں / فیکٹریوں میں ایسا ایندھن استعمال نہ کریں جو سیاہ دھوئیں کا باعث ہو ……(3) گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے سائلنسر(Silencers) چیک کروائیں اور دھوئیں کے اس اخراج کو روکیں جس کو روکا جا سکتا ہے۔ واہگہ، گنڈا سنگھ والا اور اٹاری وغیرہ کے کسانوں میں یہ شعور پیدا کریں کہ وہ کھیتوں کی باقیات کو ایک الگ کھیت میں جمع کرکے رکھ دیں۔ جب سردیوں کا موسم گزر جائے تو ان کو جلا دیں۔ اس وقت سموگ پیدا نہیں ہوگی…… (4)حکومت کو چاہیے کہ وہ بارڈر ایریاز کے کسانوں کو اس غیراستعمال شدہ کھیت کی پیداوار کے مطابق اس قدر نقد معاوضہ ادا کرے جس قدر اس کی پیداوار کی فروخت سے حاصل ہوگا…… حکومت کو ویسے بھی تو اپنے ہسپتالوں میں سانس، گلے، آنکھ اور ناک کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے اس موسم میں اضافی بجٹ دینا پڑتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -