حالیہ سیلاب سے آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ،ماہرین زراعت

حالیہ سیلاب سے آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ،ماہرین زراعت

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ) حالیہ سیلاب سے آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچاہے لہٰذا باغبان آم کے باغات میں کھڑاپانی جلد از جلد نکالنے کیلئے ٹریکٹر لفٹ پمپ کااستعمال یقینی بنائیں۔ماہرین زراعت نے کہاکہ اگر پانی کھیت سے باہر نہ نکالا جاسکتاہو تو کھیت کے ایک طرف لمبائی کے رخ کھائی کھود کر پانی اس میں ڈال دیا جائے ، باغات سے پانی نکالنے کے بعد پودوں کے تنوں کو صاف کریں اور تنوں پر 4فٹ اونچائی تک بورڈیکس پیسٹ لگانے سے پودوں کے تنوں کو بیماریوں کے حملہ سے بچایا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ باغبان بورڈوپیسٹ تیار کرنے کےلئے ایک کلوگرام چونا، ایک کلوگرام کاپر سلفیٹ (نیلاتھوتھا) اور 10سے 12لیٹر پانی استعمال کریں۔انہوںنے کہاکہ آم کے پودوں پر کاپرآکسی کلورائیڈ 250گرام یا تھائیوفینیٹ میتھائل 250گرام یامیٹالکسل + مینکوزیب 250گرام 100لیٹر پانی میں ملا کر 15دن کے وقفہ سے دو بار سپرے کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ باغات میں موجود پودوں کی بیماریوں سے متاثرہ سوکھی ہوئی شاخوں کو کاٹ کر جلا یا زمین میں گہرا دبا دیاجائے ۔

نیز باغات سے پانی نکالنے کے بعد زمین وتر آنے پر ہلکا ہل چلائیں یا کّسی سے آم کے پودوں کے نیچے ہلکی گوڈی کریں تاکہ چکنی مٹی کی وجہ سے بنی ہوئی سخت تہہ ٹوٹ جائے اور آکسیجن کا گزر آسان ہو سکے تاہم جن باغات میں سڈن ڈیتھ (اچانک مرجھاﺅ) کا حملہ ہو وہاں ہل چلانے سے اجتناب کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو نمی کو جذب کرنے کی صلاحیت بڑھانے کےلئے 2کلوگرام امونیم نائٹریٹ اور 80سے 100کلوگرام گوبر کی گلی سڑی کھاد فی پودا ڈالی جائے۔

مزید : کامرس