’میں جب ڈی جی آئی ایس آئی بنا تو پوچھا گیا کہ پاکستان کا نمبر ون مسئلہ کیا ہے؟‘

’میں جب ڈی جی آئی ایس آئی بنا تو پوچھا گیا کہ پاکستان کا نمبر ون مسئلہ کیا ...
’میں جب ڈی جی آئی ایس آئی بنا تو پوچھا گیا کہ پاکستان کا نمبر ون مسئلہ کیا ہے؟‘

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن)انٹرسروسز انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی ) کے ڈائریکٹر جنرل نوید انجم نے بتایا کہ ان سے پاکستان کا نمبر ون مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے معاشی مسائل کا بتایا لیکن سوال کرنیوالے نے اتفاق نہیں کیا کیونکہ ان کی نظر میں حزب اختلاف بڑا مسئلہ تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی نے بتایا کہ پاکستان کو عدم استحکام سے خطرہ ہے ، یہ وہ چیز ہے جس پر آپ کی بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں، جب آپ نفرت اور تقسیم کی سیاست کرتے ہیں تو ملک میں عدم استحکام آتا ہے، اگر تاریخ سے نہیں سیکھا تو کچھ دہائیاں پیچھے چلے جائیں، ہم مسلمان ملک تھے ، اس کے بھی دو حصے ہوگئے کیونکہ ہم نے نفرت اور تقسیم کو زیادہ ابھارا، یہی وہ چیز ہے جو معاشرے اور مملکت کی بنیادیں کھوکھلی کرتاہے، پاکستان کو عدم استحکام کا سامنا اس کے معاشی حالات کی وجہ سے ہے ۔ 
انہوں نے بتایا کہ ”میں خود جب ڈی جی آئی ایس آئی بنا تو میرے سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا نمبر ون مسئلہ کیا ہے، میں نے جواب دیا کہ’سر ، میری نظر میں ہمارے معاشی مسائل ہیں، بہر حال جنہوں نے سوال پوچھا، وہ میری رائے سے متفق نہیں ہوئے، ان کی نظر میں حزب اختلاف پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تھا، پاکستان کا جو ہمارے ہاں سیاسی و معاشرتی عدم برداشت ہے، گالم گلوچ آپ خود دیکھتے ہیں، پاکستان کو باہر سے کوئی خطرہ نہیں، ہمارے دشمنوں کو یہ معلوم ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو عدم استحکام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی خواہشات کی تکمیل نہ کریں، آئینی و قانونی راستے اختیار کریں۔ جب ہم چور دروازے ، غیرآئینی اور غیرقانونی طریقے استعمال کرتے ہیں تو ملک میں انتشار آتا ہے ، آئی ایس آئی اور ادارے نے یہ فیصلہ کرلیاکہ صرف وہی کام کریں گے جو قومی امنگو ں کا مظہر ہے ، اس انداز میں کرے گا جو آئین میں لکھا ہے ۔ 

مزید :

قومی -