ہم آئین وقانون کو مانتے ہیں وہ لوگ نہیں مانتے جن سے ہمیں شکایات ہیں:سردار اختر مینگل

ہم آئین وقانون کو مانتے ہیں وہ لوگ نہیں مانتے جن سے ہمیں شکایات ہیں:سردار ...
ہم آئین وقانون کو مانتے ہیں وہ لوگ نہیں مانتے جن سے ہمیں شکایات ہیں:سردار اختر مینگل

  


کراچی (نصیر احمد سلیمی) بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے آئین و قانون کو مانتے ہیں ، عدالتوں کا بھی احترام کرتے ہیں ، عمل بھی کرتے ہیں جبکہ وہ لوگ نہیں مانتے جن سے ہمیں جائز طور پر شکایات ہیں ۔ انہوں نے کہا ڈائیلاگ کا دروازہ بند نہیں ہوا، لیکن اس کے لئے باہمی اعتماد ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے کیس میں پیش ہونے کے لئے اسلام آباد آمد کے بعد روزنامہ ”پاکستان“ سے ٹیلی فون پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سردار اختر مینگل سے دریافت کیاگیا کہ کیا ان کے والد سردارعطاءاللہ مینگل نگران وزیراعظم بننے پر آمادہ ہوجائیں گے کیونکہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے اس منصب کے لئے ان کا نام تجویز کیا ہے، تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ ”اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ پانچ سال کی صدارت کے لئے رضامند نہیںہوئے تو محض تین ماہ کی نگران وزارت عظمیٰ کے لئے کیسے آمادہ ہوسکتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں سردار اخترمینگل نے کہا کہ ہمیں تو اعلیٰ عدالتوں پر مکمل اعتماد ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ عدالتوں کے فیصلے وہ لوگ نہیں مانتے جن سے ہمیں جائز طور پر شکایات ہیں اور جنہوں نے بلوچستان کے عوام کو مسائل و مصائب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس سوال پر کہ بلوچستان کی صورتحال اور دیگر مسائل ملک کا اندرونی معاملہ ہے تو پھر اقوام متحدہ سے اپیل کیوں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کس پر اعتبار کریں، قرآن حکیم سے زیادہ مقدس کوئی چیز نہیں ، وہ تو قرآن پاک پر حلف دینے کے باوجود مکر گئے۔ ایسی صورت میں اب کیسے اعتبار کرسکتے ہیں ۔ سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ ہم پر الزام ہے کہ ہم آئین و قانون کو نہیں مانتے ، عدالتوں کا احترام نہیں کرتے لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جیسے ہی سپریم کورٹ نے حکم دیا، ہم بیرون ملک سے فوراً حاضر ہوگئے لیکن جو حلف اٹھاتے ہیں ، وہ مکر جاتے ہیں ۔ ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ڈائیلاگ ہونے چاہئیں، ہم نے بھی ڈائیلاگ کا دروازہ بند نہیں کیا، لیکن ڈائیلاگ کے لئے فریقین کا ایک دوسرے پر اعتماد بہت ضروری ہے جبکہ یہاں یہ حال ہے کہ انہوں نے اعتماد کے لئے کوئی اقدام نہیںکیا۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلہ پر سپریم کورٹ آخری امید ہے اور وہ مایوس نہیں ہیں ۔ دبئی سے آٹھ سال بعد پاکستان واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ سپریم کورٹ ہی حل کر سکتی ہے ۔ بلوچستان کے مسئلہ پر سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے سابق وزیر بلوچستان اختر مینگل سپریم کورٹ کے حکم پر آٹھ سال بعد دبئی سے اسلام آباد آئے ہین اور وہ بلوچستان امن و امان کیس میں اپنا بیان آج ( جمعرات ) کو ریکارڈ کرائیں گے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر کو حکم دیا تھا کہ وہ سردار اختر مینگل کی اسلام آباد آمد پر سیکیورٹی اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کریں ۔

مزید : صفحہ اول