مینگل نے بلوچستان میں امن کیلئے تجاویز دیدیں،حکومت اورفوج سے جواب طلب،قو م دیکھے گی عدالت کہاں تک جاتی ہے:چیف جسٹس

مینگل نے بلوچستان میں امن کیلئے تجاویز دیدیں،حکومت اورفوج سے جواب طلب،قو م ...
مینگل نے بلوچستان میں امن کیلئے تجاویز دیدیں،حکومت اورفوج سے جواب طلب،قو م دیکھے گی عدالت کہاں تک جاتی ہے:چیف جسٹس

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے سول اور فوجی قیادت سے بلوچستان میں بدامنی کے خاتمے کے اقدامات پر رپورٹ کل تک جمع کرانے کا حکم دے دیاہے اور سردار اختر مینگل کے ریکارڈ کئے گئے بیان پر وزیراعظم، آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے سربراہان سمیت متعلقہ حکام کا ردعمل بھی مانگا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران اختر مینگل نے کہا کہ تمام قومی اداروں سے ان کا اعتماد اٹھ چکا ہے مگر 65 سالہ نا انصافیوں کے ازالے کیلئے عدالت سے امید کی کرن نظر آئی ہے، لاپتہ افراد کا مسئلہ ملکی اداروں سے نکل کر عالمی اداروں میں پہنچ چکا ہے، بلوچستان میں پانچ بار فوجی آپریشن کر کے معافی مانگ لی گئی اور بلوچوں کو صرف تسلیاں دی گئیں، ٹھوس اقدامات کے بغیر معافی مانگنے یا پیکیج دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حقیقی قیادت کو ہٹا کر مصنوعی قیادت سامنے لائی گئی جبکہ خفیہ ایجنسی کے ڈیتھ سکواڈ قوم پرستوں کو ختم کر رہے ہیں، مسخ شدہ لاشیں کسی سردار یا نواب کی اولاد نہیں بلکہ سیاسی ورکروں کی ہیں، اکبر بگٹی کے قاتل گرفتار کئے جائیں۔ انہوں نے بلوچستان کی صورتحال میں بہتری کیلئے عدالت کے سامنے چھ تجاویز بھی پیش کیں جن کے مطابق بلوچوں کے خلاف خفیہ اور ظاہری فوجی آپریشن بند کئے جائیں، تمام لاپتہ افراد کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، آئی ایس آئی اور ایم آئی کی نگرانی میں کام کرنے والے ڈیتھ سکواڈز ختم کئے جائیں، بلوچ سیاسی جماعتوں کو ایجنسیز کی مداخلت کے بغیر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے، بلوچ سیاسی رہنماﺅں کے قتل اور ان پر غیر انسانی تشدد میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، بے گھر بلوچوں کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ بڑا سوالیہ نشان ہے، قوم دیکھے گی کہ عدالت اس کیس میں کس حد تک جاتی ہے، اس کیس کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو اس مقدمہ میں کیس ٹو کیس سماعت کریں گے جبکہ قانون کے تحت ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل ٹرائل کورٹ بھی بنائی جا سکتی ہے۔ درخواست گزار وکیل کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کیلئے نہیں بلکہ دست و گریباں ہونے آتے ہیں، ان کے رویئے سے ہی اس معاملے میں حکومتی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مزید : اسلام آباد