ہے تو ”سیکھو“ہی نا۔۔۔

ہے تو ”سیکھو“ہی نا۔۔۔
ہے تو ”سیکھو“ہی نا۔۔۔

  


لندن(بیورورپورٹ)ایک مقامی یونیورسٹی میں زیر تعلیم سکھ سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کی صدر مس بل پریت کور نے کہا ہے کہ بعض منچلے نوجوانوں کی طرف سے اسکی داڑھی والی تصاویر ویب سائٹ پر جاری کرنے کا اسے کوئی دکھ نہیں، بچپن میں ہی اسکی داڑھی کے بال اگنا شروع ہو گئے تھے مگر سکھ مذہب پر کار بند رہتے ہوئے اس نے اپنے داڑھی کے بال نہ تو اکھاڑے اور نہ ہی شیو کی کیونکہ اسے سکھ مذہب کے پانچ اصولوں ‘ بال ’ پگڑی ‘ کرپان ‘ سٹیل کا کڑا اور کنگھی کیخلاف سمجھا جاتا ہے وہ سر پر سکھ مذہب کے عین مطابق پگڑی پہنتی ہے اور جسم کے بال اتارنا بھی گناہ عظیم تصور کرتی ہے اس نے کہا ہے کہ بعض گورے اور خواتین اس پر آوازیں کستے ہیں مگر اسے اسکی قطعا کوئی پروا نہیں، اسے صرف اتنا پتہ ہے کہ اس نے اپنے مذہب پر سختی سے قائم رہنا ہے اور وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتی جس سے ان کے گرو ناراض ہو جائیں ہاں البتہ اسے اس امر پر فخر ہے کہ وہ دنیا کی واحد ایسی دوشیزہ ہے جسکی داڑھی اس قدر ہے کہ لوگ اسے مرد سمجھتے ہیں ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس