نواں کوٹ کا علاقہ ڈاکوﺅں کے نرغے میں،چوری ڈکیتی کی وارداتیں معمول

نواں کوٹ کا علاقہ ڈاکوﺅں کے نرغے میں،چوری ڈکیتی کی وارداتیں معمول

لاہور (لیاقت کھرل) تھانہ نواں کوٹ جو کہ شہر کے تاریخی اور پرانے تھانوں مین سے ایک جرائم کے اعتبار سے صدر ڈویژن کے تھانوں میں پہلے اور دوسرے نمبر پر اس تھانے کی حدود میں شاہراﺅں اور سڑکیں ڈاکوﺅں کے نرغے میں، جبکہ گلی کوچوں میں سٹریٹ کرائم اور مارکیٹوں اور تجارتی سنٹروں کے ارد گرد موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بناکے رکھ دی ہیں۔ ”روزنامہ پاکستان“ کے تھانہ نواں کوٹ کے سامنے سائلین کے مسائل سنے اور تھانے کی حدود میں واقع آبادیوں سوڈیوال کوارٹرز، طارق کالونی، بی بلاک اور سی بلاک سمیت ماجرہ آباد کا سروے کیا تو شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس مقدمات کے اندراج کیئے جائیں تو تھانے والے گیٹ سے ہی ٹرخا دیتے ہیں۔ اس موقع پر تھانے کے اعداد وشمار اور ریکارڈ کی تفصیلات حاصل کرنے پر یہ بات سامنے آئی کہ اس تھانے کی حدود میں گزشتہ سال کی نسبت اس سال جرائم کی شرح بڑھی ہے اورپولیس نے اس کے مقابلہ میں مقدمات کے اندراج کم کیے ہیں اور اس کے باوجود تھانے میں درج ہونے والے مقدمات میں ملوث 150 سے زائد ایسے خطرناک اشتہاریوں کو بھی گرفتار نہیں کرسکی جن کے خوف سے علاقے میں مکینوں کی زندگیاں اجیرن بن کررہ گئی ہی ں اور رواں سال میںپولیس نے جو ڈکیتی ی سنگین وارداتوں کے 18 مقدمات درج کررکھے ہیں ان میں سے پولیس کی ایک ملزم کو بھی گرفتار نہیں کرسکی ہے۔ جبکہ تھانے کی حدود میں مارکیٹوں، تجارتی سنٹروں اور گلی کوچوں میں موٹرسائیکل چوری کی متعدد وارداتوں میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہونے پر پولیس نے موٹرسائیکل چوری کے صرف 98 مقدمات درج کررکھے تھے اور 150 سے زائد شہریوں کو ٹرخا دیا گیا تھا۔ اس موقع پر یہ بھی بات سامنے آئی کہ پولیس قتل وغارت کے 5 سنگین واقعات مین پیش رفت کو حاصل کرسکی لیکن انوسٹی گیشن نے قتل کے مقدمات میں خوب ”دیہاڑیاں“ اور کمائی کی ہے اور تھانہ نواں کوت جہاں نامور پولیس انسپکٹر ایس ایچ اوز رہ چکے ہیں کہ اب ایس پی اور ایس ایس پی عہدہ تک ترقی پاچکے ہیں۔ اس کے باوجود اس تھانے کی حدود سے جرائم کی شرح میں کمی نہیں آسکی ہے۔ ”روزنامہ پاکستان“ جب شہریوں کے مسائل سنے تو تھانے آنے والے شہریوں حاجی حسان الدین، انور علی خان، حاجی دوست محمد، حاجی اسلم خان، شفقت نیازی اور ناظم حسین سمیت احسن علی نے بتایا کہ اس تھانے کی حدود میںجو بھی بڑا واقع پیش آیا پولیس ناکام رہی ہے اور ڈیڑھ ماہ قبل دو افراد کے ہاتھوں ایک خاتون فوزیہ کے قتل کے واقعہ مین بھی پولیس انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے جس پر اس تھانے کی حدود میں ڈکیتی اور راہزنی سمیت سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اجافہ ہوکررہ گیا ہے اور اس میں شاہراﺅں اور سڑکوں سمیت گلی کوچوں مں شہری اپنے آپ کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کرنے لگے ہیں۔ اس موقع پر بیوہ عورت فرزانہ نے بتایا کہ اس تھانے میں تعینات تھانیدار منظور اور اس کے بیٹوں نے اس کی دو جواں سالہ بیٹیوں مائزہ اور فائزہ کو اغوا کرلیا اور بدکاری کے اڈوں کی نذر کرکے کمائی کھاتے رہے۔ پولیس نے ٹال دیا اور تھانیدار خود ہی پنچائیتی بن گیا۔ اس موقع پر شہریوں حاجی محمد افضل، حاجی رفاقت علی اور جاوید احمت سمیت قیصر عزیز اور عامرسلیم نے بتایا کہ اس تھانے کی حدود میں ہونے والے جرائم سے علاقے کا ہر شہری پریشان اور تھانے کی پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1