دوست سے بس کا کرایہ لے کر ٹرائل دینے جانے والے حارث رؤف 4 وکٹیں اڑا کر ہیرو بن گئے ، زندگی کی انتہائی دلچسپ کہانی سامنے آگئی

دوست سے بس کا کرایہ لے کر ٹرائل دینے جانے والے حارث رؤف 4 وکٹیں اڑا کر ہیرو بن ...
دوست سے بس کا کرایہ لے کر ٹرائل دینے جانے والے حارث رؤف 4 وکٹیں اڑا کر ہیرو بن گئے ، زندگی کی انتہائی دلچسپ کہانی سامنے آگئی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ کےدوسرےمیچ میں پاکستان نےنیوزی لینڈکوشکست دے دی ہے,پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 22 رنز کے عوض 4 وکٹیں لیں,ان کی عمدہ باؤلنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا،نجی ٹی وی نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کی تیز ترین گیند کروانے کا اعزاز حاصل کرنے والے ہیرو حارث رؤف کی انتہائی دلچسپ کہانی سامنے لے آیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اینکر نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے ہیرو اور پاکستانی سکواڈ میں شامل فاسٹ باؤلر کی دلچسپ کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ حارث رؤف کا تعلق راولپنڈی سے ہے ،یہ پاکستان میں کلب کرکٹ نہیں کھیلے،یہ ٹیپ بال سے کرکٹ کھیلتے تھے،لاہور قلندرز کے پلیئرز ڈویلپمنٹ پروگرام میں جب راولپنڈی سٹیڈیم میں ٹرائلز ہو رہے تھے تو اس میں یہ حصہ نہیں لے سکے تھے،دوسرا ٹرائل پروگرام گوجرانوالہ میں جاری تھا تاہم ان کے پاس گوجرانوالہ جانے کے لئے بس کا کرایہ نہیں تھا ،حارث رؤف  نے اپنے ایک دوست کو تیار کیا اور کہا کہ تم بھی ساتھ چلو اور پھر یہ دونوں اکٹھے وہاں گئے ،جب حارث رؤف اپنے دوست کے ساتھ  گوجرانوالہ پہنچے تو سٹیڈیم مکمل بھر چکا تھا اوراس کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے تھے،حارث رؤف نے پھر بڑی تگ و دو کے بعد ایک ٹوٹا ہوا  جنگلہ ڈھونڈا جسے پھلانگ کریہ سٹیڈیم کے اندر پہنچے ۔

اینکر کا کہنا تھا کہ حارث رؤف نے خود بتایا کہ جب میں ٹوٹے ہوئے جنگلے کو پھلانگ کر سٹیڈیم کے اندر پہنچا تو اندر والا دروازہ بھی بند تھا ،میں نے بہت کوشش کی دروازہ کھلوانے کی لیکن ناکام رہا ،دروازے پر ایک چوکیدار چاچا تھے جسے میں نے منت ترلہ کیا کہ پلیز دروازہ کھول دے اور ایک دفعہ اندر جانے دے ، چوکیدار کو میری حالت پر ترس آ گیا اور اس نے مجھے کہا کہ چھپ کر دوسری طرف سے اندر آ جاؤ،میں جب اندر پہنچا تو سٹیڈیم میں بریک ہوئی تھی اور لاہور قلندر نے بچوں کو کھانا دیا ہوا تھا ،میں چاول نہیں کھا سکتا تھا کیونکہ چاول کھا کر  پھرمجھ سے باؤلنگ نہیں ہونی تھی،کچھ دیر انتظار کے بعد پھر میں ڈرتے ڈرتے اور چھپ چھپ کرلاہورقلندرکےہیڈ کوچ عاقب جاوید کےپاس پہنچااورمیں نےانہیں کہاکہ میں بہت تیز باؤلنگ کرتا ہوں،عاقب جاوید نےکوئی دوسری بات نہیں کی اور اُنہوں نے مجھےگیند پکڑاتے ہوئے کہا کہ جاؤ باؤلنگ کرو ،جب حارث رؤف نے پہلی بال پھینکی تو اس کی سپیڈ 92کلو میٹر فی گھنٹہ تھی،جس پر عاقب جاوید کافی حیران ہوئے،اُنہوں نےکہا کہ دوبارہ گیند کرواؤ ،جب حارث رؤف نےدوسری گیند کروائی تو وہ 91کلو میٹر فی گھنٹہ تھی ۔اس کے بعد پھر لاہور قلندر نے انہیں اپنے ساتھ رکھا اور آج وہ میچ کے ہیرو ہیں۔

مزید :

T20 World cup -T20 World cup News Updates -