بچے کی پیدائش پر والد کو بھی ایک ماہ کی چھٹیاں،والدہ کو کتنی چھٹیاں ہوں گی؟ سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری آگئی

بچے کی پیدائش پر والد کو بھی ایک ماہ کی چھٹیاں،والدہ کو کتنی چھٹیاں ہوں گی؟ ...
بچے کی پیدائش پر والد کو بھی ایک ماہ کی چھٹیاں،والدہ کو کتنی چھٹیاں ہوں گی؟ سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری آگئی

  

 اسلام آ باد (آئی این پی ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بچے کی پیدائش پر باپ کو چھٹی سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور کر لیا،والدہ کے ساتھ بچے کی پیدائش پر والد ایک ماہ کی چھٹی کا حقدار ہے،بل کے مطابق پہلے بچے کی پیدائش پر والدہ کو 6 ماہ اور والد کو ایک ماہ کی چھٹی ملے گی، دوسرے بچے کی پیدائش پر والدہ کو 4 ماہ اور والد کو ایک ماہ کی چھٹی ہو گی تیسرے بچے کی پیدائش پر والدہ کو 3 ماہ اور والد کو ایک ماہ کی چھٹی ہو گی، والد کو تین بچوں کی پیدائش تک ہی چھٹی مل سکے گی اور اس کا اطلاق صرف اسلام آباد تک ہو گا،قانون کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں پر ہو گا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کا اجلاس چیئرمین ریاض فتیانہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس منعقد ہوا۔ کمیٹی اجلاس میں الیکٹرک پاور ترمیمی بل 2019 پر بحثکرتے ہوئے رکن کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت صوبوں کے بجائے وفاق سے نامزدگیاں چاہتی ہے ریگولیٹری اتھارٹی میں وفاق سے نامزدگی آئین کے منافی ہے اس بات کے بعد بلی تو تھیلی سے باہر آ گئی ہے کیا اس بل سے صوبوں کے اختیارات کو بلڈوز کرنا مقصود ہے۔بل کی محرک منزہ حسننے کہاکہ اس بل کو سینیٹ نے پاس کر دیاہے صوبے اپنا نمائندہ نامزد کریں گے تو وفاق نمائندہ مقرر کریگا میرا بھی ایک بڑے صوبے سے تعلق ہے نمائندے صوبوں سے ہی آ ئیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ انرجی سیکٹرکو ریگولیٹر اتھارٹی میں قابل لوگوں کو آنا چاہیے رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے کہاکہ شبلی فراز صاحب نے کہا صوبے قابل لوگ بھیجیں کیا صوبے قابل لوگ بھیجنے کی اہلیت نہیں رکھتےوزارت قانون حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بل کے مطابق صوبوں کے نمائندے متعلقہ صوبہ اور وفاق دونوں کر سکتے ہیں جس پر نوید قمر نے کہ اکہ یہی تو ہماری تشویش ہے نمائندہ کا نوٹیفیکیشن تو وفاق کریگا اس بل کے مطابق تو صوبہ کا اختیار واپس لیا جا رہا ہے۔بل محرک منزہ حسن نے کہاکہ بل کے مطابق نمائندہ مقرر کرنے کا اختیار صوبہ کا ہے وفاق کا اختیار دوسرے نمبر پر ہے۔ریگولیشن آف جنریشن ٹرانسمیشن آف الیکٹرک پاور بل پر کثرت رائے سے منظور کرلیا ۔بل پاس ہونے پر نوید قمر، محسن شاہ نواز رانجھا اور نفیسہ شاہ نے شدید احتجاج کیا جبکہ نوید قمر نے کہاکہ ہماری رائے کو بلڈوز کرکے بل پاس کیا گیا غیر آئینی بل منظور کرایا گیا غیر منتخب رکن اسمبلی کے بل پر ہماری رائے کو بلڈوز کیا گیا بطور احتجاج کمیٹی اجلاس سے جا رہاہوں ۔نفیسہ شاہ نے کہاکہ ملک کو بنانا ری پبلک بنایا جا رہاہے رکن محسن نواز رانجھا نے کہاکہ میں کسی غیر آئینی قانون سازی کا حصہ نہیں بن سکتا۔پاور الیکڑک بل 2019 رکن قومی اسمبلی منزہ حسن نے پیش کیا تھا۔

اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے سکولوں میں پیرامیڈیکل سٹاف کی سہولت سے متعلق بل پیش کرتے ہوئے کہااس بل کے مطابق تمام نجی اور سرکاری سکولوں میں پیرامیڈیکل سٹاف کی سہولت لازمی ہوگی قانون پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے لیے 1 لاکھ جرمانہ تجویز کیا ہے قانون پر عملدرآمد نہ کرنے والے سکول کے زمہ داران کو 6 ماہ کی سزا تجویز کی ہے میری کمیٹی سے گزارش ہے اس بل کو منظور کیا جائے ہمارے بچے سکولوں میں کئی طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں بچوں کو سکولوں میں فرسٹ ایڈ کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی ، محمود بشیر ورک نے کہا کہ شازیہ مری نے بہت اچھا بل پیش کیا یہ بل صرف وفاق تک محدود ہے اس بل کو پورے ملک میں لاگو ہونا چاہیےرکن کمیٹی عالیہ کامران ، ثنااللہ مستی خیل ، محسن رانجھا نے بھی بل کو سپورٹ کیا سکولوں میں پیرامیڈکل سٹاف کی سہولت سے متعلق بل کثرت رائے سے منظورکر لیا ۔

رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے بچے کی پیدائش پر ماں کے ساتھ ساتھ باپکی چھٹی کا بل کمیٹی میں پیش کرتئے ہوئے اس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ والدہ کے ساتھ بچے کی پیدائش پر والد ایک ماہ کی چھٹی کا حقدار ہے بل کے مطابق پہلے بچے کی پیدائش پر والدہ کو 6 ماہ جبکہ والد کو ایک ماہ کی چھٹی ملے گی دوسرے بچے کی پیدائش پر والدہ کو 4 ماہ اور والد کو ایک ماہ کی چھٹی ہوگی جبکہ تیسرے بچے کی پیدائش پر والدہ کو تین ماہ اور والد کو ایک ماہ کی چھٹی ہوگی والد کو تین بچوں کی پیدائش تک ہی چھٹی مل سکے گی قانون کا اطلاق صرف اسلام آباد تک ہوگا قانون کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں پر ہوگارکن کمیٹی کشور زہرا نے کہا کہ بل کو اگر دو بچوں تک محدود کر دیا جائے تو حمایت کروں گی ملک کی آباد ی ویسے ہی بہت زیادہ ہے تیسرے بچے پر سزا ہونی چاہیے ۔ محمود بشیر ورک نے کہاکہ بل سے پورا ملک مذاق بن جائے گا بل کی مخالفت کروں گا رکن کمیٹی محسن شاہنواز رانجھا نے کہاکہ بل سے مردوں کو فائدہ ہو رہا ہے حمایت کرتاہوں۔

رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہاکہ اس بل سے سرکاری ملازمین کو فائدہ ہو گا عام آدمی کو نہیں جس بندے نے چار شادیاں کی ہوں وہ تو سارا سال بچے ہی پیدا کرئے گا بل کی مخالفت کروں گی جس پر شازیہ مری نے کہا اگر اس بنیاد پر بل کی مخالفتکی گئئی تو بل اسلامی نظریاتی کو نسل بھجوانا ہو گا جس پر چئیرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے ووٹنگ کرائی جس پر بھاری اکثریت سے بل منظور کر لیا گیا کمیٹی اجلاس میں سانحہ پشاور کی مذمت اور شہدا کےلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -