نوابزادہ نصراللہ کی برسی اور حالیہ بحران!

نوابزادہ نصراللہ کی برسی اور حالیہ بحران!
نوابزادہ نصراللہ کی برسی اور حالیہ بحران!

  



نیک اور لائق اولاد بھی اللہ کی نعمت ہوتی ہے کہ والدین کی دنیا سے رخصتی کے بعد ان کے نام کو زندہ رکھتی ہے، سیاست کے میدان میں آج بہت سے ایسے نام ہیں جو مرکر بھی نہیں بھلائے گئے اور وہ بھی ہیں جن کو یاد کرنے والا کوئی نہیں، بابائے جمہوریت و سیاسی اتحاد نوابزادہ نصراللہ خان کو دنیا سے رخصت ہوئے گیارہ برس ہو گئے، انتہائی بھرپور اور مصروف ترین سیاسی زندگی اور عمل کے حامل اس بزرگ کی گزشتہ روز گیارہویں برسی تھی جو معمول ہی کے مطابق گزر گئی کہ ان کی سیاسی وراثت سنبھالنے والا کوئی اہل فرد نہیں تھا، ان کے صاحبزادے نوابزادہ منصور علی خان نے بھی برسی کے موقع پر اپنی رہائش گاہ(خان گڑھ) میں محفل دعا کا اہتمام کیا، کسی بڑی تقریب کے لئے کسی پروگرام کا کم ا زکم یہاں کسی کو علم نہیں ہو سکا، صاحبزادہ منصور نوابزادہ مرحوم کی زندگی میں صوبائی وزیر مال بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے ایک اور صاحبزادے افتخار احمد خان ہیں جو قیام اسلام آباد کے دوران نمایاں رہے تھے، ان کے حوالے سے کسی تقریب کی اطلاع نہیں ہے، امکانی طور پر انہوں نے الگ سے دعاءکی کسی محفل کا اہتمام کرلیا ہوگا۔

ہم نے نوابزادہ نصراللہ خان کی سیاسی وراثت کا ذکر کیا تو یوں کہ آج کے دور میں ملک میں جو سیاسی عدم استحکام پایا جا رہا ہے، اس کے حوالے سے وہ بہت یاد آ رہے ہیں کہ ان سے تو رہنمائی بھی ملتی تھی۔وہ کون سا دور ہے جب انہوں نے خراب حالات کے خلاف محاذ نہیں بنایا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آج بقید حیات ہوتے اور صحت بھی بہتر ہوتی تو ان کے خیالات اور نظریات کیا ہوتے اور کس کو فائدہ اور کسے نقصان ہوتا، تاہم ایک بات طے ہے کہ وہ جہاں بھی ہوتے شمع محفل ہی ہوتے ۔آج وہ خود دنیا میں نہیں تو ان کی جماعت بھی نہیں۔نوابزادہ منصور اور محترم نواز گوندل وغیرہ یہ بوجھ نہ سنبھال سکے اور انہوں نے پاکستان جمہوری پارٹی (پی ڈی پی) کو تحریک انصاف میں ضم کر دیا تھا۔ پارٹی تو ختم ہوئی، لیکن ساتھ ہی ان حضرات نے اپنی سیاست بھی ختم کر لی۔ نوابزادہ کے وفادار الیاس بٹالوی اور خواجہ اظہار کی روح تڑپ رہی ہوگی اور رانا نذر الرحمن تو اپنی زور دار آواز میں کچھ کہتے ہی رہتے ہیں وہ آج بھی بہت سے حضرات کے لتے لینے کو تیار رہتے ہیں، روائتی پھندنے والی ترکی ٹوپی اور حقہ نوابزادہ کے لئے لازم و ملزوم تھے۔نکلسن روڈ کے دفتر میں جو ان کی رہائش گاہ بھی تھا، طویل عرصہ تک ان کا قیا م رہا اور یہ مقام ان کی وجہ سے تاریخی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔

گزشتہ دنوں میڈیا میں وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کی طرف سے نریندر مودی اور بعض اور ممالک کے سربراہوں کو آم بھجوانے کا بہت چرچا رہا، جسے ”مینگوڈپلومیسی“ کا نام بھی دے دیا گیا، کسی نے یہ یاد نہ رکھا کہ یہ ”مینگوفرینڈشپ“ کس کی ایجاد ہے۔یہ اعزاز بھی نوابزادہ نصراللہ ہی کا ہے کہ وہ ہر سال ”دوستوں“ کو آم بھجواتے تھے اور ان کی زندگی میں کسی سال ناغہ نہیں ہوا، حتیٰ کہ ایک بار موسمیاتی بے رحمی کی وجہ سے ان کے باغات کی فصل سے معمول کا حصہ نہ آ سکا تو انہوں نے بازار سے خرید کر آم بھجوائے۔آم تو اور بھی کئی دوست بھیجتے ہیں، محترمہ بے نظیر بھٹو ، سید یوسف رضا گیلانی،پیر آف پگارو اور جاوید ہاشمی معروف ہیں جو ہر سال یہ تحفہ ارسال کرتے تھے۔نوابزادہ کے جاتے ہی اس روائت میں بھی بڑی تبدیلی آ گئی کہ ان کے زمانے میں آم کے موسم کا اندازہ ان کی طرف سے آنے والی آم کی پیٹی ہوتی تھی۔ ان کے پولیٹیکل سیکرٹری جمشید ملک اور معتمد خواجہ اظہار اہتمام کرتے تھے کہ نوابزادہ کی فہرست کے مطابق کوئی رہ نہ جائے۔

آج کے دور میں تو بہرحال نوابزادہ نصراللہ خان کی اور بھی یاد آتی ہے کہ وہ ہوتے تو آئین اور جمہوریت کے لئے ان کی جدوجہد مثالی ہوتی اور یقینا وہ کوئی بڑا سیاسی اتحاد بنا لیتے، اندازے سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی جمہوریت پرستی اور جمہوریت نوازی والے نظریات کے باعث وزن جمہوری پلڑے میں ہوتا لیکن یہ ایسا دور ہے جس میں نوابزادہ کو سیاسی طور پر جداگانہ طرزعمل اختیار کرناپڑتا۔ نوابزادہ نصراللہ خان سے عقیدت کی حد تک یاد اللہ تھی، وہ ایسے لیڈر تھے جو ہر نوع اور ہر قسم کی تنقید کو انتہائی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے۔ہمارے پیشہ صحافت کے باون سالہ دور میں جو حضرات مطالعہ کے لحاظ سے اولیت رکھتے تھے۔ ان میں ان کا درجہ سب سے بڑا ہے اگرچہ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ بھی اس لحاظ سے بہت اہمیت کے حامل تھے، وہ بھی تازہ ترین کتابوں اور اخبارات کا مطالعہ غور سے کرتے، جہاں تک نوابزادہ نصراللہ خان کا تعلق ہے تو ان کی عادت میں ایڈیٹوریل تک پڑھنا شامل تھا وہ صبح فجر کی نماز کے لئے اٹھتے اور اپنے کمرہ خواب کے باہر چکر لگا لیتے تھے۔ اس عرصہ میں اخبارات آ جاتے اور وہ پلندہ لے کر مطالعہ کے لئے بیٹھ جاتے ۔ساڑھے نو سے دس بجے تک ناشتہ اور اخبارات کے مطالعہ سے فارغ تازہ دم ہوتے، ہماری طرح بہت سے دوست ان کے پاس دس بجے پہنچتے اور یہ وقت ان سے بات کرنے کے لئے معقول ہوتا وہ آف دی ریکارڈ اور آن دی ریکارڈ بات کرنے کے لئے تازہ دم ہوتے تھے۔ نوابزادہ نصراللہ لاہور میں قیام کے دوران بھی کسر نماز پڑھتے۔

 ایک مرتبہ ہم نے اعتراض نما سوال کیا تو وہ بولے ہماری رہائش خان گڑھ میں ہے۔اس کے باہر تو ہم ہر جگہ مسافر ہی ہوتے ہیں، دوسرے وہ بریف کیس اور بیگ ہر وقت تیار رکھتے خود ان کے بقول وہ یہ سامان اس لئے رکھتے کہ کسی بھی لمحے خود کو گرفتاری کے لئے تیار رہنا ہوتا تھا، وہ کبھی روپوش نہیں ہوئے، جب بھی زیرحراست لئے گئے اطمینان سے حکام کے ساتھ چل دیتے تھے۔نوابزادہ نصراللہ خان بڑے وضعدار اور پرانی نسل اور معاشرے کے فرد تھے جو ایک دوسرے کی باہمی عزت اور احترام کے لئے مشہور تھے۔آج کے دور میں سیاست میں جو زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ اس سے کوسوں دور تھے۔زندہ ہوتے تو بہت جزبز ہوتے ،کیونکہ وہ تو اپنے مخالف ترین کے لئے بھی کبھی غیر مہذب الفاظ استعمال نہیں کرتے تھے اور نہ ہی تضحیک آمیز لہجہ اختیار کرتے زیادہ سے زیادہ تنقید کرتے ،لیکن دائرہ اخلاق کی لکیر کو پار نہیں کرتے تھے، ہمارے سامنے ایوب خان، یحییٰ خان ، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاءالحق اور میاں نوازشریف کے خلاف سیاسی اتحاد بنا کر زبردست مخالفت اور جدوجہد کی، لیکن تہذیب کے دائرہ سے باہر ایک لفظ نہیں کہا۔

ہمیں یاد ہے کہ جب 1999ءمیں وہ کوشاں تھے کہ جو جماعتیں اتحاد سے باہر ہیں ان کو بھی شامل کر لیا جائے اور اس سلسلے میں پاکستان عوامی تحریک کے لئے ان کو ڈاکٹر طاہر القادری سے واسطہ تھا تو ڈاکٹر موصوف کی ضد کے حوالے سے وہ صبح دس بجے والی ملاقات میں بہت کچھ بتایا کرتے اور ریمارکس بھی دیتے تھے لیکن مایوس نہ ہوئے، حتیٰ کہ انہوں نے علامہ طاہر القادری کی ضد پوری کر دی، محترمہ بے نظیر بھٹو کو اتحاد کے لئے کچھ بتائے بغیر منہاج القرآن لے گئے اور وہاں نئے سیاسی اتحاد کے لئے پاکستان عوامی تحریک سمیت ایک دو دوسری چھوٹی جماعتوں کی شمولیت کی خبر سناتے ہوئے انہوں نے یکایک اعلان کر دیا کہ میزبان پاکستان عوامی تحریک ہے اور روائت کے مطابق میزبان ہی پہلے صدر ہوتے ہیں، اس لئے ڈاکٹر طاہرالقادری اس اتحاد کے صدر ہوں گے۔محترمہ بے نظیر بھٹو دنگ رہ گئی تھیں، ان کو صدمہ ہوا اور غصہ بھی آیا، لیکن پیچ و تاب کھا کر رہ گئیں اور وسیع تر سیاسی مفاد میں فیصلے پر راضی ہونا پڑا، یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنی انا کی تسکین کے باوجود اس اتحاد کے ساتھ ایک ماہ سے زیادہ نہ چل سکے۔ان کے لئے یہی غنیمت اور کافی تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی ان کی صدارت قبول کی۔اس غرور کا اظہار حالیہ ”انقلاب مارچ“ شروع کرنے کے دوران انہوں نے پیپلزپارٹی کو جواب دیتے ہوئے بھی کیا ”یاد رکھو میں تمہاری لیڈر بے نظیر بھٹو کا بھی صدر رہا ہوں“ واہ! نوابزادہ نصراللہ خان! آپ کو کیسے کیسے یاد رکھا جائے۔ ٭

مزید : کالم


loading...