جناب عمران خان کا ”لانگ مارچ“

جناب عمران خان کا ”لانگ مارچ“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان  نے کل شام پنجاب کے ایوانِ وزیراعلیٰ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ ان کا لانگ مارچ جمعہ کو لاہور سے شروع ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ نہ کوئی قانون توڑیں گے نہ ریڈ زون میں داخل ہوں گے، دروازے ہمیشہ بیک ڈور چینلز کے لیے کھلے رہتے ہیں مگر اب یقین ہو گیا کہ یہ(موجودہ حکومت والے) الیکشن نہیں کرائیں گے اس لیے لانگ مارچ کا اعلان کر رہا ہوں جو جی ٹی روڈ سے براستہ راولپنڈی،اسلام آباد پہنچے گا۔ اسلام آباد کوئی لڑائی کرنے نہیں جا رہے، ہم نے  ریڈ زون میں بھی نہیں جانا،ان کا یہ بھی کہنا تھا: ”ہمیں کہا گیا، آپ غیر ذمہ دار ہیں،ملک بڑی مشکل میں ہے،اِس مشکل وقت میں احتجاج نہ کیا جائے،ہماری حکومت نے کورونا کا مقابلہ کیا،اس دوران معیشت کو بھی بچایا جبکہ مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو زرداری اِس دوران لانگ مارچ کرتے رہے۔مولانا نے دو مارچ کیے اور بلاول نے ایک۔ اُس وقت پاکستان کی مشکلات کی کسی کو پرواہ نہیں تھی،اب مجھے کہتے ہیں کہ لانگ مارچ نہ کریں ملک مشکل میں ہے“۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ25مئی کو احتجاج ملتوی نہ کرتا تو ملک اگلے دن انتشار کا شکار ہو جاتا،خون خرابے کا خدشہ تھا۔ لانگ مارچ کوئی سیاست نہیں ملک کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں یہ چوروں سے آزادی کی جنگ ہے یہ جہاد فیصلہ کرے گا کہ پاکستان چوروں کی غلامی کرے گا  یا خود مختار بنے گا۔ یہ (موجودہ حکومت) اور ان کے ہینڈلر سمجھتے ہیں کہ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح ان کی غلامی کریں گے۔ یہ حقیقی آزادی مارچ ہے، اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں۔ سابق وزیراعظم نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی سمندر بن جائے گا۔عوام فیصلہ کریں گے کہ ان کی قیادت کس نے کرنی ہے۔ ہم چاہتے ہیں ملک کے لوگ فیصلہ کریں۔
جناب عمران خان نے اسی روز پشاور میں وکلاء کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اینکر پرسن ارشد شریف کی کینیا میں ہلاکت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسے  ”ٹارگٹ کلنگ“ قرار دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ پاکستان میں ان کی زندگی کو خطرہ تھا، اس لیے میں نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بیرون ملک چلے جائیں۔اس خطاب کے چند گھنٹوں بعد ہی انہوں نے لاہور میں لانگ مارچ کا اعلان کر دیا،اس کے لیے ایک ہنگامی پریس کانفرنس بلائی گئی،جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے اچانک کیا،اس عجلت کی وجوہات پر تو انہوں نے کوئی روشنی نہیں ڈالی لیکن جو کچھ کہا اور جس پیرائے میں کہا،اُس سے نظر آیا کہ وہ سر پر کفن باندھ چکے ہیں۔
جناب عمران خان پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں،ان کی مقبولیت کے حوالے سے بھی دو رائے نہیں ہیں،ہر شخص جانتا اور مانتا ہے کہ وہ پاکستان کے مقبول ترین سیاست دانوں میں سے ہیں۔ان کی جماعت نے گذشتہ کچھ عرصے میں ضمنی انتخابات کے دوران جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اور خود انہوں نے جس طرح قومی اسمبلی کی چھ نشستوں کو جیت کر دکھایا ہے،اُس کی وجہ سے ان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے لیکن جتنی بڑی یہ حقیقت ہے اُتنی ہی بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ جناب عمران خان کے مخالف بھی اپنا وجود رکھتے ہیں۔اِس وقت جو کثیر الجماعتی مخلوط حکومت مرکز میں قائم ہے اُس میں شامل جماعتوں نے گذشتہ انتخابات کے دوران ساٹھ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ تحریک انصاف نے تنہا 32فیصد رائے دہندگان کی حمایت حاصل کر کے خود کو منوایا تھا۔
انتخابات کے بعد کئی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ معاملہ کر کے عمران خان وزیراعظم بنے اور قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا،ان کی حکومت کی کامیابیاں کیا تھیں اور ناکامیاں کیا،اس بحث میں پڑے بغیر سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ ان کی مخلوط حکومت میں شامل متعدد جماعتوں نے اپنے راستے الگ کر لیے اور ایک نئی کولیشن قائم کر کے جناب شہباز شریف کو وزیراعظم بنا لیا، جس قومی اسمبلی کی اکثریت نے عمران خان کو وزیراعظم چنا تھا،اُسی کی اکثریت نے ان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کر کے نیا قائد ایوان چن لیا۔ اس فیصلے کا جو بھی پس منظر ہو اور اس کی جو بھی وجوہات بیان کی جائیں،اس حقیقت کی تردید ممکن نہیں کہ ایوان کی اکثریت کی حمایت اُسے حاصل نہیں رہی تھی۔اُن کے سامنے یہ آپشن موجود تھا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر قومی اسمبلی میں بیٹھتے اور اپنی صفوں کو ازسر نو منظم کر کے حکومت کو  ناکوں چنے چبواتے لیکن انہوں نے اسے اختیار کرنے کے بجائے استعفیٰ دینے کو ترجیح دی اور قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کر دیا۔وہ دن جائے اور آج کا آئے،کوئی واضح لائحہ عمل طے نہیں ہو پا رہا۔کبھی وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، کبھی لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہیں،کبھی ان کے رفقاء عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا کر استعفے نہ منظور کرنے کی دہائی دیتے ہیں،اب لانگ مارچ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طور پر عوام کے سمندر کے ساتھ اسلام آباد پہنچیں گے اور نئے انتخابات کا مطالبہ منوا لیں گے، انہیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کا حق حاصل ہے،وہ ازسر نو انتخابات کا مطالبہ کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں لیکن ازراہ کرم یہ وضاحت ضرور فرما دیں کہ جب ”سمندر“ ان کے ساتھ ہو گا تو اس میں شامل سب عناصر کے پرامن رہنے کی ضمانت کیا ہو گی؟ اور اگر وہ پرامن رہیں گے تو اسلام آباد میں محض دھرنا دے کر حکومت کی ناک نیچی کیسے کر لیں گے؟
ہماری دعا ہے کہ حالات قابو میں رہیں لیکن خدشات موجود ہیں کہ تصادم ہو اور معاملات بے قابو ہو جائیں۔عمران خان اور حکومت کے ذمہ داران دونوں پر لازم ہے کہ بات چیت کے دروازے بند نہ کریں،کھلے دِل سے ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کریں،اپنی اپنی بات سمجھائیں، ”ویٹو“ کسی کے پاس نہیں ہے،فریقین ایک دوسرے کو تسلیم کر کے اور ایک دوسرے سے معاملہ کر کے ہی پاکستان کو امن اور چین دے سکتے ہیں۔اَنا کے خول میں بند رہنے والوں کے ہاتھ خالی رہتے ہوئے بارہا دیکھے جا چکے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں حادثات کی تعداد کم نہیں ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -