اوباما انتظامیہ نے گوانتانا موبے کے قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی شروع کردی،جیل ختم کرنے کا منصوبہ

اوباما انتظامیہ نے گوانتانا موبے کے قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی شروع کردی،جیل ...

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی محکمہ انصاف نے چند روز قبل گوانتاناموبے کے 55 قیدیوں کے نام جاری کئے تھے جن کو رہا کرنے یا ان کے اصل وطن مستقل کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ قیدیوں کی صورت حال واضح نہیں کی تھی تاہم روزنامہ ”پاکستان“ نے محکمہ میں اپنے ذرائع سے رابطہ کرکے اس خلاءکو کافی حد تک مکمل کر لیا ہے جبکہ رہا ہونے والے کل قیدیوں کی تعداد 86 ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق جنوری 2002ءمیں اس جیل میں کل 779 قیدی لائے گئے تھے جن میں سے بہت پہلے 8 قیدی فوت ہو گئے تھے اور 600 کو رہا کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں جولائی 2005ءمیں 242 قیدی جیل سے چلے گئے۔ ان میں سے 173 پر کوئی الزامات نہیں لگائے گئے جنہیں رہا کر دیا گیا جبکہ باقی 69 ملزموں کو ان کے اصل ممالک میں منتقل کر دیا گیا۔

11 فروری 2008ءکو پانچ ملزموں پر سنگین الزامات کے تحت فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی شروع ہوئی جو ابھی تک جاری ہے۔ ان میں خالد شیخ محمد، رمزی بن شبھ، مصطفےٰ احمد ہاساوی، علی عبدالعزیز علی اور ولید بن عطاش شامل ہے۔ گزشتہ ماہ کیوبا کے ساحل پر سمندری طوفان آنے کے سبب ان کے خلاف موت کی ممکنہ سزا کے مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی تھی جو تاحال شروع نہیں ہو سکی۔ صدر اوباما نے یو ایس ایس کول پر بمباری کے ملزم عبدالرحیم ناشیری کو ایک خصوصی کے تحت معاف کر دیا تھا، تاہم فوجی عدالت نے ڈیوڈ کس، سلیم ہمدان اور علی البہلول کو مختلف سزائیں سنائی تھیں۔

مئی 2011ءتک کم از کم چھ قیدیوں کے خودکشی کرنے کے واقعات منظرعام پر آئے تھے، تاہم کچھ قیدیوں نے خودکشی کرنے کی ناکام کوششیں کی تھیں جن میں بیس سالہ پاکستانی نوجوان شاہ محمد بھی شامل تھا۔ قید کے صرف دو سال بعد تیرہ سے پندرہ سال کی عمر کے تین افغان لڑکوں کو رہا کرکے واپس افغانستان بھیج دیا گیا تھا جس کے بعد جیلمیںکوئکم سن قیدی نہیں رہا۔صدر اوباما کی گوانتاناموبے کی جیل کو ختم کرنے کی پالیسی کے تحت اب صرف 169 قیدی باقی رہ گئے تھے جن میں سے ایک قیدی حال ہی میں فوت ہو گئے اور اب موجودہ قیدیوں کی تعداد 167 ہے۔ اس طرح گیارہ سال قبل جیل قائم ہونے سے اب تک کل نو قیدی فوت ہوئے ہیں۔اگرچہ اس بات پر بہتتشویشظاہرکی جا رہی ہے کہ جیل سے رہا ہونے والے کچھ قیدی دوبارہ دہشت گردی کی طرف رجوع کر لیتے ہیں اس کے باوجود اوباما انتظامیہ مرحلہ وار پروگرام کے تحت قیدیوں کو رہا کرنے اور بالآخر جیل ختم کرنے پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر لیبیا میں امریکی سفیر کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کے پیچھے بھی ایسے ہی ایک سابق قیدی کا نام لیا جا رہا ہے۔ اس وقت یمن کی صورت حال بہت خراب ہے۔ اس کے باوجود 25 یمنی قیدی بھی جو اپنے اصل وطن واپس بھیجے جا رہے ہیں۔ ان 86 رہائی پانے والے قیدیوں میں شامل ہیں۔ محکمہ انصاف کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جن قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان میں سوڈان کا رہنے والا اسامہ بن لادن کا ایک باورچی ابراہیم القوسی بھی شامل ہے جسے خرطوم واپس بھیجا جائے گا۔ اس پر دہشت گردی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔

مزید : صفحہ آخر