سسرالیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی شمیم کے قاتل کا ٓئی جی پنجاب نے نوٹس لے لیا

سسرالیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی شمیم کے قاتل کا ٓئی جی پنجاب نے نوٹس لے لیا

لاہور (خبر نگار) الطاف کالونی کینٹ میں سسرالیوں کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد کے بعد ہلاک ہونے والی خاتون شمیم اختر کی ہلاکت کی ”پاکستان“ میں خبر شائع ہونے پر آئی جی پولیس نے نوٹس لے لیا اور آئی جی پولیس پنجاب کے حکم پر ایس پی کینٹ انوسٹی گیشن کی نگرانی میں ایک ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر پولیس کی ٹیم نے ہلاک ہونے والی شمیم اختر کی والدہ، بیٹوں اور خاندان کے دیگر افراد کا بیان ریکارڈ کیاجبکہ پولیس کی ٹیم نے مقتولہ کی نند ریحانہ کوپہلے حراست میں لے لیا اور بعد میں لڑکی ریحانہ کی طبیعت خراب ہونے پر آج صبح تفتیش کے لئے طلب کرلیا ہے۔ اس موقع پر تفتیشی ٹیم نے شمیم اختر کی ہلاکت میں حراست میں لئے جانے والے محمد افضل سے بھی پوچھ گچھ کی اور مزید تفتیش کے لئے آج صبح دوبارہ تھانہ شمالی چھاﺅنی اور جائے وقوعہ کا دوبارہ معائنہ کرنے کا کہا ہے۔ تفتیشی ٹیم کے مطابق ہلاک ہونے والی شمیم اختر کی ہلاکت میں اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ آیا شمیم اختر کو تشدد کرنے میں کون اور کتنے افراد ملوث ہیں اور شمیم اختر کو ریحانہ نے تشدد کے بعد گھر کی بالائی منزل پر کیسے پہنچایا اور جہاںخودکشی کا ڈرامہ رچانے کے لئے شمیم اخترکوباتھ روم کے ٹی آئرن کے ساتھ لٹکایا گیا۔ اس بات کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ تفتیشی ٹیم کے ایک رکن ڈی ایس پی نے بتایا کہ شمیم اختر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے تشدد کانشانہ بنایا گیا تاہم معدے کے سیمپل حاصل کرکے کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ کے لئے بھجوا دیئے گئے ہیں اور کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ کے مطابق قتل یا ہلاکت کا معمہ حل ہوجائے گا۔ دوسری جانب شمیم اختر کی ہلاکت پر گزشتہ روز بھی سوگ کا سماں رہا اور پولیس کی تفتیشی ٹیم کے آنے پر اہل علاقہ سراپا احتجاج بن گئے اور پولیس حکام سے انصاف کا مطالبہ کیا۔

مزید : ایڈیشن 1