صہیونی دہشت گرد مسجد اقصی میں تلمودی تعلیمات کی تیاری کر رہے ہیں

صہیونی دہشت گرد مسجد اقصی میں تلمودی تعلیمات کی تیاری کر رہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس( اے این این )مسجد اقصی کی تعمیر ومرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصی فاو¿نڈیشن و ٹرسٹ نے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسند یہودی اور دہشت گرد صہیونی مسجد اقصی میں تلمودی تعلیمات کے مطابق نماز کی ادائیگی کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو یہ قبلہ اول کی سخت ترین توہین اور بے حرمتی ہو گی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقصی فاو¿نڈیشن نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ یہودی آباد کار اپنے ایام عید کے دوران مسجد اقصی کی بڑے پیمانے پر بے حرمتی کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ وہ مسجد میں تلمودی اور توراتی تعلیمات کے مطابق باجماعت نمازوں کی ادائیگی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، جوکہ اپنے جلو میں نہایت تباہ کن مضمران لیے ہوئے ہے۔اقصی فاو¿نڈیشن نے مسجد اقصی میں یہودیوں کی حالیہ سرگرمیوں پربھی گہری تشویش کا اظہارکیا اور کہا کہ انتہا پسند یہودیوں نے مسجد اقصی کو ایک تر نوالہ سمجھ رکھا ہے، وہ جب چاہتے ہیں جتھوں کے جتھے دوڑے چلے آتے ہیں ۔اور دن رات قبلہ اول کے بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ مسجد اقصی کی بے حرمتی صرف انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے نہیں ہو رہی ہے بلکہ اسرائیلی حکومت ایک منظم منصوبے کے تحت مسلمانوں کے اس مقدس مقام کو یہودیوں کے ہاتھوں پامال کرانا چاہتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے مسجد اقصی میں مسلسل حملے قابض فوج اور پولیس کی موجودگی میں ہوتے ہیں ۔ فوج اور پولیس یہودیوں کو ہرممکن تحفظ اور سہولت فراہم کرتی ہے۔ تاکہ وہ مسجد اقصی میں مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے راہ ہموار کرسکیں۔الاقصی فاو¿نڈیشن کاکہنا ہے کہ اسرائیلی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ انتہا پسند یہودی یوم الکیبور یا عید غفران کے موقع پر مسجد اقصی کے السلسلہ دروازے کے سامنے جمع ہوں گے اورتلمودی تعلیمات کے مطابق نماز اور دیگر مذہبی رسومات ادا کریں گے۔ خیال رہے کہ عبرانی سال کے آٹھویں مہینے کی نو تاریخ کو یہودی مسجد اقصی میں جمع ہو کر یوم کیبور یا ہیکل سلیمانی کی یاد میں رسومات ادا کرتے ہیں ۔ یہ سلسلہ یہودیوں نے سنہ 1967 کے چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے بعد شروع کیا جب قابض اسرائیل نے بیت المقدس اور مسجد اقصی پر قبضہ کر لیا تھا۔

مزید : عالمی منظر