افغان حکومت کی پاک فوج اور اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی

افغان حکومت کی پاک فوج اور اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی
افغان حکومت کی پاک فوج اور اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی

  



افغانستان میںطالبان حکومت کے خاتمے کے بعد نہ صرف شمالی اتحاد کو حکومت ملی، بلکہ اس میں پاکستان مخالف عناصر کو بھرپور نمائندگی دی گئی۔ حامد کرزئی کے قریبی مشیروں میں زیادہ تر عہدیداروں کی وفاداریاں بھارت کے ساتھ ہیں اور کابل کی سرکاری مشینری پر بھارتی اہلکاروں اور ایجنسیوں کا عمل دخل بھی بہت بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے اپنے مکروہ ارادوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کابل حکمرانوں کے دل و دماغ میں پاکستان کے خلاف زہر بھرنا شروع کر دیا ہے۔

پاکستان نے بارہا افغان حکومت اور ا مریکہ و نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے خلا ف استعمال ہونے والے طالبان کے ٹھکانوں پرآپریشن کیا جائے۔پاکستان کا مو¿قف ہے کہ افغان صوبوں نورستان اور کنڑ میں پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے گروپوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، جہاں سے اس کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ پاکستان کی طرف سے امریکی حکام کو افغان خفیہ ایجنسی ”خاد“ اور بھارتی ایجنسی ”را“کے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے گٹھ جوڑ سے متعلق بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ افغان حکام کو بلوچستان سے منسلک افغان سرحدی علاقوں میں بلوچ انتہا پسندوں اور دیگر دہشت گرد گروپوں سے متعلق بھی ٹھوس معلومات فراہم کی گئی ہیں، ان شدت پسندوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے بھاری فنڈ اسلحہ اور تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ افغان سرزمین استعمال کرنے والے دہشت گرد گروپ امن مذاکرات ناکام بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مہمند ایجنسی کے طالبان کی طرف سے ایف سی اہلکاروں کے قتل کا واقعہ بھی افغان سرزمین پر ہوا۔

افغانستان میں امن و امان کا قیام تو حامد کرزئی اور ان کی حکومت کی ذمہ داری تھی،مگر وہ اس ذمہ داری کی ادائیگی میںناکامی کے باعث پاکستان کومورد الزام ٹھہرانا آسان سمجھتے تھے،اس لئے پاکستان پر الزام تراشی افغان حکام کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا تھا۔ حامد کرزئی کی حکومت صرف کابل تک محدود ہو کر رہ گئی، باقی سارے ملک میں جنگجو قبائلی سرداروں اور وار لارڈز کی ایسی مضبوط حکمرانی ہے کہ آج اگر اتحادی افواج صدر کرزئی کی پشت پناہی بند کردیں تو ان کا کابل میں رہنا بھی مشکل ہو جائے۔ اس صورت حال میں وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے ایک طرف تو پاکستان کے روایتی حریف بھارت سے پینگیں بڑھا رہے ہیں اور دوسری طرف اسلام آباد پر مسلسل یہ الزام تراشی کر رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں شدت پسندی و دہشت گردی کی کارروائیوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔

 سابق وزیر داخلہ محمد حنیف اتمر صوبہ لغمان کے پشتون جب کہ خفیہ ادارے کے سربراہ امر اللہ صالح پنجشیر تاجک تھے۔ ان دونوں پر پاکستان مخالف ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ امر اللہ تو کئی مرتبہ ببانگ دہل پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر افغانستان میں مداخلت کا الزام عائد کرچکے ہیں۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی سرگرمیوں میں ملوث جرائم پیشہ گروپ افغانستان کی مالی معاونت سے کام کر رہے ہیں ۔

بھارت کی شہہ پر افغان سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں پاکستان کے خلاف محدود جنگ کی تیاریاں شروع کیں۔ مشرقی افغانستان کے ایک سرحدی ضلع میں افغان سیکیورٹی فورسز پہلے ہی پاکستان کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ افغان فوج کے 203 ویں تھنڈر کورنے جو 122 ملی میٹر دہانے والی فیلڈ توپوں سے لیس ہے ، سرحد پر ڈیرے جما لئے ہیں۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغان حکومت نہ صرف بلوچستان کے باغیوں کی پشت پناہی کرتی رہی ہے، بلکہ اس نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاںکرنے والے بعض گروپوں کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس ضمن میں ”خاد“ اور”را“ کی ملی بھگت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عرصہ دراز کی خواہش کے بعد پہلی بار بھارت کو افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کا موقع ملا ہے، لہٰذا دہشت گردی کا شکار اس ملک میں بھارت کے قونصل خانے کن مقاصد کے تحت قائم کئے گئے؟ ان سے پاکستان بخوبی واقف ہے۔ قونصلیٹ دفاتر کی آڑ میں ”را“ نے اپنے ٹھکانے قائم کئے اور پاکستان میں دہشت گردی کے لئے منصوبہ بندی کی۔ یہ سب کچھ افغان حکومت کی مرضی سے ہو رہا ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے1200 سے زائد ایجنٹ افغانستان میں اسی بات کے لئے تعینات کئے گئے ہیں کہ وہ بھارتی اسلحہ پاکستان میں اپنے ٹاو¿ٹوں اور ایجنٹوں کو فراہم کریں، تاکہ وطن عزیز میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ”را“ کے ایجنٹ افغانستان سے افغانوں کے بھیس میں پاکستان میں داخل ہو کر یہاں دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیرستان میں موجود نام نہاد طالبان کو بھارت سے اسلحہ مل رہا ہے۔ یہ لوگ بھارتی اشارے پر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ بیشتر خود کش حملوں اور بم دھماکوں کی کڑیاں جنوبی وزیرستان سے ملتی ہیں، جن کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ ٭

مزید : کالم