پاکیتان کو بچانے کےلئے انہا پسندی کیخلاف آواز اٹھا رہا ہے عوام متحدہ کا ساتھ دیں: الطاف حسین

پاکیتان کو بچانے کےلئے انہا پسندی کیخلاف آواز اٹھا رہا ہے عوام متحدہ کا ساتھ ...

کراچی(نیٹ نیوز) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کی آڑ میں ہم اپنے بھائیوں کے گلے کاٹ رہے ہیں عشق رسول کے نام پر چرچ جلانا قابل مذمت فعل ہے ، پرتشدد احتجاج کا طریقہ غلط ہے ، آزادی اظہار کے نام پر کسی پیغمبر کی توہین نہیں ہونی چاہیے امریکہ اور اقوام متحدہ گستاخانہ فلم کا نوٹس لیں، میں پاکستان بچانے کے لئے انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھا رہا ہوں، محب وطن پاکستانیوں سے آگے آنے کے لئے فریاد کرتا ہوں، پاکستانی عوام ایم کیو ایم کا ساتھ دیں ہم ملک کو ترقی پسند اور لبرل سیکولر بنادیں گے، اگر اب بھی آپ نے کوئی اقدامات نہ کئے تو سیاست سے علیحدہ ہوجاﺅں گا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ”عشق رسول اور ہمارا رویہ“ پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اقوام متحدہ گستاخانہ فلم کا نوٹس لیں، آزادی اظہار کی آڑ میں کسی پیغمبر کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیا رسول سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو قتل کردیاجائے، احتجاج کی آڑ میں ہم اپنے بھائیوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ لوٹ مار کی گئی، کراچی اور پشاور میں سنیماﺅں کو آگ لگا دی گئی ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، اے ٹی ایم کاٹنے کے کٹرز مظاہرین کے پاس تھے، یوم عشق رسول پر ہنگامہ آرائی اور جلاﺅ گھیراﺅ کیاگیا ، یہ لوگ عشق رسول کے نام پر چرچ جلا دیا جو قابل مذمت فعل ہے ۔ الطاف حسین نے کہا کہ جدید اسلحے سے لیس عناصر نے کراچی، اسلام آباد اور پشاور میں لوٹ مار کی، اقوام متحدہ اور او آئی سی نیند سے جاکیں۔ آپ لبرل، سیکولر پاکستان چاہتے ہیں یا طالبان کا پاکستان، میں پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں، ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ میں پاکستان بچانے کے لئے انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھا رہا ہوں، کرمنلز اور غنڈوں کا ملک پر قبضہ ہوچکا ہے ، آپ پر منحصر ہے پتھر کے دور میں لے جانے والوں کا ساتھ دیں یا پاکستان بچانے والوں کا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو مجرمانہ خاموشی ختم کرنا ہوگی، محب وطن پاکستانیوں سے فریاد کرتا ہوں پاکستان بچانے کے لئے آگے آئیں، پاکستانی عوام ایم کیو ایم کا ساتھ دیں ، ہم ملک کو ترقی پسند اور لبرل سیکولر بنادیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عشق رسول ہے تو کاروکاری کا خاتمہ کرنا ہوگا، جب الطاف حسین نے آواز اٹھائی تو سب سو رہے تھے، اگر اب بھی آپ نے کوئی اقدامات نہ کئے تو سیاست سے علیحدہ ہوجاﺅں گا۔

مزید : ایڈیشن 1