کہیں ہم کھارا کھوتو نہ بن جائیں    

 کہیں ہم کھارا کھوتو نہ بن جائیں    
 کہیں ہم کھارا کھوتو نہ بن جائیں    

  

کھارا کھوتو منگولیا کے صحرائے گوبھی میں موجود ایک پر اسرار شہر ہے اس شہر کی مٹی دنیا کے سب سے بڑے فاتحین  چنگیز خان،ہلا کو خان برکہ خان،قبلائی خان اور تیمور لنگ جیسے فاتحین کو جنم دے چکی ہے کبھی یہ شہر ایک پررونق سرزمین ہوا کرتا تھا  یہاں  ہر طرف زندگی رواں دواں تھی شہر کے باسی بہت تہذیب یافتہ اور دولت مند لوگ تھے اس شہر کے ساتھ ایک دریا بھی ہوا کرتا تھا زمین زرخیز تھی لوگ کاشتکاری کرتے تھے یہاں کے لوگ ہنر مند تھے اس شہر کے اطراف میں خوبصورت پہاڑ جھیلیں جھرنے  ہوا کرتے تھے یہ لوگ بھی کبھی محبت کے گیت گایا کرتے تھے اپنی رسومات بڑے دھوم دھام سے منایا کرتے تھے ہر طرف زندگی کے خوبصورت آثار نظر آتے تھے۔

پھر آخر کیا ہوا کہ یہ ہنستا بستا شہر اجڑ گیا آج اس شہر میں ہر طرف بربادی اور سناٹے کا راج ہے منگولیا کے باسی  اس شہر میں نہیں جاتے منگولیا کے لوگ اس شہر سے متعلق بہت سی کہانیاں سناتے ہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر کی مٹی سے عجیب قسم کی بد بو آتی ہے کچھ اسے آسیب زدہ قرار دیتے ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ اس شہر سے بچوں کی چیخ و پکار سسکیوں اور آہوں کی آوازیں آتی ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہاں پر بہت سی کٹی پھٹی لاشیں دیکھی ہیں۔

ڈیرے دار کی ریسرچ میں جو چیزیں سامنے آئی وہ کچھ یوں ہیں کہ اس شہر کو دس سو بتیس عیسوی  میں بسایا گیا تھا اس شہر کوچینیوں نے آباد کیا تھا اس شہر کے ساتھ دریائے ایجنگ چلتا تھا یہ دنیا کے قدیم ترین تجارتی راستہ شاہراہ ریشم پر واقع تھا  ایک تجارتی راہ گزر کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی یہ لوگ تجارت نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے گزر بسر کے لیے تجارتی قافلوں کو سہولتیں مہیا کر کے اپنی روزی روٹی کماتے تھے بارہ سو چوبیس میں چنگیز خان نے اس شہر پر قبضہ کر لیا جس کے بعد یہ شہر دن بدن ترقی کرتا گیا یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ترقی کرتا خوشحال شہر آخر تباہ کیسے ہوگیا کہا جاتا ہے کہ جب چینیوں نے اس شہر کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ٹھان لی اور اس پر حملہ آور ہو گئے تو مدمقابل سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا بادشاہ کی قیادت میں مقامی لوگوں نے انہیں شہر میں داخل ہونے سے روکے رکھااور پسپا ہو کر واپس چلے گئے تو انہوں نے دریا کا رخ موڑ دیا کچھ ہی عرصہ میں یہ شہر گندم کے ایک ایک دانے کے لئے ترس گیا یہاں کے بادشاہ کھارا بتول نے اپنے سارے خاندان کو قتل کرکے خودکشی کرلی اور یوں چینی فوج اس شہر میں داخل ہوگئی اور انہوں نے تمام باسیوں یہاں تک کہ ان کے جانوروں کو بھی ذبح کر دیا تب سے لے کر آج تک اس شہر میں کوئی نہیں گیا یہ تو تھی کھارا کھو تو کی کہانی کہ وہ کیسے برباد ہوا

اب آتے ہیں اپنے آج کے موضوع کی طرف سال 2018ء میں پاکستان ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا۔ ملک تھا کاروبار چل رہے تھے، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا گیا تھا،امن و امان کی صورتحال کو بحال کر دیا گیا تھا،انڈسٹری چلنا شروع ہو گئی تھی بیروزگاری پر بہت حد تک قابو پایا جا چکا تھا بہت سے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے تھے، غریب کا چولہا جلنا شروع ہوگیا تھا ہسپتالوں میں مفت ادویات میسر تھیں، ملکی خزانے میں بہتری آ رہی تھی، قرض کی قسطیں واپس ہو رہی تھیں، پیسے کی ریل پیل ہو چکی تھی، کاروبار کے نئے سے نئے مواقع حاصل ہو رہے تھے،کہ پھر تبدیلی آگئی کہ قوم سے جھوٹ بول کر فراڈ کر کے دھوکا دے کر نااہلوں کو ہمارے اوپر مسلط کر دیا گیا انہوں نے ہر روز قوم سے جھوٹ بولاہر روز ایک نیا دھوکا دیا میرے ملک میں ہر طرف رشوت لاقانونیت مہنگائی حکومت کر رہی ہے غریب کا چولہا ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹھنڈا ہو رہا ہے غربت بھوک افلاس نے گلی گلی میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔

ڈیزل،پٹرول، آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں گوشت، فروٹ ہر چیز عوام کی پہنچ سے اسی طرح دور کر دی گئی ہے جس طرح چینیوں نے دریا کا رخ موڑ کر کھارا کھو تو کے لوگوں سے اناج کا ایک ایک دانا چھین لیا تھا موجودہ حکمران بھی انہی کے پیروکار نظر آتے ہیں جو غریب امیر اور سفید پوش سب کی دھجیاں اڑا رہے ہیں خدانخواستہ اگر تبدیلی سرکار اپنے باقی ماندہ دو سال بھی پورے کر گئی اور اپنی اسی روش پر قائم رہی  تو (خاکم بدہن)کہیں میری عرض پاک کو بھی کھارا کھوتو نہ بنا دیں خدانخواستہ کہیں میرے وطن کو بھی آسیب زدہ قرار نہ دے دیا جائے اے میرے رب کریم میرے ملک پر رحم فرما دے ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے ہمیں ایسے حکمرانوں سے نجات دلادے جو میرے دیس کو کھارا کھوتو بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -