اقوام متحدہ میں نریندر مودی کا ہندی میں خطاب

اقوام متحدہ میں نریندر مودی کا ہندی میں خطاب
اقوام متحدہ میں نریندر مودی کا ہندی میں خطاب

  



یہ خبر تو دو ہفتے پہلے آپ کی نظروں سے گزر چکی ہو گی کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے تو یہ خطاب ہندی میں ہوگا، انگریزی میں نہیں۔

بھارت کے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ میں نے بھی ایک بار اقوام متحدہ میں ہندی میں تقریر کی تھی۔ان کے علاوہ اٹل بہاری باجپائی، بھارت کے پہلے وزیراعظم تھے، جنہوں نے اقوام متحدہ میں ہندی زبان میں خطاب کیا تھا۔آپ اگر بھارتی میڈیا کو پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مودی صاحب جب بھی کسی غیر ملکی مہمان سے گفتگو کرتے ہیں تو ہندی زبان میں ہی کرتے ہیں۔15 اگست کو دہلی کے لال قلعہ میں انہوں نے جو تقریر کی تھی، وہ بھی ہندی میں تھی۔

آپ شائد یہ سمجھتے ہوں کہ مودی صاحب کو انگریزی نہیں آتی۔ نہیں، ایسی بات نہیں ہے، وہ انگریزی جانتے ہیں، اور خوب جانتے ہیں....البتہ اتنی نہیں جتنی اپنی زبان.... سکول میں میڑک تک انگریزی بھی پڑھی۔ والدین غریب محض تھے۔مودی کے 5بھائی بہن اور تھے ۔ والد واڈنگر (Vadnagar) ریلوے سٹیشن پر چائے کا کھوکھا لگاتے تھے۔ ذرا بڑے ہوئے تو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر بسوں کے اڈے پر چائے کی دکان کھول لی۔سترہ برس کی عمر میں 1969ءمیں جب میٹرک کا امتحان پاس کیا تو ان کے اساتذہ کے مطابق وہ ایک اوسط درجے کے سٹوڈنٹ تھے۔ البتہ سکول میں تقریری مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے اور ہاں ان کی ایک ہابی اور بھی تھی اور وہ تھی تھیٹر دیکھنا اور اس میں بطور اداکار حصہ لینا....

ٹی سٹالوں میں چائے فروشی، سکول کی بزمِ ادب میں بحث و مباحثے و تقریریں اور تھیٹر کا شوق، وہ تین عناصر ہیں جو ان کی سیاسی زندگی میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہے۔ آج بھی ان کی طبیعت کا انکسار، کھرا کھرا لین دین، کاروبار کو صرف میکرو نہیں ،بلکہ مائیکرو لیول تک پرکھنا اور برتنا اور سیاسی زندگی میں ڈرامائی انداز و اطوار، ان کی نمایاں خصوصیات شمار ہوتی ہیں.... دیکھیں تو سہی ایک پرچون فروش خاندان اور تیلی ذات کا غریب فرد، آج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا پردھان منتری ہے!

بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اونچی جاتی کے کشمیری برہمن تھے۔ایک معروف سیاسی شخصیت اور بیرسٹر موتی لعل نہرو کے فرزند ارجمند تھے، مالدار تھے، حسین و جمیل فیملی سے تعلق تھا۔خودبھی کچھ کم سمارٹ نہ تھے۔یقین نہ آئے تو آخری وائسرائے ہند کی اہلیہ،مسز ایڈوینا ماﺅنٹ بیٹن کی تحریریں پڑھ کر دیکھ لیں....! ان کی کتابیں آج بھی یورپ میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں۔ انگریزی میں ان کی تصانیف کو دیکھیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی انگریزی زبان میں کی گئی تقریروں کو سنیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ بھگوان نے ان پر کِرپا کے کتنے ڈھیروں ڈونگرے برسا دیئے تھے۔

لیکن دوسری طرف بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندرمودی کو دیکھیں کہ ذات کے تیلی ہیں، بڑی مشکل سے سیکنڈ ڈویژن میں میٹرک پاس کیا،18برس کی عمر میں خاندان ہی میں شادی کی، لیکن جلد ہی علیحدگی ہوگئی۔آج تک نہ وہ کنوارے ہیں نہ ”گھر والے“۔ان کی پتنی اگر کہیں ہیں بھی تو غیر ملکی سفروں میں ان کے ساتھ نہیں جاتیں۔مودی صاحب نے ساری زندگی اپنی شادی کو خفیہ رکھا اور مئی 2014ءکے جو الیکشن ہوئے اس میں اپنے کاغذات جمع کرواتے وقت اس بات کا اقرار کیا کہ ان کی پتنی زندہ ہیں۔میں جب ان کے حالات زندگی پڑھ رہا تھا تو بار بار نجانے میرے سامنے پنڈت نہرو اور نریندر مودی کا موازنہ کرتے ہوئے وہ محاورہ یا ضرب المثل کیوں آ جاتی تھی جو لغوی اعتبار سے بھارت جیسے بڑے ملک کی ان دو بڑی شخصیات پر عین مین صادق آتی ہے۔یعنی کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگا تیلی!.... کہاں راجہ نہرو اور کہاں مودی تیلی!!

لیکن بھگوان کے کھیل نیارے ہیں۔ وہ نہ راجہ دیکھتا ہے نہ تیلی.... نہ برہمن اس کی نظر میں بڑا ہے اور نہ نچلی ذات کا کوئی مودی اس کی نگاہ میں چھوٹا ہے۔وہ جسے چاہے نوازتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے.... نریندر مودی کی استقامت کو سلام۔اس نے نہ اپنے خاندانی پس منظر کو کبھی احساسِ محرومی کا مظہر گردانا اور نہ اپنی دیسی تعلیم کو اپنی سیاسی جدوجہد میں حائل ہونے دیا۔ سیاسی زندگی کے ساتھ ساتھ وہ اپنی تعلیم کی طرف بھی متوجہ رہے۔1978ءمیں جب ان کی عمر 28برس تھی تو انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کی۔ ہماری علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرح دہلی یونیورسٹی کی ایک شاخ بھی بذریعہ خط و کتابت تعلیم و تدریس کا بندوبست کرتی ہے۔ بھارت میں اس کو دوردیش کی تعلیم (Distant Education) کہا جاتا ہے ....اور پھر اس کے پانچ برس بعد 1983ءمیں گجرات یونیورسٹی سے ایم اے پولیٹیکل سائنس کی ڈگری لی۔لہٰذا یہ خیال کرنا کہ بھارتی وزیراعظم، انگریزی سے بیگانہ ءمحض ہیں اور اس لئے غیر ملکی وفود کے ساتھ انگریزی میں مکالمہ نہیں کر سکتے، بالکل غلط ہے۔وہ اس تاثر کو زائل کرنا چاہتے ہیں کہ برصغیر ہندو پاک میں ہندوﺅں، مسلمانوں اور سکھوں نے انگریز کی غلامی میں جو انگریزی سیکھی ،اسی زبان کے فیضِ تربیت سے اس خطے کا مستقبل اور صرف انگریزی تعلیم ہی سے وابستہ ہے۔یہی وہ تاثر ہے جو ہم پاکستانیوں کی رگ رگ میں بھی سرائت کئے ہوئے ہے۔

 ہم جب بھی کسی بین الاقوامی فورم میں جاتے ہیں، جب بھی فارن ڈیلی گیشنوں سے انٹر ایکشن کرتے ہیں تو اپنی انگریزی دانی کی ڈینگ مارنے سے باز نہیں آتے ! ہمارے سیاستدان جب پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہیں تو فصیح و بلیغ اردو میں کرتے ہیں، لیکن جب بیرونی ممالک کے دورے پر ہوتے ہیں تو جیب سے ایک ٹائپ شدہ کاغذ نکال کر منمنانے لگتے ہیں! ان کو کون سمجھائے کہ ایک تو زبانِ غیر میں شرحِ آرزو بہت مشکل ہوتی ہے اور دوسرے اپنی زبان کا ایک اپنا افتخار ہوتا ہے جو مخاطب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کی نفسیاتی برتری تسلیم نہیں کرتا۔

بھارتی وزیر داخلہ کا بیان ہے کہ بھارت کے 55 فیصد باشندے ہندی بولتے ہیں، جبکہ 85سے 90فیصد تک ہندی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ زبان ان کی مادری زبان نہیں۔البتہ بھارتی وزیرداخلہ نے یہ انکشاف نہیں کیا کہ جس زبان کو وہ ہندی کہتے ہیں اور جو 55فیصد ہندوستانیوں کی زبان اور سارے بھارت کی لنگوافرانکا ہے وہ وہی ”اردو“ ہے جو پاکستان کی قومی زبان بھی ہے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے اوپر عرض کیا، ہمارے لیڈر اپنی قومی زبان بولنے سے کتراتے ہیں۔ہمارے وزیراعظم کو بھی چاہیے تھا کہ وہ اقوام متحدہ میں انگریزی کی بجائے اردو میں تقریر کرتے اور یوں اردو کو ایک بین الاقوامی زبان کا درجہ دلوانے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالتے۔

نریندر مودی نہ صرف کٹر بھارتی ہیں، بلکہ کٹر ہندو بھی ہیں۔وہ جس قسم کی ہندی بولتے ہیں، وہ ان کے اپنے وطن مالوف(صوبہ گجرات) میں بھی نہیں بولی جاتی۔بھارت کا 90فیصد طبقہ ءآبادی اس ہندی کو نہیں سمجھ پاتا جو مودی صاحب بولتے ہیں۔اس تضاد عملی کی بھی وجوہات ہیں:

سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اردو اور اس کا رسم الخط تقریباً عربی زبان سے ملتا جلتا ہے جو قرآن کی زبان ہے.... دوسرے یہ پاکستانیوں کی لنگوا فرانکا بھی اردو ہے.... لیکن مودی صاحب اپنے اہل وطن کو اس بھاری بھرکم سنسکرت آمیز زبان کا درس دینا چاہتے ہیں جو خود ان کو بھی بڑی مشکلوں سے سیکھنی پڑی ہوگی۔ وہ زبان جس میں وہ آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے وہ مشکل، ادق، نامانوس اور اجنبی الفاظ و تراکیب سے لبالب ہے۔مودی صاحب کی پارٹی کی زبان خواہ کچھ بھی ہو، اس پارٹی کے کرتا دھرتا حضرات نے گویا سوگند اٹھا رکھی ہے کہ وہ بھارت کی عام فہم لنگوافرانکا کے علی الرغم سنسکرت آمیز ہندی کی ”جی بھر کر“ ترویج کریں گے۔یادش بخیر جناب اٹل بہاری باجپائی کی زبان بھی وہی تھی جو حضرت مودی کی ہے۔باجپائی اگرچہ شاعر تھے اور شاعری میں سنسکرت کے بوجھل الفاظ کم کم ہی بار پاتے ہیں، لیکن وہ ارادتاً اور سوچ سمجھ کر ایسے ایسے ادق الفاظ شعروں میں استعمال کرتے تھے جو ان کے اپنے گھر میں بھی نہیں بولے جاتے تھے.... جناب مودی اپنے سابق بی جے پی لیڈر سے کئی ہاتھ آگے ہیں۔وہ شاعر تو شائد نہیں ہوں گے، لیکن انہوں نے ہندی نثر کو مزید بوجھل بنانے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔مَیں جمعرات کے روز ان کی ایک تقریر سن رہا تھا جو انہوں نے بیرون ملک بسنے والے بھارتی سرمایہ کاروں کے سامنے کی تھی۔وہ فی البدیہہ بولتے ہیں اور ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ خالص اور مشکل ہندی کو نہ صرف ملک میں بلکہ ملک سے باہر بھی متعارف کروانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ان کی آج کی اقوام متحدہ کی تقریر کو جو بھی بھارتی انٹر پریٹر انگریزی زبان میں بیک وقت ترجمہ کرکے نشر کررہا ہوگا، اس کو بھی داد دینی چاہیے۔

بیرون ملک رہنے والے بھارتی سرمایہ کاروں کو مودی صاحب نے جس بھرپور اور زوردار انداز میں ہندوستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، وہ ان کے اس زورِ استدلال کی غماز تھی جو ان کا دین دھرم بن چکا ہے۔کسی بھی سطح کا قومی لیڈر آج کی دنیا میں معیشت کو پس پشت ڈال کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔بھارتی وزیراعظم کو بھی اس کا شدید احساس ہے، جس کے لئے وہ سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں ۔ان کی اس نوع کی کوششوں پر ایک الگ کالم کی ضرورت ہے! ٭

مزید : کالم


loading...