کبوتر بازی ”کبوتر پروری“کا نام دیدیا گیا،اب فارغ لوگوں کا نہیں امرا کا کھیل بن گےا

کبوتر بازی ”کبوتر پروری“کا نام دیدیا گیا،اب فارغ لوگوں کا نہیں امرا کا کھیل ...

لاہور(زاہد علی خان سے) کبوتر بازی کو” کبوتر پروری“ کا نام دیدیا گیا اور اس پر باقاعدہ کتابیں بھی لکھیں جارہی ہیں پاکستان میں ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت کبوتروں کے 12ہزار سے زائداڈے ہیں اور اس کے لئے کبوتروں کے شوقین افراد کبوتروں کی دیکھ بال پر لاکھوں روپے خرچ کررہے ہیں۔ لاہور میں ہزاروں افراد اس شوق سے منسلک ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 20سال کے دوران کبوتر بازی کی وجہ سے 2ہزار سے زائد افراد مختلف واقعات میں موت کی نیند سلا دیئے گئے ہیں۔ کبوتر بازی اب محض کبوتر بازی نہیں رہ گئی بلکہ اس کی باقائدہ اس کی ایک ایسو سی ایشن بھی بن گئی ہے جس میں بااثر اور امیر ترین لوگ بھی شامل ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق کبوتر بازی کا شوق 700سال قبل شروع ہوا تھا بابر بادشاہ نے اس کی افتتاح کی بعد از اں وہ ایران اور ترکمانستان کے راستے برصغیر میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ اپنے پالتو کبوتر بھی لے آئے یہ شوق اکبر بادشاہ کے دور میں مزید زور پکڑ گیا اور تقریباً ہر چھٹی کے روز اس کے باقائدہ مقابلے ہوتے تھے اور جو کبوترسب سے زیادہ دیر تک فذا میں رہتا اس کے مالک کو شاندار کھانے کھلائے جاتے اور اسے انعامات بھی دیئے جاتے ۔ رپورٹ کے مطابق بادشاہوں نے اپنے کبوتروں کو ٹرینڈ کرنے کے لئے ٹرینی بھی رکھے ہوئے تھے۔جن کو بھاری معاوضے دیئے جاتے تھے اگر کوئی ٹرینی کبوتر کو زیادہ مہارت سکھاتا تو اس کا اسپیشل انعام رکھاجاتا۔700سال قبل بھی کبوتر بازی کے مقابلے ہوتے تھے اور بادشاہ کے ساتھ وزراءدرباری اور دیگر لوگ بھی اس میں شرکت کرتے اور انہیں بھی موقع دیا جاتا کہ وہ کبوتر بازی دیکھیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کھیل امیروں، نوابوں، مہاراجوں اور امیر لوگوں کا کھیل تھا۔برصغیر میں آنے کے بعد اس شوق میں غلط لوگ شامل ہوگئے جس کے بعد ان پر جواءلگایا جاتا تھا کبوتر بازی سے لڑائی جھگڑے اور بے کار رہنا بھی شامل تھا،کیونکہ کبوتر باز جب کبوتر اڑاتا یا اس کا کبوتر اڑ جاتاتو وہ اپنے کبوتر کی واپسی کے لئے دو دو دن اپنے کبوتروں کے اڈے کے پاس بھوکا پیاسا بھی رہتا تھا جس کے بعد یہ بات زور پکڑ گئی کہ کبوتر بازی جرائم پیشہ اور فارغ لوگوں کا کھیل ہے۔20سال قبل کبوتر کے شوقین افراد نے ”پاکستان پیجنز کلب“ کی بنیاد رکھی اور اس کی ممبر شپ کی گئی، یہ کلب پاکستان بھر میں ہر سال کبوتروں کی پرواز کے مقابلے کروا رہا ہے۔ اب سے کھیل فارغ لوگوں کا نہیں بلکہ امیر ترین لوگوں کا کھیل بنتا جارہا ہے۔ مقابلے کے بعد جیتنے والے کو نقد انعام کے علاوہ موٹر سائیکل اور کاریں اور دیگرانعام بھی دیئے جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق کلب کے 36ہزار ممبران ہیں جبکہ صرف لاہور شہر میں 10لاکھ سے زائد کبوتر پال رکھیں ہیں،ایک کبوتر کی قیمت 300سے 500 اور خاص کبوتر 5ہزار سے لے کر 10ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے۔ کبوتروں کی کئی اقسام ہیںجس میں لکی کبوتر سب سے اہم سمجھا جاتا ہے اور سے خوبصورت بھی ہوتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1