مہنگائی اور بدعنوانی کے اصل محرکات!

مہنگائی اور بدعنوانی کے اصل محرکات!
 مہنگائی اور بدعنوانی کے اصل محرکات!

  


2005ءسے 2012ءکے دوران ملک میں مہنگائی میں 300 فیصد، افراط زر میں 200 فیصد اور بدعنوانی میں 110فیصد اضافہ ہوا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ 2008ءمیں آنے والے عالمی مالیاتی بحران کے اثرات پاکستان پر اس انداز سے نہیں پڑے جیسے ساری دنیا پر پڑے، لیکن اس کے باوجود معیشت کا ڈھلوانی سفر جاری رہا، اگرچہ 2004-05ءکے دوران شرح نمو5.4 تک ہوگئی تھی، لیکن اس کے بعد تنزلی کا جو سفر شروع ہوا، آج تک جاری و ساری ہے۔ 2008ءمیں آنے والے عالمی مالیاتی، بحران نے یورپ (خاص طور پر مشرقی یورپ) و امریکہ کو متاثر کیا۔ امریکہ2010ءکے اوائل میں اس بحران کے اثرات سے نکلنا شروع ہوا اور نومبر2011ءتک تقریباً نکل گیا۔ یورپ کے اکثر ممالک بھی اس بحران کے اثرات کسی حد تک زائل کر چکے ہیں لیکن پُرتگال، سپین، اٹلی اور یونان کو ابھی بھی سخت حالات کا سامنا ہے۔ 2008-10ءکے دوران یورپ و امریکہ کے بڑے بڑے صنعتی اداروں کا دیوالیہ نکل گیا۔ امریکہ کے دو بڑے ادارے جنرل موٹرز اور لہمن برادرز 2010ءمیں دیوالیہ ہوگئے، جنہیں بچانے کے لئے 10 ارب ڈالر کا بیل آو¿ٹ پیکج دیا گیا۔

بہت سے معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی زبوں حال معیشت کو اس مقام تک پہنچانے میں اندرونی عوامل کار فرما ہیں، نہ کہ بیرونی اثرات۔ گزشتہ7 سال کے دوران بجلی و گیس کے بحرانوں نے ملک کے صنعتی شعبے کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا، جس کی بدولت بیروزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا، روپے کی قدر میں مسلسل کمی ملک میں روز افزوں ہونے والی مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہے، لیکن ذخیرہ اندوزی (زائد منافع کے لئے) اور گراں فروشی بھی مہنگائی کے بنیادی محرکات ہیں۔ 2005ءسے 2012ءکے دوران ملک کی اکثریتی آبادی (حتیٰ کہ دیہات بھی) کیبل اور انٹر نیٹ سے متعارف ہوگئی۔ ملک کا عام آدمی جب گلوبل ویلیج کا حصہ بن گیا تو اس کے طرزِ زندگی میں واضح تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ نچلے متوسط اور متوسط طبقات کے افراد میں بینکوں کے ذریعے گاڑیاں خریدنے اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے شاپنگ کرنے کا رحجان زور پکڑنے لگا، جس کے باعث ان طبقات کے اخراجات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ نچلے متوسط اور متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین میں اس دوران بدعنوانی کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے باعث ملک میں مجموعی طور پر بدعنوانی میں خوفناک اضافہ ہوا۔ بدعنوانی کے حوالے سے یہ بات بہت حد تک درست ہے کہ یہ اشرافیہ سے نچلے طبقات تک منتقل ہوتی ہے۔ ملک کی حکمران اشرافیہ چونکہ پہلے ہی بدعنوانی میں پوری طرح لت پت تھی، لہٰذا اس کے اثرات گزشتہ عشرے کے دوران متوسط طبقے کے تاجروں اور نچلے متوسط طبقے کے سرکاری ملازمین میں نہایت تیزی سے منتقل ہوئے، جس کے باعث ملک میں مجموعی طور پر بدعنوانی کی فضاءقائم ہوگئی۔

ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی 2011ءکی رپورٹ کے مطابق سال گزشتہ میں ملک میں 3000 ارب بدعنوانی کی نذر ہوگئے، جبکہ نیب کے چیئرمین ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کے مطابق ملک میں ہر روز 6 سے 7 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ گراں فروشی بدعنوانی کی ایک قسم ہے، جو ملک میں مصنوعی مہنگائی کا ماحول پیدا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ گزشتہ 7 سال کے دوران ملک کے تاجروں میں گراں فروشی کا رجحان بہت مقبول ہوا ہے، اس وقت ملک میں فروخت ہونے والے کپڑے، جوتے اور دیگر اشیاءکے صرف میں تاجروں کا منافع دنیا کے بہت سے ممالک سے زیادہ ہے۔ بہت سے تاجر300 سے 400 فیصد تک منافع کما رہے ہیں، لیکن پرائس کنٹرول کا کوئی مو¿ثر نظام نہ ہونے کے باعث ان کی کوئی باز پُرس نہیں، ایک زمانے میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اشیاءکی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے مو¿ثر کردار ادا کیا کرتے تھے، لیکن اب ان کا کردار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ ناقص اشیاءکی مہنگے داموں فروخت اس جانب اشارہ ہے کہ ملک میں صارف عدالتیں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ اول تو صارف عدالتوں کا دائرہ کار نہایت محدود ہے اور عوام کی اکثریت ان کے کردار سے نا آشنا ہے۔ پنجاب کے صرف 11 شہروں میں صارف عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ اگرچہ اس سلسلے میں2005ءکا Consumer Protection Law موجود ہے، لیکن اس پر عملدرآمد کی توفیق کسی حکومت کو نہیں ہوئی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صارف عدالتوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے اور عام آدمی کو ان کی اہمیت سے روشناس کروایا جائے، تاکہ صارفین کے بڑھتے ہوئے استحصال کو روکا جاسکے۔ اس وقت بہت سے ملکی و غیر ملکی برانڈز، ناقص اشیاءمہنگے داموں فروخت کرنے میں مصروف ہیں، لیکن ان کی سرزنش کے لئے کوئی موثر نظام نہ ہونے سے عوام کی جیبوں سے سرمایہ نکل کر ان تک منتقل ہو رہا ہے۔ ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لئے قانونی سقم دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اشیاءکے ضرورت کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے صارف عدالتوں کا نیٹ ورک وسیع کرنا ہوگا۔ آج ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ مہنگائی اور بدعنوانی ان دونوں بیماریوں سے نجات کوئی آسان کام نہیں، مصنوعی اقدامات کے ذریعے ان پر وقتی طور پر تو قابو پایا جا سکتا ہے، لیکن ہمیشہ کے لئے ان کا تدارک ممکن نہیں ہوتا، ان پر قابو پانے کا واحد طریقہ یہ ہے۔ احتساب کا مو¿ثر نظام جس کے لئے اب بھی موثر اقدامات نہ کئے گئے تو وقت شاید ہمارے ہاتھ کبھی نہ آئے۔  ٭

مزید : کالم