بیرونی ممالک کے بینکوں میں پاکستانی سرمایہ!

بیرونی ممالک کے بینکوں میں پاکستانی سرمایہ!

خبر یہ ہے کہ بیرونی بینکوں نے پاکستان کی اشرافیہ کو اطلاع دی ہے کہ وہ اپنے اپنے اکاﺅنٹ خود ہی بند کرکے رقوم نکلوالیں۔دوسری صورت میں 20اکتوبر سے یہ اکاﺅنٹ ازخود ختم ہو جائیں گے۔خبر کے مطابق اس صورت حال سے اشرافیہ کے یہ حضرات گھبرا گئے اور اب پریشان ہیں کہ مختلف حیلوںبہانوں سے رقوم ملک سے باہر لے جا کر محفوظ کی گئی تھیں اب ان کا کیا جائے ؟دوسری طرف حکومت نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کا سوچ لیا اور اس دھن کو واپس لانے والوں کے لئے ٹیکس میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی طے کیا جارہا ہے کہ رقوم واپس لانے کی ترغیب دینے والی سکیم کے ساتھ ساتھ مخبری کا نظام بھی وضع کیا جائے ، تاکہ جو لوگ رضاکارانہ طور پر رقم واپس نہ لائیں ان کی نشاندہی ہو سکے۔ایسے مخبروں کے لئے چالیس فیصد انعام رکھا جائے گا۔

ملک کے سرمایہ داروں کی رقوم باہر ہونے اور اسے واپس لانے کے لئے مختلف ترغیبات پہلے بھی کئی مرتبہ دی جا چکی ہیں اور کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے ٹیکس ادائیگی میں بھی چھوٹ دینے کی ترکیب آزمائی گئی ہے۔اس کے باوجود کبھی بڑی کامیابی کی نوید نہیں ملی تھی۔بھٹو دور میں بھی ایسا کیا گیا تھا ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے پاکستانی سرمایہ داروں نے اپنا سرمایہ ملک سے باہر ”محفوظ “کیا ہوا ہے اور یہ اربوں ڈالر میں ہے۔اگر یہی سرمایہ ملک میں واپس آ جائے اور صنعتوں میں لگایاجائے تو ملک ترقی کرسکتا اور لوگ خوشحال ہوسکتے ہیں، لیکن یہ تجربات ماضی میں ناکام رہے ہیں ،اب اگر بیرونی بنکوں نے سرمایہ یا اکاﺅنٹ برقرار رکھنے سے معذوری کر لی ہے تو یہ بہترین وقت ہے کہ پاکستان بھی اپنا کردار ادا کرے اور اس سرمائے کو ملک کے اندر لانے کے لئے زیادہ اچھی اور بہتر حکمت عملی ترتیب دے۔

ہم ان سرمایہ دار حضرات سے بھی گزارش کریں گے کہ وہ اپنا سرمایہ ملک میں لائیں اور یہاں سرمایہ کاری سے اپنے ملک کو پاﺅں پر کھڑا کرنے میں کردار ادا کریں۔پاکستان میں سرمائے کی تبدیلی میں ان کا اپنا بھی تو فائدہ ہے۔حکومت کو جلد اقدامات کرنا چاہئیں۔          ٭

مزید : اداریہ