بھارتی حکومت کے رویے سے وزیراعظم کو مایوسی،اقوام متحدہ کی تقریر میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اٹھایا

بھارتی حکومت کے رویے سے وزیراعظم کو مایوسی،اقوام متحدہ کی تقریر میں مسئلہ ...
بھارتی حکومت کے رویے سے وزیراعظم کو مایوسی،اقوام متحدہ کی تقریر میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اٹھایا

  



نیو یارک(تجزیہ/عثمان شامی)وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا دورہ امریکہ اختتام کو پہنچ رہا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد ذرائع کے مطابق مقامی وقت کے مطابق 27ستمبر کی صبح 9 بجے ان کی وطن روانگی متوقع ہے لیکن میڈیا کو بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم جمعہ کی شام ہی نیو یارک سے روانہ ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم نے امریکی صدرباراک اوباما کی جانب سربراہان مملکت کے اعزاز میں دیئے گئے اعشائیے میں شرکت نہیں کی تھی، اس کی بنیادی وجہ ان کی تاخیر سے آمد معلوم ہوتی ہے۔ سیکریٹری خارجہ سے بریفنگ کے دوران تاخیر کی وجہ دریافت کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کا طیارہ چھوٹا ہے اس لئے لندن میں رکنا ضروری تھا۔ علاوہ ازیں ان کی امریکی صدر سے ملاقات بھی شیڈول نہ کی جا سکی۔ وزیر اعظم نے ملائیشیا،ناروے، ہالینڈ، نیپال اور مالٹا کے سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کیں مگر ان کے علاوہ دیگر صدور سے ملاقات نہ ہو سکی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے باعث بر وقت اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہ ہو سکالہذاٰ دیگر ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں طے نہ کی جاسکیں۔ تاہم ورلڈ بینک کی صدر سے ملاقات کافی مثبت رہی اور انہوں نے پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اقوام متحدہ کی عمارت میں وزیر اعظم نواز شریف کے استقبال کے لئے تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد گیٹ کے سامنے موجود تھی اور وہ مسلسل ’گو نواز گو‘اور ’نو نوازنو‘ کے نعرے بڑے روایتی انداز میں بلند کر تے رہے۔مظاہرین میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مسلم لیگ نواز کے کارکنان بھی اس موقع پر آ گئے اور انہوں نے تحریک انصاف کے مظاہرین کا جواب دینے کی کوشش کی ۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے دیگر ممالک کے مظاہرین بھی اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے لیکن پاکستانی مظاہرین کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔

 بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات طے نہ ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وزیر اعظم کے ابتدائی دنوں میں بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں جو گرم جوشی تھی اس میں کمی آ رہی ہے۔ وزیر اعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ بھارتی حکومت کے رویے سے کافی مایوس بھی ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات میں سیکریٹری خارجہ سطح پر مذاکرات پہ اتفاق ہوا تھا تاہم بھارت نے پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیری قائدین سے ملاقات کو بہانہ بنا کر ان مذاکرات میں تعطل ڈال دیا ہے حالانکہ یہ کئی برسوں سے پاکستانی سفارتکاروں کا معمول رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سرد مہری کے اظہار کے بعد پاکستانی حکومت نے بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اور اسی وجہ سے وزیر اعظم کے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کا ذکر کرنا بند کر دے اور صرف اسی صورت میں دیگر معاملات پر پیشرفت ممکن ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے بھارت کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی نہ ہی کوئی یقین دہانی کروائی گئی لہذا اس کے حل کے بغیر بھول جانا ناممکنات میں سے ہے ۔

 وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے وزیر اعظم کی ملک کے اندر بھی پوزیشن مستحکم ہو گی اور یہ تاثر کہ حکومت مکمل طور پر جمود کا شکا ر ہے، اسے زائل کرنے میں مدد ملے گی۔ تقریر سے قبل صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات میں وزیر اعظم کی باڈی لینگوئج کافی بہتر نظر آئی اور بیشتر سوالات کے جواب انہوں نے خوشگوار موڈ میں رہتے ہوئے دیئے۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...