تعمیر سے تخریب کا جواب!

تعمیر سے تخریب کا جواب!
تعمیر سے تخریب کا جواب!

  


اسلام آباد میں مقیم اچھی حیثیت اور شہرت کے ہمارے ایک دوست گزشتہ ہفتے بڑے غمگین اور ملول تھے۔ ہم سے فون پر مسلسل رابطے میں تھے۔جمعرات کو وہ اپنے دفتر گئے اور کھڑکی سے سڑک پر ہونے والی کشمکش کو دیکھتے رہے۔جمعہ کو وہ دفتر تو نہ گئے ، لیکن ہماری طرح ان کا مسئلہ بھی ٹی وی چینلوں کی لائیو کوریج نے حل کردیا اور جو کچھ اسلام آباد، راولپنڈی خصوصاً فیض آباد میں ہوا وہ بھی دیکھتے اور کف افسوس ملتے رہے، جبکہ کوریج کا دائرہ تو کراچی، لاہور اور پشاور کے علاوہ دوسرے اضلاع تک بھی تھا۔انہوں نے دن میں کئی بار فون کیا اور یہی سوال پوچھتے ”یہ قوم ہے، کیا یہ پاکستانی اور مسلمان ہیں“؟ ان کا استدلال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید، فرقان حمید میں خود فرمایا ہے کہ مسلمان سے کسی مسلمان کو ایذا یا تکلیف نہیں پہنچنا چاہیے اور اگر کوئی مسلمان اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی کو قتل کردیتاہے تو ایسا کرنے والا جہنمی ہے اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ظالم کوظلم سے روکے اور قاتل کو سزا دے۔اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مسلمان کے قاتل مسلمان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

محترم دوست آنکھوں دیکھے حال کے بعد ٹی وی کوریج دیکھ کر بہت ہی مایوس تھے۔ان کو اس بات سے اور بھی دکھ پہنچا تھا کہ احتجاجی مظاہروں میں جن طلباءنے دینی جذبے کے ساتھ حصہ لیا ان کو بھی پتھر مارنے اور جلاﺅ گھیراﺅ میں ساتھ ملا لیا گیا۔یقینا یہ جو کچھ بھی ہوا کسی طور پر اچھا نہیں تھا، اس پر مستزاد یہ کہ لائیو ٹی وی کوریج کی وجہ سے پورے ملک میں یہ سب دیکھا گیا ،جس سے شرپسندوں کے حوصلے اور بھی بڑھے ان کو شان رسالت سے کوئی غرض نہیں تھی۔یہ تو کسی اور مقصد کے لئے آئے تھے۔ اس لئے کوئی کام بہتر انداز میں ہونے لگتا تو یہ اس میں رخنہ اندازی کرتے تھے، ہمارے یہ دوست بہت افسردہ اور مایوس تھے ان کے مطابق جس ہستی کے نام پر یہ سب کچھ کیا گیا ان کی بزرگی اور عظمت میں کسی کو کلام نہیں اور پوری عالمی برادری بھی جانتی ہے اور اس شخصیت عظیم ترین کو ہم جیسے لوگوں کی حمایت کی ضرورت نہیں۔ان کی عظمت بلند کرنے کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے خود کیا ہوا ہے۔ان کو کسی حمایت کی ضرورت نہیں۔

دو دن بھی نہیں گزرے تھے کہ ہمارے دوست محترم کا فون آ گیا۔فرمائش کی نیوز چینل لگا کر دیکھیں ،جلدی سے تعمیل کی تو ہم خود بھی وہ منظر دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے مبہوت ہوگئے، یہ اسلام آباد ہی کی سڑکیں تھیں، لیکن یہاں کوئی ہنگامہ، کوئی آنسو گیس اور کوئی لاٹھی چارج نہیں ہورہا تھا، بلکہ سڑکوں پر نوجوان طلباءاور طالبات جھاڑو اور بالٹیاں لئے سڑکوں کی صفائی کررہے تھے۔وہ وہاں بکھرے پتھر اور شیشے کے ٹکڑے جھاڑو سے اکٹھے کرکے بالٹیوں میں ڈال رہے تھے اور پھر ان طلباءنے شہر صاف کردیا۔

اسلام آباد والے ہمارے دوست ہم سے بات کررہے تھے ان کے لہجے میں مسرت کا احساس تھا اور وہ خوشی سے رندھے ہوئے گلے کے ساتھ بات کررہے اور گنگنا رہے تھے، ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی“....وہ خوش تھے اور بچوں کو شاباش دے رہے تھے۔انہوں نے کہا یہ ہے تعمیر سے تخریب کاری کا جواب، یہ بچے عام گھرانوں کے بھی نہیں۔اسلام آباد شہر کے بڑے بڑے گریڈوں والوں کے صاحبزادے اور صاحبزادیاں ہیں، ان میں سے تو کئی لڑکیاں ایسی بھی ہوں گی، جنہوں نے خود پانی کا گلاس لے کر بھی نہیں پیا ہوگا۔یہ فریضہ بھی ان کے ملازم انجام دیتے ہیں، یہ سب سڑکیں صاف کررہے تھے اور انہوں نے شام تک یہ کام مکمل بھی کرلیا۔

اب موازنہ کیا جانے لگا تھا ، وہ کہتے ہیں پُرامن احتجاج والوں کو سلام،لیکن کیا جمعرات اور جمعہ کے روز جن حضرات نے ہنگامہ آرائی کی انہوں نے ایسے کام کرکے دین کی خدمت اور رسول اکرم سے محبت کا ثبوت دیا یا بدنامی کا باعث بنے؟جبکہ صفائی کرنے والے طلباءو طالبات نے نیک جذبے اور خدمت کا نمونہ پیش کیا اور یہی مستقبل کی نوید ہیں اور رسول اکرم سے عقیدت اور محبت کا صحیح ثبوت دے رہے ہیں؟

ہمیں بھی اپنے دوست کی رائے سے اتفاق کرنا پڑا، یقینا جمعرات اور جمعہ کو شہریوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچانے اور جلاﺅ گھیراﺅ کے مرتکب افراد نے جو کیا وہ تو اسلام اور فرامین رسول اکرم کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ خود اپنے ہی بھائیوں کی جان و مال کا نقصان کیا جائے اور ساتھ ہی سرکاری املاک بھی جلائی جائیں،یقینا یہ صفائی کی رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے نقصان پہنچانے والوں سے کہیں بہتر ہیں، ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔آج جب ہمارے ہزاروں شہری سیلاب سے متاثر ہیں تو ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کی ضرورت بھی ایسی ہی کوشش سے پوری کی جا سکتی ہے۔

دوسری طرف تازہ اطلاع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے شروع ہی میں اہانت آمیز فلم پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انبیاءکرام ؑ کی شان میں گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔یہ اچھی بات اور کوشش ہے ۔عالمی قوتوں کو اس طرف توجہ دینا چاہیے۔یہ مسلمانوں کے عقیدے کا مسئلہ ہے ،جسے ہر گز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔آس بندھی ہے کہ عالم اسلام اور حکومتیں ایک مشترکہ موقف کے تحت احتجاج بھی کریں اور معاملے کو اب سلامتی کونسل تک لے جائیں، تاکہ ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لئے کوئی مستقل حل تلاس کیا جائے۔  ٭

مزید : کالم


loading...