نشتر ہسپتال نعشوں کی بے حرمتی کیس،چیف سیکرٹری پنجاب کو  15 دن میں رپورٹ پیش کرنیکا حکم

 نشتر ہسپتال نعشوں کی بے حرمتی کیس،چیف سیکرٹری پنجاب کو  15 دن میں رپورٹ پیش ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس ساجد محمود سیٹھی نے نشتر ہسپتال ملتان میں نعشوں کی بے حرمتی سے متعلق لاوارث نعشوں کی شناخت کیلئے طریقہ کار طے کرنے کیلئے دائر درخواست پر چیف سیکرٹری پنجاب کو 15 دن میں طریقہ کار کے بارے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیاہے،دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت سے جواب داخل کرانے کے لئے مزید مہلت طلب کی جسے عدالت نے منظور کرلیا،دوران سماعت نادرا کے ڈپٹی ڈائریکٹر عدالت میں پیش ہوئے اور استدعاکی کہ10 دن کا وقت دیا جائے تو ایم او یو سائن ہوجائے گا، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ایسا نہیں ہے، سپیشلائز محکمہ صحت علیحدہ ہوچکا ہے،  درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکررکھاہے کہ لاوارث نعشوں کی شناخت کیلئے کوئی طریقہ کار طے نہیں کیا گیا،اسی وجہ سے لاشوں کی بے حرمتی کے واقعات ہورہے ہیں، نشتر ہسپتال میں مرد، خواتین کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی، ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے غیرقانونی اقدام کیا گیا، ڈاکٹرز ہماری زندگیاں بچاتے ہیں ان پر اعتماد ہے، ایسے اقدام سے شہریوں کے جذبات مجروح ہوئے، وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس تک نہیں لیا، ایک سال قبل بھی جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے وفاقی حکومت کو ہدایت جاری کی تھی کہ لاوارث نعشوں کو بائیو میٹرک کیا جائے، نادرا کی جانب سے 200 روپے کی شرط رکھی گئی، 150 سے زائد ہسپتال شامل ہیں، عدالت سے استدعاہے کہ نادرا کو لاوراث نعشوں کے حوالے سے بائیو میٹرک اور بے حرمتی کو روکنے کا حکم دیاجائے اورمتعلقہ فریقین کو واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کابھی حکم دیاجائے۔
نشتر ہسپتال

مزید :

صفحہ آخر -