تمام صوبائی چیف ایگزیکٹوز کو وفاقی حکومت کے احکامات براہ راست ماننے کا حکم

تمام صوبائی چیف ایگزیکٹوز کو وفاقی حکومت کے احکامات براہ راست ماننے کا حکم
 تمام صوبائی چیف ایگزیکٹوز کو وفاقی حکومت کے احکامات براہ راست ماننے کا حکم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی حکومت نے قانون اور امن و عامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے تمام چیف ایگزیکٹوز کو وفاقی حکومت کے براہ راست احکامات ماننے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
حکومت کی جانب سے جاری کر دہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ   11 اکتوبر 2022 کو وزارت داخلہ میں وزیر داخلہ کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا، خاص طور پر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج کی آئندہ کالوں کے تناظر میں معاملات زیر غور آئے تھے ۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ پی ٹی آئی نے کل 28.10.2022 کو لاہور سے دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ کی کال دی ہے۔
وفاقی،صوبائی،خصوصی علاقائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کی طرف سے آئین اور قوانین کی پاسداری کی اہمیت پر زیادہ زور نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ ملک کے آئینی اور قانونی فریم ورک کے تحت تمام حکومتوں کا فرض ہے۔ لہٰذا کسی بھی سیاسی جماعت کو لانگ مارچ جیسے زبردست اقدامات کے ذریعے ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں متحد ہو کر آئینی دفعات پر عمل کریں۔ 
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ  آئینی دفعات پر عمل کرنے  کے سلسلے میں  آئین کے آرٹیکل 148 (1) کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، جس کے تحت ہر صوبے کا انتظامی اختیار اس طرح استعمال کیا جائے گا کہ اس صوبے میں لاگو ہونے والے وفاقی قوانین کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، آئین کے آرٹیکل 149 (4) کے مطابق، اگر پاکستان یا اس کے کسی حصے کے امن، سکون یا معاشی زندگی کو کوئی سنگین خطرہ لاحق ہو تو وفاق کا انتظامی اختیار کسی کو ہدایات دینے تک بھی توسیع کرے گا۔ صوبے کے طور پر جس طریقے سے اس کے ایگزیکٹو اتھارٹی کو اس طرح کی لعنت کو روکنے کے مقصد کے لئے استعمال کیا جانا ہے۔
 نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ    یہ واضح ہے کہ سرکاری ملازمین ریاست کے ذمہ داروں کے طور پر کام کرنے کے پابند ہیں اور ان کے اقدامات متعلقہ آئینی دفعات کے تابع ہونے چاہئیں تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات کے ہموار انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

مزید :

اہم خبریں -قومی -