بابا ئے جمہوریت نواب زادہ نصر اﷲ خاں(مرحوم) ایک محب وطن سیاست دان

بابا ئے جمہوریت نواب زادہ نصر اﷲ خاں(مرحوم) ایک محب وطن سیاست دان
بابا ئے جمہوریت نواب زادہ نصر اﷲ خاں(مرحوم) ایک محب وطن سیاست دان

  


 بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اﷲ خاں(مرحوم) پرانی روایات کے وضعدار سیاست دان تھے۔وہ ختم نبوت کے مجاہد اور جمہوریت کے متوالے تھے۔وہ تقریباً پون صدی میدان سیاست میں متحرک وفعال رہے۔متعدد بار قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔11/12 سال جیلوں میں گز ار دئیے مگر اُصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا اور نہ ہی کبھی اُن کے پائے استقامت میں لغزش اور کمزوری آئی۔ملک میں جتنے بھی اتحاد بنے اور طالع آزماﺅں،ڈکٹیٹروں اور آمروں کے خلاف تحریکیں چلیں اُن میں نواب زادہ نصر اﷲ خاں کا کردار قائدانہ رہا۔1969ءسے لے کر2003ءتک ہر فوجی آمر اور سیاسی دور میں جمہوریت کے قیام کے لئے ملک کی بااثر سیاسی قوتوں کو متحد اور اکٹھا کرنے،آمریت کے خاتمے کے لئے اُن کو سٹرکوں پر لانے میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔ملک میں جمہوریت کے قیام کے لئے اُن کی بے لوث خدمات اور جدوجہد ہماری تاریخ کا روشن باب بن چکی ہیں۔

32۔نکلسن روڈ پر نواب زادہ نصر اﷲ خاں کی قیام گاہ،پارٹی دفتر اور سیاسی سیکرٹریٹ میں آنے جانے والوں کے لئے اُن کی ملاقات پر کسی قسم کی قدغن نہیں تھی۔عام سیاسی کارکن سے لے کر وزیراعظم تک کے لئے اُن کے دروازے کھلے تھے اور وہ ہمیشہ بغیر کسی گن مین کے،اپنی قیام گاہ پر سیاسی گفتگو کرتے تھے۔بابائے جمہوریت نے ایوب خاں سے لے کر صدر جنرل پرویز مشرف تک ہر طائع آزما و ڈکٹیٹر کو اُن کی قانونی اور آئینی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا اور اُن کے خلافِ آئین اقدامات کی سرعام مذمت کی اور اُن کے قبضے سے ملک وقوم کی جان چھڑائی۔جنرل ایو ب خاں ،”شاہِ پاکستان“ بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ بابا ئے جمہوریت نواب زادہ نصر اﷲ خاں نے اُس کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا متحدہ محاذ بنا کر جرا¿ت مند ی سے اُس کا راستہ روک لیا۔عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعظم نے جب عوام سے کےے وعدوں سے انحراف کیا اور انتخابات میں دھاندلی کی تو نواب زادہ نصراﷲ خاں نے ملک کے سیاسی رہنما کے خلاف تحریک چلائی،ضیاءالحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو بابائے جمہوریت کو ایم آرڈی کے قائد کے روپ میں اپنے راستے میں رکاوٹ پایا۔

 محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے جمہوری اقدار کی خلاف وزری کی تو نواب زادہ نصر اﷲ خاں اُن کے راستے میں دیوار بن گئے۔جنرل پرویز مشرف نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تو بابائے جمہوریت نے اُن کے خلاف ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں سمیت دیگر سیاسی رہنماﺅں کو اُس سے دو دوہاتھ کرنے کے لئے اے آڑ ڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کرلیا۔اُنہوں نے ملک میں کم وبیش اٹھارہ اتحاد اور محاذ بنائے اور تحریکیں چلا کر طالع آمازﺅں اور آمروں کو گھر کا راستہ دکھایا۔بابائے جمہوریت میں یہ خوبی تھی کہ وہ سیاسی ونظریاتی اختلاف کے باوجود ہر کسی سے خندہ پیشانی سے پیش آتے۔سیاسی اختلافات کو اُنہوں نے کبھی ذاتی اختلافات اور انا کا مسئلہ نہیں بنایا ،نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی اُصولوں کی بنیاد پر مخالفت کی اور وقت آنے پر اُن کو بھی ملک میں بحالی جمہوریت کی تحریک میں اپنے ساتھ رکھا۔نواب زادہ نصر اﷲ خاں خاندانی طور پر یونیٹسٹ تھے مگر اُن کی آزاد سوچ نے مکمل آزادی کا مطالبہ کرنے والی اُس وقت کی مجاہدانہ سوچ رکھنے والی پارٹی”مجلس احرار اسلام“ کا چناﺅ کیا۔

پارٹی نظریات میں اختلافات کے باوجود23مارچ1940ءکو مسلم لیگ کے زیر اہتمام منٹو پارک لاہور کے تاریخی جلسہ عام میں شرکت کی اور قرارداد پاکستان کی منظوری میں حصہ لیا۔اِس جلسہ میں شرکت اُن کی اعلیٰ سیاسی سوچ کی مظہر تھی۔اُن کے سیاسی سفر میں مسلم لیگ اور عوامی لیگ بھی اہم سنگ میل ثابت ہوئیں۔بعد ازاں اُنہوں نے پاکستان جمہوری پارٹی کی بنیاد رکھی۔وہ فطرتاً ایک محب وطن اور غلامی کے مادی فوائد رد کرکے مکمل آزادی کا راستہ تلاش کرنے والے سیاست دان تھے۔اُن کی فصاحت وبلاغت یہ ثابت کرتی ہے کہ سیاسی کیرئیر کی ابتداءمیں امیر شریعت سید عطا اﷲ شاہ بخاریؒ کی قربت بہت زیادہ کارگر ثابت ہوئی۔وہ پُرعزم اور وسیع المطالعہ رہنماﺅں اور دانشوروں کو پسند کرتے تھے۔علامہ مشرقی، شورش کشمیری اور سہروردی اُن کی پسندیدہ ہستیاں تھیں۔

نواب زادہ نصراﷲ خاں نے ساری عمر صرف ایک ایجنڈے پر کام کیا کہ ملک کو فوجی حکومت سے مستقل طور پر چھٹکارا مل جائے اور اِسی وجہ سے اُنہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سے کہا تھا کہ حکومت کسی پارٹی کی بھی ہو،اپوزیشن کو کبھی بھی جی ایچ کیو کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ اِس سلسلے میں آخر کار بابائے جمہوریت نے اے آر ڈی کی تحریک میں میثاق جمہوریت کے موقع پر دونوں سیاسی رہنماﺅں کو اپنی بات کے حق میں قائل کرلیا تھا۔نواب زادہ نصر اﷲ خاں ہمیشہ اُصولوں کی بات کرتے تھے۔اُن کا سب سے بڑا اُصول یہ تھا کہ ملک میں جمہوریت ہو۔اُنہوں نے اپنی زندگی جمہوریت کیلئے وقف کررکھی تھی۔اُن کی ضعیف العمری اور بیماری اُن کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہ بنی۔وہ قائداعظم کے بعد ملک کی دوسری بڑی سیاسی شخصیت تھے جو ملک سے فوجی حکومت کا مستقل طور پر خاتمہ چاہتے تھے اور فوج کو گاہے بگاہے اُن کے حلف اور آئینی حدود سے آگاہ کرتے رہتے تھے اور اِس بات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ملک کو طائع آزماﺅں فوجی جرنیلوں نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ایوب خاں نے تین دریابھارت کو دے دئیے،یحییٰ خاں نے آدھا ملک گنوا دیا،ضیاءالحق نے دین بیچا اور جنرل پرویز مشرف نے ایمان فروخت کردیا۔

بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اﷲ خاں(مرحوم) کہا کرتے تھے کہ جمہوریت کی تمام خرابیوں کا حل بھی جمہوریت میں ہے۔ملک سے فوجی آمریت کو نابود کرنے کے لئے بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اﷲ خاں نے اپنی آخری سانس تک جدوجہد کی اور جمہوریت کے قیام، عوام کے بنیادی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لئے ملک پر مسلط ہونے والے بڑے سے بڑے آمر اور ڈکٹیٹر کے سامنے ڈٹ گئے۔اُنہیں اپنی سیاسی زندگی میں کئی بار جیل جانا پڑا اور متعدد بار گھر پرنظر بند ہونا پڑا۔ ایوب خان کے کالے قانون ایبڈو کا شکار بنے اور اُن پر پابندیاں عائد ہوئیں تاہم جب 1962ءکے آئین کے نفاذ کے بعد انتخاب ہوئے تو اُن پر سے ایبڈو کی پابندیاں ختم کردی گئیں۔ بابا ئے جمہوریت نواب زادہ نصر اﷲ خاں(مرحوم) 1988ءاور1993ءکے صدارتی انتخابات میں صدر کے عہدے کے لئے امید وار تھے۔ 13دسمبر1988ءکو محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایم این اے ہوسٹل اسلام آباد میں بابائے جمہوریت سے ملاقات کی اور اِس خدشے کا اظہار کیا کہ صدر پاکستان غلام اسحاق خاں اُنہیں وزیراعظم کے طور پر دعوت نہیں دیں گے۔

نواب زادہ نصر اﷲ خاں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو سمجھایا کہ جمہوریت اور پارلیمانی روایات کے مطابق آپ کو ہی وزارت عظمیٰ کی پیش کش کی جائے گی کیونکہ آپ سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کی لیڈر ہیں ۔اگر آپ اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام ہوئیں تو آپ کے بعد دوسری بڑی پارٹی کے لیڈر کو دعوت دی جائے گی۔نواب زادہ نصراﷲ خاں (مرحوم) نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو مشورہ دیا کہ وہ آرام سے گھر بیٹھ جائیں،وزارت عظمیٰ کی اُن ہی کو پیشکش کی جائے گی لیکن محترمہ بینظیر بھٹو نے گھر بیٹھ کر انتظار کرنے کی بجائے جی ایچ کیو کا طواف کرنا شروع کردیا۔ مقتدر قوتوں کی یہ خواہش اور ضرورت تھی۔مولانا فضل الرحمن جنرل ضیاءالحق کی طویل آمریت کے بعد1988ءمیں پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔اُن کا خیال تھا کہ جنرل ضیاءالحق کے بعد ملک میں جمہوریت آچکی ہے اور فوج بیرکوں میں واپس جاچکی ہے اور ملک میں عوامی حکومت بننے جارہی ہے۔اب تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہوں گے۔اُنہوں نے صدر پاکستان کے انتخاب کے لئے نواب زادہ نصر اﷲخاں کو اپنا امید وار نامزد کررکھا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کا فیصلہ اسٹیبلمشنٹ کو پسند نہیں تھا۔ وہ غلام اسحاق خان کو ہر حال میں صدر پاکستان بنانا چاہتی تھی۔

 آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے مولانا فضل الرحمن کو طلب کرکے تحکمانہ لہجے میں کہا کہ: ”ہم نے فیصلہ کیا ہے،غلام اسحاق خاں صد ر ہوں گے لہٰذا آپ نواب زادہ نصر اﷲخاں کو الیکشن سے روکیں“۔ مولانا فضل الرحمن آرمی چیف کے اس حکم پر حیران ہوگئے کہ ملک کے ایک ایسے صدر کے انتخاب کا فیصلہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کررہے تھے جس کے پاس58/2-B کی طاقت ہوگی جو ملک کی تینوں مسلح افواج کا کمانڈرانِ چیف ہوگا۔گویا ماتحت اپنے باس کا انتخاب کررہے تھے۔مولانا فضل الرحمن نے جنرل مرزا اسلم بیگ سے پوچھا کہ آپ نواب زادہ نصر اﷲ خاں سے اتنے خفا کیوں ہیں؟ جنرل اسلم بیگ کا رنگ سرخ ہوگیا۔اُنہوں نے اختلاف کی دو وجوہات بتائیں، ”جنرل اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں گیا تھا۔نواب زادہ نصر اﷲ خاں بھی وہاں تھے۔میں اُنہیں بزرگ سمجھ کر اُن کے پاس گیا۔اُ ن سے ہاتھ ملایا لیکن یہ میرے ساتھ ہاتھ ملا کر پھر دوسروں سے گفتگو کرنے میں مصروف ہوگئے۔اُنہوں نے مجھے زیادہ”ویٹ“نہیں دیا۔ اُنہیں میرے ساتھ میرے مرتبے کے مطابق” بی ہیو“ کرنا چاہیے تھا۔دوسرا بے نظیر بھٹومیرے ساتھ ملاقات کے لئے آرمی ہاﺅس آئی تھیں۔(جاری ہے)    

مزید : کالم