مودی سرکار کی ہار

مودی سرکار کی ہار
مودی سرکار کی ہار

  




  اس سال16مئی کو جب بھارتی لوک سبھا کے انتخابی نتا ئج سامنے آئے اور ان میں مودی کی زیر قیا دت بی جے پی کو زبر دست کا میا بی ملی تو اس کا میا بی پر بھا رت کے کئی صحا فتی اور سیا سی حلقوں کے ساتھ دنیا ،خاص طور پر مغرب میں بھی یہ موقف اختیا ر کیا گیا کہ بھارت کی جمہوریت نے ذات پات،موروثی سیا ست، نسلی و لسانی تعصبا ت کی سیا ست کو مسترد کر کے معا شی ایجنڈے اور ایشوز ہی کی بنا پر اپنا فیصلہ صادر کیاہے۔ اس موقف کے حامیوں کے مطا بق نریند ر مودی کے گجرات ماڈل یا معاشی پرو گرام کو بھا رت کے مسلما نوں، دلتوں ، اور نچلی ذاتوں کے ووٹرز نے بھی قبول کر کے ثابت کر دیا کہ اب بھا رت میں ذات پات یا موورثی سیا ست کی گنجا ئش نہیں رہی۔ خود پاکستان میں بھی ایسے صحا فتی اور سیا سی حلقوں کی کمی نہیں تھی کہ جو ان بھا رتی انتخابا ت کو بنیا د بنا کر یہ دعویٰ کرنا شروع ہوگئے تھے کہ اب بھارت کے ووٹرز نے ذات پات کی سیا ست اور موروثی سیا ست کو مسترد کر دیا ہے۔یہ حلقے بھارت کی مثال سے ایسا تاثر دیتے تھے کہ اگر جمہو ریت کے تسلسل کو برقرار رکھا جا ئے تو کسی قسم کی اصلا حات کے بغیر ہی جمہو ری نظام سے موروثی سیا ست، کر پشن، لسانی اور نسلی سیا ست کا خا تمہ ہو جاتا ہے۔یقیناًبھا رت کی تہذیبی، سیاسی اور سب سے بڑھ کے سما جی صورت حال کا تھوڑا بہت بھی ادرا ک رکھنے والے تجز یہ نگا راس وقت بھی ایسے دعووں کو مضحکہ خیز قرار دے رہے تھے۔

اب بھا رتی لوک سبھا کے نتا ئج آنے کے صرف چار ما ہ بعد ہی ایسے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔حال ہی میں لوک سبھا کا الیکشن جیتنے والے اراکین کی جانب سے جن ریا ستی نشستوں کو خالی کیا گیا ان پر ہو نے والے ضمنی انتخابا ت نے مودی لہر کے غبا رے سے ہوا نکا لنے کے ساتھ ساتھ کئی مفروضا ت کو بھی سراسر غلط ثا بت کر دیا۔16ستمبر کو اتر پر دیش، راجستھان، گجرات، اور مغربی بنگال میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو ان نشستوں سے شکست ہوئی کہ جن نشستوں پر بی جے پی نے مئی کے لوک سبھا انتخابات میں بھر پور کا میا بی حاصل کی تھی۔جب کہ اس سے پہلے اگست میں بہا ر، اتر اکھنڈ، مدھیہ پر دیش اور پنجا ب میں ہو نے والے ضمنی انتخا با ت میں بھی بی جے پی اور اور اس کے حامیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔بھا رت کی سب سے بڑی ریا ست یوپی کہ جہاں لوک سبھا کی کل 80نشستوں میں سے بی جے پی نے مئی کے لوک سبھا انتخابات میں 73نشستوں کوحا صل کیا تھا۔ اب 11ریا ستی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی اور اس کے اتحادی اپنا دل صرف 3نشستیں لینے میں ہی کا میا ب ہوئے۔یوپی کے ان ضمنی انتخابا ت میں نچلی ذات کی سیا ست کی علمبردار جما عت سماج وادی پا رٹی 8نشستیں لے کر کا میاب ہوئی۔ سما ج وادی پا رٹی اتر پردیش کی حکمران پا رٹی ہے اور اس پا رٹی کے سربراہ ملا ئم سنگھ یا دیوکے بیٹے اکھلیش یا دیوبھا رت کی اس سب سے بڑی ریا ست کے وزیر اعلی ہیں۔ سما ج وادی پا رٹی کو مئی میں ہونے والے لوک سبھا انتخابا ت میں بی جے پی کے ہا تھوں زبر دست شکست کامنہ دیکھنا پڑا تھا۔

سماج وادی پارٹی 80نشستوں میں سے صرف 5نشستیں ہی حا صل کر پا ئی تھی۔ ان پانچ نشستوں پر بھی سماج وادی پارٹی کے جو امیدوار کا میا ب ہوئے تھے ان کا تعلق ملا ئم سنگھ یا دیو کے خاندان سے ہی تھا۔ ان ضمنی انتخابا ت میں ملائم سنگھ یا دیو اپنے پوتے کو بھی اسمبلی میں لا نے میں کا میاب ہوگئے۔ یوں اپنی بہو اور کئی رشتے داروں کے ساتھ ملا ئم سنگھ یا دیو نہ صرف لوک سبھا کی 5نشستوں پر براجما ن ہیں، بلکہ ان کا بیٹا ریا ست کا وزیر اعلی بھی ہے۔کلا سیکل بنیا دوں پر موروثی سیاست کی یہ مثا ل بھارت میں صرف یوپی تک ہی محدود نہیں، بلکہ بھا رت کی اکثر ریا ستیں اس موروثی سیا ست کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں جمہوریت کے نا قدین جب پا کستان میں موروثی سیاست کو بنیا دبنا کر جمہو ریت کو برا بھلا کہتے ہیں تو انہیں بھا رت کی مثا لوں کو بھی ذہن میں رکھنا چا ہیے۔کیونکہ بھارت میں کوئی بھی اس بنا ء پریہ مطا لبہ نہیں کرتا کہ چونکہ بھا رت میں موروثی سیا ست ہے اسلئے اس کا بسترا لپیٹ دیا جائے۔موروثی سیا ست یقیناً سیا ست میں میرٹ اور ایمانداری کو کینسر کی طرح کھو کھلا کر دیتی ہے ،مگر اس کینسر کا علاج کسی آمریت سے نہیں، بلکہ معاشی اور سیا سی اصلاحات سے ہی ممکن ہے۔

یوپی کے ان حالیہ ضمنی انتخابات کا ایک انتہا ئی مثبت پہلو یہ رہا کہ ان انتخابات میں بی جے پی نے ہندوتوا کارڈ کا بھرپور اور اعلانیہ استعمال کیا۔اس مقصد کے لئے بی جے پی نے انتہائی متعصب ہندو اوراسلام مخالف ہندو لیڈر یوگی آدیتہ کو بھی انتخابی مہم میں اتا را۔ یوگی ان انتخابات میں لو جہاد (یہ پر اپیگنڈہ کہ نوجوان مسلمان معصوم ہندو لڑکیوں کو اپنے پیارمیں بہلا پھسلا کر مسلمان کر رہے ہیں)کا انتہائی غلط پراپیگنڈہ کر کے ہندووں کو مسلمانوں کا ڈراوا دے کر انہیں بی جے پی کی حمایت کے لئے اکساتا رہا۔ان انتخابی جلسوں میں یوگی یہ کہتا رہا کہ اب کوئی جودھا با ئی کسی اکبر کے ساتھ نہیں جائے گی،مگر ان انتخابات کا مثبت پہلو یہ رہا کہ ووٹروں کی اکثریت نے بی جے پی کے اس ہندوتوا ایجنڈے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اب بی جے پی کے کئی راہنما یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ انہوں نے ان ضمنی انتخابات میں ہندوتوا اور love Jihadجیسے من گھڑ ت پرا پیگنڈے کر کے انتہائی غلطی کا ارتکا ب کیا، جس کا نتیجہ بی جے پی کی شکست کی صورت میں سامنے آیا۔یوپی کے بعد گجرات کے ضمنی انتخابی نتا ئج بھی حیران کن رہے۔ گجرات بی جے پی کا انتہا ئی مضبوط گڑھ رہا ہے۔لوک سبھا الیکشن میں بھی بی جے پی نے ریا ست کی تمام نشستوں سے کامیابی حا صل کی تھی۔

ایک عشرے سے بھی زائد اسی ریاست کی وزارت اعلیٰ پر فائزرہنے کے با عث نریندر مودی کو بھارتی سیاست میں یہ قدر و منزلت ملی۔ اسی صوبے کی نام نہا د ترقی کو گجرات ماڈل کا نام دے کر مودی نے لوک سبھا میں بھر پور کا میا بی حا صل کی، مگر ان ضمنی انتخابات میں 9نشستوں میں سے بی جے پی 6نشستیں حاصل کر سکی اور تین نشستیں کا نگرس نے حاصل کر لیں۔خود کا نگرس کے راہنما اعتراف کررہے ہیں کہ انہیں ہر گز توقع نہیں تھی کہ وہ گجرات جیسی ریا ست سے نشستیں حا صل کرے گی کہ جہا ں مودی کی وزارت اعلیٰ کے دور سے بی جے پی کو ئی بھی ضمنی انتخابات نہیں ہاری۔ راجستھان کی ریاست بھی بی جے پی کا انتہا ئی مضبوط گڑ ھ تصور کی جا تی ہے کہ جہا ں بی جے پی نے لوک سبھا کی تما م نشستوں کو حاصل کیا تھا۔ ان ضمنی انتخابا ت میں جہاں 4نشستوں پر انتخابات ہوئے ان میں بی جے پی صرف 1نشست حاصل کر پائی اور 3 نشستوں پر کانگرس کا میا ب رہی۔کئی حلقے یہ تا ثر دیتے ہیں کہ ضمنی انتخابات کسی حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کا معیا ر نہیں ہوتے ، کیونکہ ضمنی انتخابات میں کئی مقامی اور دیگر عوامل کارفرما ہو تے ہیں،مگر بھا رت میں ضمنی انتخابا ت کی تا ریخ ثا بت کر تی ہے کہ کسی ایسی حکمران جما عت کو جو چا ر ماہ قبل اکثر یت لے کر اقتدار میں آئی ہو ایسی بھرپور شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جیسا بی جے پی کو کرنا پڑا۔یہاں بنیا دی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر چند ما ہ میں ایسا کیا ہوا کہ مودی لہر کی جھا گ بیٹھنا شروع ہو گئی؟

یہ حقیقت ہے کہ مئی میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں مودی نے کا نگرس اور دیگر حکمران علاقائی جماعتوں کی خراب کا رکردگی کا بھر پور فا ئدہ اٹھا یا اور انتخابات میں دعوے کئے کہ اقتدار ملتے ہی بھا رتی عوام مثبت تبد یلی محسوس کر یں گے۔ انتخابی نتا ئج کا اعلان ہوتے ہی مودی کا ٹوئٹ آیا کہ اچھے دن آنے والے ہیں۔اگر ہم مودی سرکا ر کی گزشتہ چار ماہ کی کا رکردگی کا سرسری جا ئزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ مودی کی جا نب سے کئی ایسے اقدامات کئے گئے کہ جن کی بھا رت کے غیر جانبدار حلقوں کی جانب سے مذ مت کی گئی۔ جیسے کئی صوبوں میں گورنروں کی برطرفی،بیو روکریسی میں اعلیٰ تعیناتیوں کے لئے قواعد و ضوابط کی پر واہ نہ کرنا،متنا زعہ عدالتی احتساب بل کو اسمبلی میں متعا رف کروانا،انڈین کونسل آف ہسٹا ریکل ریسرچ جیسے اہم قومی ادارے میں آر ایس ایس کے راہنما وں کی تعیناتی ، عشروں سے قائم منصوبہ بندی کمیشن کی تحلیل اور سب سے بڑھ کر مہنگا ئی میں اضا فہ۔ یہ ہیں وہ چند اہم عوامل جو گز شتہ 4ماہ میں مودی کی مقبولیت میں کمی کا با عث بنے۔ضمنی انتخابا ت سے اس حقیقت کی بھی تصدیق ہو تی ہے کہ معروضی حالات اور سما جی عوامل کو نظر انداز کر کے ووٹروں یا عام لوگوں کو ترقی کے سبز خواب دکھا نا کچھ عرصے بعد مہنگا پڑتا ہے۔پاکستان میں بھی ایسی سیا سی جما عتوں کو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چا ہیے کہ جو اقتدار میں آنے کی صورت میں راتوں رات مسائل حل کرنے کا دعویٰ کر تی ہیں کہ ایک فرد یا راہنما کی اہلیت کے با وجود معرو ضی حالات کو سراسر نظر انداز کر کے سیا سی وعدے کر نے کی حیثیت وقتی ہو تی ہے۔ *

مزید : کالم