طرم خان کی تیاریاں اور ٹافیاں

طرم خان کی تیاریاں اور ٹافیاں

  



میرا جگری دوست ”طرم خان“ آج کل سنبھالے نہیں سنبھل رہا، وہ بہت پُرجوش اور خوش ہے، چلتے پھرتے اُٹھتے، بیٹھتے ”گو نواز گو“ کے نعرے لگاتا پھرتا ہے، ”گو نواز گو“ اس کی زبان پر ایسا چڑھا کہ گزشتہ روز ہماری بھابھی نے طرم خان سے فرمائشی طور پر پوچھ لیا.... آج تم ہی بتا دو، کیا پکایا جائے، اپنی ”موج میں مست“، طرم خان نے کہا:”گو نواز گو“،پکا لو، بھابھی تو خیر سُن کر چپ ہو گئیں، مگر گلی کے بچے تو ماں باپ کی نہیں سنتے، طرم خان کی کیا سنتے؟

نجانے طرم خان کے دل میں یہ خیال کیسے آ گیا کہ گلی کے بچوں کو ”ٹافیوں“ کا لالچ دے کر کہا کہ تم ”گو نواز گو“ کے نعرے لگاﺅ اور اس کے بدلے ”ٹافیاں“ میرے ذمے۔آئیڈیا طرم خان کا بہت اچھا تھا کہ یہ نعرہ اگر بچوں کی زبان پر آجاتا تو پھر بڑوں کی زبان پر بھی چڑھ جاتا، مگر اس میں خرابی یہ ہو گئی کہ محلے بھر کے بچے صبح، دوپہر، شام ان کے گھر کے سامنے نعرے لگانے شروع کر دیتے ہیں:”جیو نواز جیو“ طرم خان سمجھ جاتے ہیں کہ بچوں کے پاس ٹافیاں ختم ہو گئی ہیں، طرم خان باہر نکلتے ہیں، ٹافیاں خرید کے بچوں میں ابھی تقسیم کر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک بچوں کا ایک نیا گروپ ”جیو نواز جیو“ کے نعرے لگاتا ہوا آ جاتا ہے، سو اب حالت یہ ہے کہ اِدھر سے ٹافیاں دے کر وہ بچوں سے ”گو نواز گو“ کے نعرے لگواتے ہیں ، اُدھر سے بچوں کا کوئی دوسرا گروپ ”جیو نواز جیو“ کے نعرے لگاتا ہوا آ جاتا ہے۔ طرم خان کی اس سیاسی غلطی کی وجہ سے اب محلے میں ”گو نواز گو“ کے ساتھ ”جیو نواز جیو“ کے نعرے بھی لگ رہے ہیں۔ اب طرم خان بہت پریشان ہیں کہ کم بخت بچے بھی بہت سیاسی ہو گئے ہیں۔ ٹافیاں دو تو ”گو نواز گو“ اور اگر نہ دو تو ”جیو نواز جیو“ کے نعرے لگانے شروع کر دیتے ہیں، ہم سے جب اُس نے اس سلسلے میں بات کی تو ہم نے کہا کہ ٹافیوں کے بدلے ”گو نواز گو“ کا نعرہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے۔ طرم خان نے کہا:سوال سستے یا مہنگے کا نہیں، معاملہ ”بجٹ“ کا ہے۔ وہ بھی ہونا چاہئے ناں، ہم نے کہا کہ ہاں یہ بات تو درست ہے، مگر طرم خان کی تیاریاں دیکھنے والی ہیں۔ گزشتہ روز نیا بوسکی کا اَن سلا سوٹ بغل میں دبائے ہمارے پاس آیا اور کھڑے کھڑے پوچھنے لگا: آپ کے خیال میں ہمارے محلے میں سب سے اچھا درزی کون ہے۔ ہم نے کہا تم تو پشاور سے کپڑے سلواتے ہو، تو پھر درزی کا کیوں پوچھ رہے ہو،طرم خان نے مسکراتے ہوئے کہا،اب ذرا ”ایمرجنسی“ ہے۔ ہم نے کہا، کیا ایمرجنسی ہے، کوئی اچانک شادی آ گئی ہے کیا؟ اگر ایسی کوئی بات ہے تو پھر ”صلو بھائی“ سے سلوا لو، مگر طرم خان کا اصرار تھا کہ کوئی اچھا سا درزی بتاﺅ، ہم نے کہا تو پھر ہماری نظر میں تو بس ایک ہی ہے۔ ”منے دی موج ٹیلر ماسٹر“ طرم خان نے کہا:ہاں ٹھیک ہے، مگر ہم نے پھر پوچھا کہ آخر ایمرجنسی کیا ہے؟ اب طرم خان نے کہا کہ جلسہ جو سر پر آ گیا ہے۔ کم بخت نے جلسہ جو سر پر آ گیا ہے، ایسے کہا جیسے لوگ اکثر کہتے ہیں یار کیا کریں سالے کی شادی جو سر پر آ گئی ہے۔ ہم نے کہا جلسے کے لئے جوڑا سلوانے کی کیا ضرورت ہے، کوئی پرانا جوڑا پہن کر چلے جانا، مگر اس نے کہا:عمران خان کے جلسے میں جانا ہے تو اب کپڑے تو ڈھنگ کے ہونے چاہئیں کہ نہیں؟ اور پھر کیا پتہ ٹی وی پر ہمارا بھی فوٹو شوٹو آ جائے۔ ہم نے کہا، ہاں یہ بات تو ہے۔

طرم خان تو اسلام آباد کے دھرنے میں بھی جانا چاہتا تھا، مگر دکانداری کا مسئلہ درمیان میں آ گیا.... ملازم پر اسے اعتماد نہیں تھا اور ہم فارغ نہیں تھے، البتہ ”چالیسویں“ پر اس کا پکا پکا پروگرام تھا، مگر اچانک ان کے سسر ”لالہ خان“ آ دھمکے اور یوں اس کی تیاری ادھوری رہ گئی، مگر اب لاہور کے جلسے کے لئے وہ ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔

گزشتہ روز صبح ہی صبح آ گیا، چارپائی پر بیٹھتے ہی پوچھنے لگا، یار وہ تم ”ہیئر کلر“ کون سا استعمال کرتے ہو؟ ہم نے کہا، کیوں خیریت، کہنے لگا یار ایک تو تم بات کرید کرید کر پوچھتے ہو، ہم نے اُس کے بگڑے ہوئے موڈ کو سنبھالا اور کہا: فلاں کمپنی کا نمبر43، وہ اُٹھنے لگا تو ہم نے کہا، بتاﺅ تو سہی کس کے لئے خریدنا ہے؟ اُس نے کہا اپنے لئے، ہم نے کہا: تمہیں ”الرجی“ ہو جاتی ہے، یاد کرو گزشتہ عید پر تم نے لگایا تھا ، تو تمہارے مُنہ پر دانے نکل آئے تھے اور عید کے تین دن تک تم گھر سے باہر نہیں نکل سکے تھے اور تمہارے بارے میں مشہور ہو گیا تھا کہ اللہ نے تمہاری شکل بدل دی ہے اور پھر محلے والوں نے تمہاری شکل بدلنے کے حوالے سے کئی کئی باتیں اور افسانے بھی گھڑ لئے تھے۔ یہ تو چار دن بعد تم نے وضاحت کی تھی تو لوگوں کی رائے بدلی، لیکن محلے کا مولوی تو آج بھی تمہارے بارے میں کہتا ہے کہ یہ سود پر پیسے دیتا ہے، اس لئے اس کی شکل بدل گئی تھی اور اگر باز نہ آیا تو اس کی شکل پھر بدل جائے گی اور اتفاق سے اب عید نزدیک آ گئی ہے تم ہیئر کلر نہ لگواﺅ تواچھا ہے، ہماری مانو اور لال مہندی لگا لو، مگر وہ بضد تھا کہ چونکہ تحریک انصاف نوجوانوں کی جماعت ہے اس لئے وہ لال مہندی لگا کے خود کو بوڑھا شو نہیں کرنا چاہتا، وہ ہیئر کلر لگا کے جائے گا۔ چاہے جلسے میں مُنہ چھپا کے ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

”ہیئر کلر“ اس نے خرید کے دم لیا اور پھر صبح دکھانے کے لئے آیا تو اس کا جوش تھوڑا دھیما پڑا ہوا تھا، ہم نے پوچھا کیا بات ہے، کچھ پریشان نظر آتے ہوئے اُس نے پہلے تو کوئی بات نہیں کی تکرار جاری رکھی، لیکن پھر اچانک اُس نے کہا یہ جو خرم قریشی ولد اللہ دتہ مراثی تمہاری نظر میں کیسا آدمی ہے؟

ہم نے کہا: تمہارا دوست ہے تمہیں زیادہ پتہ ہو گا، کہنے لگا،نہیں تم بتاﺅ، ہم نے کہا، بندہ تو اچھا ہے، کہنے لگا ذہین آدمی ہے کہ نہیں۔ ہم نے کہا جو شخص مراثی سے قریشی بن سکتا ہے، کیا اُس میں ذہانت کی کمی ہو گی؟ طرم خان نے کہا، لیکن لوگوں کو تو پتہ ہے ناں وہ مراثی ہے۔ ہم نے کہا پتہ تو اس کو بھی ہے کہ وہ مراثی سے قریشی بنا ہے، لیکن تم مجھے یہ بتاﺅ اُس نے کبھی مانا ہے کہ قریشی نہیں مراثی ہے؟ اُس نے کہا، یہ بات درست ہے کہ اُس نے کبھی مانا تو نہیں، بلکہ پوری دلیری کے ساتھ کہتا ہے کہ مَیں قریشی ہوں، میرا والد ماہِ رمضان میں لوگوں کو جگانے کے لئے ڈھول تو ”شوقیہ“ طور پر بجاتا تھا، طرم خان بات بڑھانا چاہتا تھا، مگر ہم نے اُسے کہا اصلی بات بتاﺅ، مسئلہ کیا ہے؟ اب طرم خان نے اپنی بلند ہوتی ہوئی آواز کو آہستہ کیا اور کہا وہ کم بخت کہتا ہے عمران خان نے

 کراچی میں بہت بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے کراچی کے جلسے میں ایک بار بھی نہیں کہا کہ اوئے الطاف بھائیا، مَیں تمہیں چھوڑو گا نہیں، تمہارے پیچھے لندن آﺅں گا، جیسے ”پہلے کہتا تھا“ ہم نے طرم خان کو سمجھایا کہ عمران خان نے اب اپنے آپ کو تھوڑا ٹھنڈا کیا ہے۔ وہ اب زبان و بیان کے استعمال میں بہت احتیاط کرنے لگا ہے اور ویسے بھی لیڈر کو اپنی زبان نرم رکھنی چاہئے، مگر طرم خان تو کوئی اور پروگرام بنا کے آیا تھا، اُس نے کہا، تم ایک کاغذ نکالو، ہم نے کاغذ نکالا.... اُس نے کہا لکھو، ہم نے کہا بتاﺅ۔ اُس نے کہا لکھو، جناب عمران خان، آپ نے لاہور کے جلسے میں ایک بار ضرور کہنا ہے:اوئے الطاف بھائیا، مَیں لندن تک تیرا پیچھا کروں گا،مَیں تجھے چھوڑں گا نہیں، گریبان نہ بھی پکڑ سکا، تو کوئی بات نہیں، لیکن تجھے ”گھنسیں“ ضرور ماروں گا اور اے میرے لیڈر لاہور کے جلسے میں اپنا وظیفہ پڑھنے کے بعد اپنی تقریر کا آغاز ان ہی جملوں سے کرنا ہے، جو مَیں لکھ کر بھیج رہا ہوں،” اے میرے ہیرو“”طرم خان“ کی عزت، بے عزتی کا معاملہ ہے اپنے طرم خان کو خرم قریشی ولد اللہ دتہ مراثی کے سامنے بے عزت نہ کرانا، ہم نے یہاں تک لکھا.... تو طرم خان نے کہا نیچے لکھو ”گو نواز گو“ منجانب:طرم خان۔ ہم ابھی”گو نواز گو“ لکھنا ہی چاہتے تھے کہ گلی میں سے بچوں کے نعرے کی آواز آئی،”جیو نواز جیو“۔ طرم خان نے پریشانی کے عالم میں کہا، کاغذ اپنے پاس رکھو، مَیں ذرا ٹافیاں لے آﺅں۔

مزید : کالم