نئے صوبوں کی تجویز۔۔۔نعرے بازی چھوڑ کر آئین سے رجوع کریں

نئے صوبوں کی تجویز۔۔۔نعرے بازی چھوڑ کر آئین سے رجوع کریں

  




سندھ اسمبلی نے جمعرات کو سندھ کی تقسیم کے خلاف دو قرار دادیں اتفاق رائے سے منظور کرلیں، ایک قرارداد پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان نے پیش کی تھی، دوسری قرارداد اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی، پہلی قرارداد پیش کرنے کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان نے ’’مرسوں، مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کے نعرے لگائے۔متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) جو سندھ حکومت کا باقاعدہ حصہ ہے۔قرارداد پیش کرنے کے وقت اسمبلی میں موجود نہیں تھی، اس نے اپنے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف سندھ اسمبلی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔دونوں قراردادوں میں یہ کہا گیا ہے کہ سندھ کی موجودہ سرحدیں برقرار رہنی چاہئیں۔

اگرچہ سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف منظور ہونے والی دونوں قراردادوں میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیان کا کوئی حوالہ موجود نہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ ان قراردادوں کی ضرورت الطاف حسین کے حالیہ بیانات اور ایم کیو ایم کے اس مطالبے کے جواب میں محسوس کی گئی ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ کو تین انتظامی یونٹوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ایم کیو ایم نے ملک بھر میں 20ایسے انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز بھی دی ہے۔ایم کیو ایم اس سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً سندھ کی تقسیم کی بات کرتی رہی ہے، جس کے جواب میں اسے پیپلزپارٹی اور صوبے کی دوسری سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔غالباً اسی لئے بات بیان بازیوں سے آگے نہیں بڑھ پائی۔

پاکستان کے آئین میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ یہ چار صوبوں ۔۔۔پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان ۔۔۔پرمشتمل ہے۔اگر ان صوبوں میں سے کسی کو تقسیم کرکے نیا صوبہ بنانے کا معاملہ ہو تو اس کے لئے بھی ہر کسی کو آئین کی کتاب سے ہی رجوع کرنا پڑے گا، جس میں وہ طریقِ کار بھی وضاحت سے درج ہے جس کے تحت نیا صوبہ (یا صوبے) تشکیل کیا جا سکتا ہے۔لیکن ہماری سیاسی جماعتوں نے عمومی طور پر یہ طرزِ عمل اپنا رکھا ہے کہ وہ سیاسی مسائل کے حل کے لئے آئین سے رجوع نہیں کرتیں، بلکہ اس سے گریز پا رہتی ہیں۔یہ غالباً اس لئے ہے کہ سیاسی مسائل کا جو کچا پکا حل وہ تجویز کرتی ہیں، آئین اس معاملے میں ان کی کوئی معاونت نہیں کرتا۔ایم کیو ایم سندھ حکومت کا حصہ ہے۔ سندھ کابینہ میں اس کی نمائندگی ہے۔ اس کے وزیر دوسرے وزیروں کی طرح مراعات حاصل کرتے ہیں، اس کے باوجود ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے نہ تو کابینہ میں یہ معاملہ اٹھایا اور نہ ہی سندھ حکومت کے کسی دوسرے فورم پر سندھ کی تقسیم کے معاملے کو لے کر گئے۔بس یہ ہے کہ الطاف حسین نے تقریر کے دوران ایک بات کہہ دی اور ان کے پیروکاروں نے اسے آگے بڑھانا شروع کر دیا، جبکہ ایم کیو ایم کو خوب معلوم ہے کہ جب تک کسی صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے صوبے کی تقسیم (یا نیا صوبہ تشکیل دینے) کی قرارداد منظور نہ کرے بات آگے نہیں بڑھ سکتی اور نہ وفاقی حکومت اس معاملے میں کوئی مداخلت کر سکتی ہے۔گویا اس سلسلے میں بنیادی کردار صوبے کی اسمبلی کا ہے۔ایم کیو ایم کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ سندھ اسمبلی سے ایسی قرارداد منظور کرانے کی پوزیشن میں نہیں۔اسے یہ بھی معلوم ہے کہ پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتیں اس ضمن میں کیا رائے رکھتی ہیں، چونکہ اسمبلی یا حکومت کے اندر اسے کامیابی کا یقین نہیں اس لئے اس نے یہ سارا معاملہ اسمبلی سے باہر تقریروں اور بیانات تک محدود کر رکھا ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے اس معاملے کو کبھی الیکشن ایشو نہیں بنایا، اگر وہ اس معاملے میں سنجیدہ تھی تو چاہیے تھا کہ وہ اس معاملے کو 2013ء میں اپنے ووٹروں کے سامنے رکھتی تاکہ کامیابی کے بعد وہ یہ دعویٰ کر سکتی کہ اسے ووٹروں نے سندھ کی تقسیم کے لئے کام کرنے کا اختیار دے رکھا ہے۔لیکن یہ دونوں آئینی راستے اختیار کرنیکی بجائے اس نے بیس انتظامی یونٹوں کی بحث چھیڑ دی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ انتظامی یونٹ کیا کہلائیں گے، ضلعوں اور ڈویژن کی سطح پر تو یونٹ پہلے سے موجود ہیں نئے یونٹوں کو آخر کیا نام دیاجائے گا، لگتا یہ ہے کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر سندھ کی ساری جماعتیں چونکہ بہت حساس ہیں اس لئے اس نے نئے صوبے کی بجائے انتظامی یونٹ کے لفظ کا سہارا لینے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسے صاف بتانا چاہیے کہ انتظامی یونٹ اگر صوبہ نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟اس کا طریق کار یہ ہے کہ ایم کیو ایم کابینہ کے اندر یہ معاملہ اٹھائے، وزیراعلیٰ کے ساتھ اس معاملے پر بحث کرے اور صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل طے کرے۔محض بیانات اور تقریروں سے یہ معاملہ حل ہونے والا نہیں اس سے پیچیدگیاں بڑھیں گی اور سیاسی مشکلات پیدا ہوں گی۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے صوبوں کی تشکیل کے ضمن میں اس کا رویہ ماضی میں خاصا مبہم رہا ہے۔یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم تھے تو سرائیکی صوبے کی بات کھل کر کیا کرتے تھے اور ایک بار یہاں تک کہہ گزرے کہ اگر ان کے ہوتے ہوئے سرائیکی صوبہ نہ بنا تو کب بنے گا، لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے انہیں بھی اس راہ کی مشکلات کا اندازہ نہ تھا، چونکہ انہوں نے بھی یہ پتھر چوم کر رکھ دیا۔ہم نے اس زمانے میں بھی عرض کیا تھا کہ اگر صوبوں کو تقسیم کرنا واقعی ملک کے مفاد میں ہے اور اس سے کچھ مفید مقصد حاصل ہو سکتا ہے تو اس کے لئے آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔لیکن پیپلزپارٹی پنجاب کی تقسیم کی بات تو کرتی رہی اب سندھ کا معاملہ آیا تو ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کہنا شروع کر دیا۔یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ جو چیز پنجاب میں اچھی ہے۔وہ سندھ میں جا کر کیسے خراب ہو گئی؟ اس لئے اب بھی ہم یہی عرض کریں گے کہ صوبے یا صوبوں کی تقسیم کے معاملے کو نعرہ بازی کا حصہ نہ بنائیں، اس کے لئے آئین میں درج طریقِ کار کے مطابق راستہ اختیار کریں اور اچھے برے کو پوری طرح سمجھ لیں۔

آج کل قومی حکومت کی بات بھی چل رہی ہے۔چودھری شجاعت حسین بار بار یہ مطالبہ کررہے ہیں۔ان سے بھی گزارش یہی ہے کہ بہتر ہے وہ آئین سے رجوع کریں اگر وہاں ایسی کسی حکومت کا وجود ہے تو بہتر ورنہ وہ اپنی رائے بدل لیں یا پھر دوسری سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر آئین میں ایسی ترمیم کر لیں جس سے قومی حکومت بن سکتی ہو، جو سیاست دان غیر آئینی شارٹ کٹس تجویز کرتے ہیں وہ ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کرتے۔ملک کی فلاح آئین پر سختی سے کاربند رہنے سے جڑی ہوئی ہے اور بالغ نظر قومیں آئین سے انحراف کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔

مزید : اداریہ


loading...