توہین آمیزفلم، اقوام متحدہ کو قانون سازی کرنی چاہیے، گورنر

توہین آمیزفلم، اقوام متحدہ کو قانون سازی کرنی چاہیے، گورنر

لاہور(نمائندہ خصوصی) گورنر پنجاب سردار محمد لطیف خاں کھوسہ نے کہا کہ تمام مذاہب، عقیدوں اور آسمانی صحیفوں کی عزت و احترام اور ان کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھنے کے لئے بین الاقوامی برادری کو قانون سازی کرنا ہو گی ورنہ اقوام عالم کی طرف سے عالمی امن کی کوششیں بیکار ثابت ہوں گی۔ مسلمان تو کسی بھی پیغمبر اور مذہب کے بارے میں گستا خانہ یا تضحیک آمیز کلمات کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاﺅس میں پاکستان میں جرمنی کے سفیر ڈاکٹر سائرل نن (H.E.Dr.Cyrill Nunn)سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کو اس ضمن میں قانون سازی کرنی ہو گی تاکہ چند مخلوط الحواس اور شرپسند عناصر کو نہ صرف انسانوں کی جذباتی وابستگی سے کھیلنے کی اجازت ہو اور نہ ہی عالمی امن تباہ کرنے حق ۔ خطے میں قیام امن کے سلسلے میں دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے جرات مندانہ اور تاریخی کردار پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن قائم کرنے کی خاطر اپنے سات ہزار فوجی اور پولیس جوان شہید کرائے جبکہ سینتیس ہزار سے زائد معصوم شہری بھی اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں، اس پر بھی اگر کوئی پاکستان کے کردار پر شک اور do moreکا کہتا ہے تو یہ بڑی حیرت اور تعجب کی بات ہے۔ اس موقع پر جرمن سفیر نے پاکستان کے ان ایشوز پر اصولی مﺅقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کردار اس ضمن میں ہمیشہ بڑا واضح اور مثالی رہا ہے۔ سفیر نے کہا کہ کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کے مذہب، عقیدے اور مذہبی رہنماﺅں کے بارے میں دل آزاری کے کلمات کہے۔ جرمن سفیر نے کہا کہ انہیں لاہور آ کر بڑی خوشی ہوئی ہے کیونکہ یہ شہر ثقافتی، تعلیمی اور تجارتی مراکز ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میںا س کی شہرت ہے۔ بعدازاں، گورنر پنجاب سردار محمد لطیف خاں کھوسہ سے آج گورنر اﺅس لاہور میں پنجاب بار کونسل کے6رکنی وفد نے وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل غلام عباس نسوانہ کی سربراہی میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد نے اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے گورنر پنجاب کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے پنجاب بار کونسل کے میڈیکل الاﺅنس روک رکھے ہیں۔ گورنر نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس سلسلے میں پنجاب حکومت کو خط لکھیں گے۔

مزید : صفحہ آخر