خاتون کا اسقاطِ حمل، ڈاکٹرز  نے غلطی سے بچے کا کچھ حصہ پیٹ میں ہی چھوڑ دیا، پھر کیا ہوا؟

خاتون کا اسقاطِ حمل، ڈاکٹرز  نے غلطی سے بچے کا کچھ حصہ پیٹ میں ہی چھوڑ دیا، ...
خاتون کا اسقاطِ حمل، ڈاکٹرز  نے غلطی سے بچے کا کچھ حصہ پیٹ میں ہی چھوڑ دیا، پھر کیا ہوا؟
سورس: File/Pixabay

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانیہ میں ایک خاتون کو اپنے بچے کیلئے دہری مصیبت سے گزرنا پڑا۔ پہلے تو اس کو بچہ ضائع ہونے پر  اسقاطِ حمل سے گزرنا پڑا لیکن اس عمل میں ڈاکٹرز مردہ بچے کے جسم کا کچھ حصہ پیٹ کے اندر ہی بھول گئے جس کی وجہ سے خاتون کو کئی روز تک تکلیف برداشت کرنا پڑی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سٹیفورڈ شہر  سے تعلق رکھنے والی 38 سالہ ایریکا ہال چار بچوں کی ماں ہیں۔ اس سال کے شروع میں وہ پانچویں بچے کے ساتھ حاملہ ہوئیں۔  مارچ میں وہ 12 ویں ہفتے کے دوران چیک اپ کیلئے گئیں تو انہیں خون آنا شروع ہوگیا۔ ڈاکٹرز نے الٹرا ساؤنڈ سے تصدیق کی کہ بچے کی پیٹ میں ہی موت ہوگئی ہے۔ اس کے بعد خاتون کا اسقاطِ حمل کرکے اسے واپس بھیج دیا گیا۔

اسقاطِ حمل کے سات ماہ بعد تک خاتون ہلکی تکلیف سے گزرتی رہی لیکن گزشتہ دنوں اسے ناقابلِ برداشت درد ہوا جس پر فوری طور پر اسے ہسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹرز نے چیک اپ کے بعد بتایا کہ مارچ میں اسقاطِ حمل ٹھیک نہیں کیا گیا تھا اور ڈاکٹرز نے غلطی سے مردہ بچے کے جسم کا کچھ حصہ پیٹ کے اندر ہی چھوڑ دیا ہے جس کے باعث خاتون کو اتنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  ڈاکٹرز نے خاتون کا ایک بار پھر اسقاطِ حمل کیا اور بچے کے جسم کا بقیہ حصہ باہر نکالا۔ دوسری سرجری کے بعد خاتون کی حالت اب بہتر ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -