یہ کہاں کا عشقِ رسول ہے ....؟

یہ کہاں کا عشقِ رسول ہے ....؟
یہ کہاں کا عشقِ رسول ہے ....؟

  

آقائے نامدار، محبوب کردگار، امام الانبیاءخاتم النبین، سرکاردوعالم حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ سے محبت وعقیدت ہرمسلمان کے ایمان کالازمی حصہ ہے، بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ صرف ” لاالہ اللہ “ کہہ دینے سے کوئی انسان مسلمان نہیں ہوسکتا ،جب تک وہ ” محمدرسول اللہ “ نہ کہے اورنبی کریم کی رسالت پر ایمان نہ لائے۔ نبی کریم کی ذات ِ صفات کتنی بلند اورعظیم ہے، اسے ضبطِ تحریر میں لانے کی نہ مجھ ناچیزکے قلم میں طاقت ہے اورنہ ہی مجھ گناہگار کی یہ اوقات کہ مَیں عظمتِ مصطفےٰ کو بیان کرسکوں۔ مَیں گناہ گاروسیاکار صرف اتناہی کہہ سکتاہوں کہ:

بعد از خدابزرگ توئی قصہ مختصر

یقینانبی کریم کی شان میں کسی بھی قسم کی توہین آمیزحرکت، چاہے وہ کسی جانب سے بھی ہو، کسی بھی مسلمان کے لئے ناقابل قبول ہونی چاہیے اورہرسطح پر اس کی بھرپورمذمت کی جانی چاہیے۔ گزشتہ دنوں امریکہ کی ریاست کیلیفورنیامیں ایک نفرت پسند شیطان صفت شخص سام باسل(Sam Bacile) نے ایک وڈیوفلم تیارکی اوراسے یوٹیوب پرجاری کردیا۔ اس شیطانی فلم کے ذریعے نبی کریم کی کردارکشی کی گئی اورجوگستاخی کی گئی، اس کی مذمت کے لئے لعنت وملامت کے تمام الفاظ حقیر معلوم ہوتے ہیں۔ اس فلم پرسب سے پہلے 11ستمبرکولیبیااورمصر میں احتجاج شروع ہوا، جس کادائرہ بڑھتاہواتیونس اوریمن پہنچا۔ اس وقت پاکستان میں اسلام کے تمام بڑے بڑے نام نہاد داعی اورعلمبردار اپنی خودغرضی اورخرمستی کی چادریںاوڑھے سورہے تھے کہ ایسے میں پاکستان میں سب سے پہلے جوآوازبلندہوئی، وہ ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کی تھی، جنہوںنے اسی روز، یعنی 12ستمبرکواس سنگین معاملے پر امریکہ کے صدربارک اوباما، سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اوراو آئی سی کے سربراہ کوہنگامی ٹیلیگرام روانہ کئے۔انہوں نے نہ صرف اس شیطانی فلم کی مذمت کی، بلکہ مطالبہ کیاکہ اس کی اشاعت پر فی الفورپابندی لگائی جائے، عالمی برادری اس کی مذمت کرے اوراس فلم کے بنانے والوںکے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی کہاکہ وہ اس فلم کی نہ صرف مذمت کرے، بلکہ اپنااثررسوخ استعمال کرتے ہوئے ایسی شرانگیزحرکات کاسلسلہ بندکرائے۔

جناب الطاف حسین کے اس انتباہی ٹیلیگرام کے ایک ہفتہ بعدہمارے ملک کی مذہبی وسیاسی قیادت کوہوش آیاکہ معاملہ کیا ہواہے۔ اس شیطانی فلم کے خلاف ....نبی کریم کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج ضرور کیاجاناچاہیے تھا، مگرہمارے ہاں اس اندازسے احتجاج شروع ہواکہ حکومت نے سرکاری سطح پر احتجاج کرنے کے باوجود جمعہ 21ستمبر کے روزپورے ملک میں عام تعطیل اور” یوم عشق رسول “ منانے کااعلان کردیا۔ اس ” یوم عشق رسول “ کا ٹریلرجمعرات20ستمبرکواسلام آبادمیں چلا۔کیونکہ ہمار اشوقِ غارتگری ہمیں گھروں میں بیٹھنے نہیں دیتا لہٰذا چندہزارمسلح مظاہرین نے کئی گھنٹوں تک پورے وفاقی دارالحکومت کو یرغمال بنائے رکھا اورکئی پولیس چوکیوں، پولیس موبائلوں، موٹرسائیکلوں اوردیگراملاک کونذرآتش کردیا۔ بعض مظاہرین کی تصاویر اخبارات میں شائع ہوئیں جن میں وہ آہنی دستے اورڈھالیں لئے ہوئے ہیں۔ اگلے روز یعنی جمعہ 21ستمبر2012ءکوپورے ملک میں” یوم عشق رسول “ منایاگیا اورپوراملک گستاخانہ فلم کے خلاف سراپا احتجاج بن گیا۔

نبی کریم کی شانِ رسالت میں گستاخی، بیہودگی اورتوہین کے شیطانی عمل کے خلاف احتجاج پوری دنیا کے مسلمانوں کی طرح پاکستان کے مسلمانوں کا بھی حق ہے، بلکہ فرض ہے، مگر21 ستمبرکو” یوم عشق رسول “ کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میںآگ اورخون کاجوکھیل کھیلاگیا، وہ اسلام کا قلعہ قراردئیے جانے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ماتھے پرایسابدنماداغ ہے، جسے کسی بھی کھوکھلے جوازکے پانی سے دھویانہیں جاسکتا۔ اس روزملک بھرمیں فائرنگ اورتشدد کے واقعات کے نتیجے میں 3پولیس اہلکاروں سمیت 29 افرادجاںبحق اورسینکڑوں زخمی ہوئے ۔ مسلح مظاہرین نے کراچی ، پشاور، راولپنڈی اوردیگر شہروں میں مجموعی طورپر پر 7بینک، 9 سینما گھر ، 2غیرملکی ریسٹورنٹس،پٹرول پمپ، ایک درجن پولیس موبائلیں، بکتربندگاڑیاں، کئی کنٹینراورمتعدد موٹر سائیکلیں نذرآتش کردیں ۔ اس ” یوم عشقِ رسول “ کے موقع پر ہونے والی دہشت گردی کاسب سے زیادہ نشانہ کراچی بنا، جہاں خطرناک کیمیکلز، آتشگیرمادوں اورجدید ہتھیاروں سے مسلح نام نہاد ” عاشقانِ رسول “ نے6 بینکوں، کئی دکانوں،اے ٹی ایم مشینوں کولوٹااوران بینکوں کے ساتھ ساتھ 5سینماگھروں، پولیس کی 4 موبائل بکتر گاڑیوں، شہریوں کی موٹرسائیکلوں اورکئی ریسٹورنٹس کوآگ لگادی۔ منگھوپیراورجیکسن تھانوں پر حملے کرکے ایک انسپکٹرکوہلاک اور کئی پولیس اہلکاروں کو زخمی کردیا۔

 پشاورمیں بھی سینماگھروں، بینکوںاوردکانوں کولوٹ کرنذرآتش کردیاگیا، جبکہ پشاورچیمبرآف کامرس کی عمارت کو بھی تباہ کردیاگیا۔ ایسے ہی واقعات کوئٹہ میں بھی پیش آئے ۔ کراچی میں احتجاج کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے بارے میں بیشترمذہبی رہنماو¿ں، میڈیاکے نمائندوں اورعینی شاہدین کا یہی کہناہے کہ دہشت گردی اورلوٹ مار کی ان کارروائیوں میں جہادی وکالعدم تنظیموں کے مسلح افراد ملوث ہیں۔ یہ نام نہاد عاشقان ساتھ جدیدہتھیاروں،آتش گیر کیمیکلز، ڈنڈے اورآہنی سریوںکے ساتھ ساتھ اے ٹی ایم مشینیں کاٹنے والے مخصوص بھاری کٹر اپنے ساتھ لے کر آئے تھے، جس سے صاف ظاہرہوتاہے کہ یہ ” یوم عشق رسول “ کے موقع پر رسول اکرم کی شان میں درودوسلام پڑھنے نہیں، بلکہ تشدد ،دہشت گردی اورلوٹ مار کی غرض سے باقاعدہ تیارہوکرنکلے تھے۔

قابل ذکربات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی کراچی کامستقل شہری نہیں تھا، بلکہ یہ تمام لوگ ان علاقوں سے نکل کرآئے تھے، جہاں مختلف شہروں سے آکرلوگ غیرقانونی طورپر آباد ہوئے۔بیشترلوگوں نے تومیڈیاپریہ بھی کہاکہ انہیں دہشت گردی کرنے والوں کے نام بھی معلوم ہیں۔ ایک اور بات سبھی نے نوٹ کی اورالیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے نمائندوں نے اپنی رپورٹس میں اس بات کا برملااظہاربھی کیاہے کہ مسلح مظاہرین سرکاری ونجی املاک کوکئی گھنٹوں تک لوٹ لوٹ کرجلاتے رہے، توڑپھوڑ کرتے رہے، مگرہمیشہ کی طرح اس موقع پر بھی رینجرز غائب تھی ۔ آخراس کی وجہ کیاہے؟ یہ ملک خصوصاًکراچی کے ہرامن پسندشہری کے لئے غورطلب اورلمحہ فکریہ ہے۔

پوری دنیا میں اس وقت 57 اسلامی ممالک ہیں، مگراس گستاخانہ فلم کے خلاف بیشتر اسلامی ممالک میں توایک احتجاجی مظاہرہ تک نہیں ہوا۔سعودی عرب نے سوائے یوٹیوب کوبلاک کرنے کے دوسرابیان تک نہیں دیا۔عراق اورلیبیاپرامریکی یلغار کی حمایت کرنے اورشام کی رکنیت معطل کرنے کے لئے راتوں رات اجلاس بلانے والی او آئی سی اورعرب لیگ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، تاہم جن اسلامی ممالک میں اس معاملے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے،وہ بھی پُرامن تھے، سوائے لیبیا اوریمن کے، جہاں امریکی سفارتخانوں پر حملے کئے گئے، لیکن کسی ایک اسلامی ملک میں بھی لوگوں نے سرکاری ونجی املاک کونشانہ نہیں بنایا، مگر پاکستان میں احتجاج کے نام پر دہشت گردی اورلوٹ مارکاجوبازارگرم کیاگیا اورآگ اورخون کاجوکھیل کھیلا گیا،اس پر جتناماتم کیاجائے کم ہے ۔ ہم اپنی مثال آپ ہیں....ہم اپنے ریکارڈ خود توڑتے ہیں۔

چندسال قبل ڈنمارک میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں پر مختلف ممالک میں پُرامن احتجاج ہوا، مگر پاکستان میں مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے نام پر درجنوں گاڑیاں جلادی گئیں، متعددبینکوں اور دکانوں کولوٹاگیا۔ایسااحتجاج کیاگیا کہ خدا کی پناہ ۔ اس بار ہم نے توہین آمیزفلم کے خلاف احتجاج کے نام پر اپنے 29پاکستانی بھائیوں کی جانیں لے کر، سینکڑوں کو ہسپتال پہنچاکر اورایک محتاط تخمینے کے مطابق 15 ارب روپے سے زائد کی املاک کوتباہ کرکے اپناسابقہ ریکارڈتوڑدیاہے۔ نہ پچھلی مرتبہ توہین آمیزخاکے بنانے والے کی صحت پر کوئی اثرپڑا تھااورنہ ہی اس مرتبہ گستاخانہ فلم بنانے والے شیطان کاکچھ بگڑاہے، بلکہ وہ تواپنے عالیشان گھروں میں آرام سے بیٹھے خوشی خوشی یہ تماشہ دیکھ رہے ہیںکہ پاکستانی کس طرح اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے شہروں اوراپنے ملک کوآگ لگارہے ہیں اوراپنے ہی کلمہ گوبھائیوں کاخون کررہے ہیں ۔اس پر ستم یہ کہ آگ وخون اوروحشت و ظلم کایہ رقصِ ابلیس ”عشق رسول “ کے نام پرکیاگیا۔

جس نبی کواللہ تعالیٰ نے رحمت اللعالمین بناکر بھیجا ....جوتمام جہانوں کے لئے رحمت ہے اس رسول سے عشق کے نام پر زحمت ووحشت برپاکی گئی۔آج ہرامن پسندپاکستانی، چاہے وہ کسی بھی مذہب یامسلک کاماننے والا ہو، یہ سوال کررہاہے کہ یہ کیساعشقِ رسول ہے کہ اسی رسول کے ماننے والوں کوگولیوں سے بھون دیاجائے؟.... ان کے گھروں کے چراغ گل کردیئے جائیں .... ماو¿ں سے ان کے لال، بزرگوں سے ان کے بڑھاپے کے سہارے اورسہاگنوں سے ان کے سہاگ چھین لئے جائیںاوربچوں کویتیم کردیا جائے؟....عشق ِ رسول کایہ کون سا اندازہے کہ سرکاری ونجی املاک پر حملے کئے جائیں....بینکوں اوردکانوں کولوٹ کرآگ لگادی جائے....پولیس کی موبائل گاڑیوں اور معصوم شہریوں کی گاڑیوں کو نذرآتش کردیا جائے؟ رسول اکرم کی کس حدیثِ مبارکہ میں اس بات کادرس دیاگیاہے؟ یہ کہاںکاعشقِ رسول ہے کہ اپنے ہی دارالخلافہ اوراپنے شہروں کوتباہ وبرباد کردیا جائے اور اپنے ہی بھائیوں کے خون سے ہولی کھیلی جائے؟ بخدا یہ عشق رسول نہیں، بلکہ عشق ِ رسول کی توہین ہے، جومٹھی بھر نام نہادعاشقانِ رسول نے اپنے ہاتھوں سے کی ہے ۔ایسے فتنہ پرور اور فسادی لوگوں کوعاشقانِ رسول کہنابھی سچے عاشقانِ رسول کوگالی دینے کے مترادف ہے۔

 عاشقِ رسول کیاہوتاہے؟ اس کے لئے حضرت اویس قرنی ؓ کی زندگی پر نظرڈال لیں، جنہوںنے نبی اکرم کودیکھا تک نہیں تھا، لیکن وہ بغیردیکھے آپ سے دیوانہ وارعشق کرتے تھے اورجب انہیں یہ معلوم ہواکہ جنگِ احد میں نبی کریم کادندانِ مبارک شہیدہوگیاتوحضرت اویس قرنی ؓ نے یہ کہہ کراپنادندان مبارک توڑلیا کہ جب میرے آقاکادندان مبارک شہیدہوگیاہے تومیرا دندان کیسے سلامت رہ سکتاہے؟ پھرخیال آیاکہ نجانے نبی اکرم کااوپرکادانت شہیدہوا ہے یانیچے کا،انہوں نے اپنا دوسرا دانت بھی توڑلیا،پھرسوچاکہ کہیں حضور کاکوئی دوسرا دانت شہیدنہ ہوا ہو، اس طرح حضرت اویس قرنی ؓ نے ایک ایک کرکے اپنے تمام دانت توڑ لئے ۔ یہ رسول اکرم سے ان کے سچے عشق کاعملی مظاہرہ تھا....جس سے سچاعشق ہواس کے عاشقوں اورماننے والوں سے بھی پیارکیاجاتاہے، مگرعشق ِ رسول کے نام پرہم کیا کررہے ہیں؟ ہم عشق رسول کے دعویدارتوبہت ہیں اورہم اس گستاخانہ فلم کو بنیاد بناکر توڑپھوڑ، گھیراو¿ جلاو¿ توکررہے ہیں، مگرسوال یہ ہے کہ ہم رسولِ اکرم کی تعلیمات پرکتناعمل کرتے ہیں؟

 اسلام کے نام نہادعلمبرداروں کی جانب سے” اللہ اکبر“ کا نعرہ لگا کراپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کوذبح کرنے اورقتل عام کی وڈیو فلمیں توبہت جاری کی جاتی ہیں مگر آج تک کوئی ایسی وڈیوفلم کیوں جاری نہ کی گئی، جس میں نبی کریم کے اسوہءحسنہ کوپیش کیاجاتا؟ نفرت پریقین رکھنے والے اسلام دشمن عناصر الیکٹرانک میڈیا کے جس ہتھیار کو استعمال کرکے اسلام اوررسول اکرم کے چہرے کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کررہے ہیں ،ہم نے دنیا کو اسلام اوررسول اکرم کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لئے میڈیاکے اسی ہتھیارکواستعمال کیوں نہیں کیا ؟ ہم تو پُرتشدد احتجاج کاراستہ اختیار کرکے شیطان صفت لوگوں کے ہاتھ خود مضبوط کررہے ہیں۔اس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ جس وقت مَیں یہ مضمون لکھ رہاہوں، اس وقت تک یوٹیوب پر اس گستاخانہ فلم کودیکھنے والوں کی تعدادایک کروڑ28لاکھ81ہزار سے زائد ہوچکی ہے اورجب تک یہ مضمون شائع ہوگا، شائدیہ تعداد ڈیڑھ کروڑ سے بھی تجاوزکرچکی ہوگی۔

نام نہاد عاشقانِ رسول نے تویوم عشق رسول کے موقع پر سرکاری ونجی املاک کو نذرآتش کرنے کے ساتھ ساتھ مسیحی عبادت گاہ تک کو نہیں بخشا اور خیبرپختونخوا کے شہرمردان میں چرچ کوبھی آگ لگادی، حالانکہ گستاخانہ فلم کے خلاف مسیحی برادری بھی مسلمانوں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہے، مگر انتہا پسندعناصر نے چرچ کوآگ لگاکرپوری مسیحی برادری کے جذبات کوٹھیس پہنچائی ہے۔ چرچ کوآگ لگانے والے ان انتہا پسندعناصر کوسوچناچاہیے کہ اگر اس کے جواب میں غیر ممالک میں غیرمسلموں نے مساجدکوجلاناشروع کردیاتوکیاہوگا؟ کیاگرجاگھروں کو آگ لگاکر ہم خوددوسروں کو مساجد کو نقصان پہنچانے کی دعوت نہیں دے رہے ہیں ؟ جب تک ہم تشددکایہ راستہ اختیارکئے رہیں گے، ہم دنیاکواسلام پر دہشت گردی کالیبل لگانے اورمسلمانوں کو دہشت گرد قراردینے کاجوازفراہم کرتے رہیں گے۔ اسلام تو امن وسلامتی کامذہب ہے ۔اسلام کے معنی ہی سلامتی کے ہیں، لیکن جب تک ہم اسلام کے نام پر قتل وغارت اورتشددکی کارروائیاں کرتے رہیں گے،اس وقت تک ہم نہ اسلام کوفائدہ پہنچاسکیں گے اورنہ ہی مسلمانوں کے لئے کوئی خیرکاسامان فراہم کرسکیں گے، بلکہ تشددکایہ طرزعمل ہمیں بالآخر اجتماعی ہلاکت وتباہی سے ہمکنارکردے گا ۔آخرمیں دعاہے کہ خدا بھٹکے ہوئے فسادی لوگوں اورانہیں بھٹکانے والوں کونیک ہدایت دے۔ آمین۔  ٭

مزید :

کالم -