پنجاب میں 60 روز کیلئے رینجرز تعینات، شیخ رشید نے کالعدم تنظیم کو خبردار کردیا

پنجاب میں 60 روز کیلئے رینجرز تعینات، شیخ رشید نے کالعدم تنظیم کو خبردار کردیا
پنجاب میں 60 روز کیلئے رینجرز تعینات، شیخ رشید نے کالعدم تنظیم کو خبردار کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید  نے کہا ہے کہ آرٹیکل 147 کے تحت  رینجرز کو 60 روز کے لیے پورے پنجاب میں تعینات کردیا گیا ہے، ہم ناموس رسالتﷺ اور ختم نبوتﷺ کے بھی سپاہی ہیں لیکن ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے،جو لوگ ان کو آگے کرکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ حکومت کی رٹ چینلج ہوجائے گی اور حکومت کہیں جارہی ہے تو حکومت کہیں نہیں جارہی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ رینجرز کی تعیناتی  کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے،پنجاب حکومت کو سیکشن فائیو اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے تحت 60 دن کے لیے اختیار دیتا ہوں،وفاقی کابینہ سےمنظوری کےلیےسمری بھیج دی ہے،نوٹیفکیشن جاری کر رہا ہوں، حالات کی سنجیدگی اور گہرائی کو دیکھتے ہوئے آرٹیکل 147 کے تحت پنجاب رینجرز کو پنجاب حکومت کی درخواست پر 60 دن کے لیے کراچی کی طرح پورے پنجاب میں نافذالعمل کر رہا ہوں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ برداشت نہیں ہوسکتا کہ مظاہروں کی وجہ سے بیمار ہسپتال اور بچے سکول نہ جاسکیں، کالعدم تنظیم نے اپنی کمٹمنٹ پوری نہیں کی ہے،ان کا وعدہ تھا ہم جاتےساتھ دونوں اطراف راستے کھول دیں گے لیکن انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، ہم اپنے وعدے پر قائم ہیں،میں نے صبح بھی ان سے کہا ملک کے حالات دیکھیں، ہم فرانس کے سفارت خانے کو بند نہیں کرسکتے اور ان کا سفیر یہاں نہیں ہے، ساری دنیا کے سامنے کہہ رہا ہوں ان کا سفیر یہاں نہیں ہے، وہ کہتے ہیں گوگل سے دیکھتے ہیں، مجھے نہیں پتہ گوگل کیسے دیکھتے ہیں؟پاکستان پر بہت بڑےدباؤ ہیں، غیرملکی طاقتیں ہم پر پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہیں، غیرملکی طاقتیں ہماری جوہری اور معیشت پر نظریں جمائی بیٹھی ہے، یہ ان کی چھٹی قسط ہے اور مجبوری کی حالت میں کہہ رہا ہوں کہ یہ اب عسکریت پسند ہوچکے ہیں۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ وزیراعظم نے دو دفعہ بلاکر ہدایت کی ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی( ایف آئی اے ) کو سوشل میڈیا کے حوالے سے ہدایات کی جائیں کہ  جھوٹی خبروں  پر ایکشن لیا جائے،مظاہرین کی جانب سے پولیس پر سیدھافائر کیا گیا، پولیس کے خلاف آٹو میٹک ہتھیار استعمال کیے گیے، شہید تو پولیس کے تین اہلکار ہوئے ہیں، 70 سے80 زخمی ہیں اور براہ راست فائرنگ کی گئی، ان کے پاس لاٹھیاں اور آنسو گیس تھا لیکن ایک بڑے خون خرابے سے بچنے کے لیےرینجرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان مظاہرین کو آگے کرکے حکومت چلی جائے گی تو حکومت کہیں نہیں جارہی، مولانا فضل الرحمان صاحب حکومت کہیں نہیں جارہی،مجھے افسوس ہے میں ہمیشہ مولانا فضل الرحمٰن کا نام احترام سے لیتا ہوں اور لیتا رہوں گا،مولانا فضل الرحمٰن ملک کی سنجیدگی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

شیخ رشید نے خبردار کیا کہ مجھے ڈر ہے کہ جس تنظیم کو ہم کالعدم قرار دیا ہے، ان کے جو لوگ دیکھ رہے ہیں وہ سمجھنے کی کوشش کریں، یہ نہ ہو کہ ان پر بین الاقوامی پابندی لگ جائے اور وہ دہشت گردوں کی عالمی تنظیم میں آجائیں، پھر ان کے لوگوں کے کیسز ہمارے بس میں نہیں ہوں گے، یہ ساری باتیں میں نے ان کے ساتھ کی اور ابھی تک کر رہا ہوں، باوجود اس کے کہ میں نے آج کابینہ میں یہ صورت حال پیش کی ہے تو لوگ سمجھتے ہیں میں بہت زیادہ لچک دکھا رہا ہوں،یہ میری سیاسی سوچ ہے کہ معاملات اور ان کے دروازے بند نہ ہوں لیکن میں مجبور ہوں، جب پولیس کے تین جوانوں کی لاشیں گریں گی،مظاہرین کلاشنکوفوں اور آٹومیٹک رائفلز استعمال کریں گے اور پولیس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں تو وہ لاٹھیوں اور آنسو گیس سے کیسے مقابلہ کرے گی۔

مزید :

قومی -