محمد اسلام شاہ بھی چل بسے....!

محمد اسلام شاہ بھی چل بسے....!

  



٭.... سابق ڈپٹی کنٹرولر ریڈیو پاکستان لاہور محمد اسلام شاہ انتقال کر گئے، ان کی عمر 83سال تھی وہ طویل عرصہ سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے۔ ایک ایسا شخص جس نے نوجوانی سے بڑھاپے کی دہلیز تک کا سفر انتہائی مصروفیت اور مقبولیت سے گزارا ہو اس کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد سکون سے گھر بیٹھنا بڑا مشکل ہوتا ہے، اس لئے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اکثر اخبارات کے دفاتر میں پرانے ہم نشینوں سے میل ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں۔

٭.... جس زمانے میں اطہر مسعود روزنامہ ”پاکستان“ سے منسلک تھے ایک بار ان کا یہاں آنا ہوا تو ان کی انوار قمر اور مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا ایسا لگتا ہے جیسے ”مغربی پاکستان“ ہی پاکستان میں آ گیا ہے۔ روزنامہ ”مغربی پاکستان“ سے آج کے اخبار بین، بلکہ اخباری ملازمین بھی واقف نہیں ہیں، لیکن یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ یہ اخبار جس کے مالک ایڈیٹر جناب شیخ شفاعت مرحوم تھے اخباری صنعت میں ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ بڑے بڑے نامور صحافی اس اخبار سے وابستہ رہے ہیں اور انہوں نے اپنی ابتدائی صحافتی تربیت بھی یہاں سے حاصل کی ہے۔

٭.... مَیں جس زمانے کی بات کر رہا ہوں اس وقت مَیں روزنامہ ”مغربی پاکستان“ کے فلم، ٹی وی، سٹیج کے علاوہ بچوں کے صفحے کا انچارج بھی تھا اور اِسی ادارے کے فلمی ادبی جریدے ”اُجالا“ میں بھی باقاعدگی سے فلمی سرگرمیوں کے بارے میں لکھا کرتا تھا۔ محمد اسلام شاہ اکثر ہمارے پاس آتے رہتے تھے۔ ان کو اپنے ملک کے فنکاروں خصوصاً گلوکاروں اور سازندوں سے بڑی محبت تھی اور وہ ریڈیو پاکستان کے موسیقی کے پروگراموں میں ان کو متعارف کروانے کے علاوہ اخبارات میں ان کے فن اور حسب نسب کا تعارف بھی شائع کروایا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں اُن کا اکثر میرے پاس آنا ہوتا رہتا تھا، لیکن یہاں مَیں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرا اُن سے تعارف اس زمانے سے تھا جب مَیں اخبار سے منسلک نہیں ہوا تھا

٭.... یہ غالباً1967ءکا زمانہ تھا جب مَیں لاہور کے مختلف رسائل میں افسانہ نگار کے طور پر تھوڑا بہت تعارف حاصل کر چکا تھا کہ ریڈیو پاکستان لاہور سے ”جشن ِ تمثیل“ میں نئے اور پرانے لکھنے والوں کو ڈرامہ لکھنے کی دعوت دی گئی۔ یہ ریڈیو پاکستان کے عروج اور ٹی وی کے آغاز کا زمانہ تھا اس لئے تمام لکھنے والے اس ”جشن ِ تمثیل“ کے لئے ڈرامہ لکھنے کے مقابلوں میں ضرور شرکت کرتے تھے۔ مَیں نے بھی اس پروگرام میں ڈرامہ کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کو جانچنے کا فیصلہ کیا اور مختصر وقت میں ایک طویل دورانیے تقریباً40منٹ کا سکرپٹ لکھ کر ریڈیو پاکستان کو بذریعہ ڈاک ارسال کر دیا۔

ایک مہینے کے بعد مجھے بذریعہ خط ریڈیو پاکستان آنے کے لئے کہا گیا جس مَیں وہاں پہنچا تو میری ملاقات تین پروگرام پروڈیوسروں سے ہوئی، جن میں ایک عتیق اللہ شیخ ، دوسرے جعفر رضا اور تیسرے محمد اسلام شاہ تھے۔ مَیں نے اس وقت انٹر پاس کیا تھا اس لئے تینوں پروگرام پروڈیوسروں نے مجھے انتہائی حیرت سے دیکھا اور ایک ہی سوال کیا کہ کیا یہ ڈرامہ آپ نے لکھا ہے؟ میرے یقین دلانے پر انہوں نے مجھے بتایا کہ 300سے زائد ڈراموں میں سے سات ڈرامے سلیکٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک ڈرامہ میرا ہے اور مَیں واحد وہ خوش نصیب ہوں جسے نئے لکھنے والوں میں سے یہ اعزاز ملاہے ورنہ چھ ڈرامے اُن رائٹروں کے ہیں جو ریڈیو کے لئے پہلے سے باقاعدگی سے لکھ رہے ہیں۔ میرے اس ڈرامے کو ان تینوں پروگرام پروڈیوسروں نے پیش کیا اور یہ جشن ِ تمثیل کے ساتویں روز نشر ہوا اس کا نام ”بھابھی“ تھا۔

٭.... محمد اسلام شاہ کے لئے اخبار نویسوں کے دل میں ہمیشہ بڑا احترام رہا، کیونکہ ان کے پروگرام پروڈیوسر کے عہدے کے علاوہ ان کی طبیعت کی سادگی اور کردار کی سچائی اور پختگی سے سب لوگ بخوبی واقف تھے۔ زندگی بھر سادہ لباس کے ساتھ سائیکل کی سواری اُن کی منفرد پہچان رہی، اس کے علاوہ جو صحافی حضرات ریڈیو پر لکھنے کی کسی بھی حوالے سے صلاحیت رکھتے تھے ان کو بڑی فراخ دلی سے مواقع فراہم کرنے میںپیش پیش رہتے تھے، جن دِنوں اُن کے پاس ادبی پروگرام تھا مجھے وہ اس میں افسانہ پڑھنے کا کنٹریکٹ باقاعدگی سے بھیجتے رہے۔ یہ آدھے گھنٹے کا پروگرام ہوتا تھا جس میں ایک افسانہ، ایک غزل، ایک نعت اور انشائیہ وغیرہ شامل ہوتا تھا۔ وہ ایک طویل عرصے تک اس پروگرام کے پروڈیوسر رہے اور ہمارا ان سے سالہا سال رابطہ رہا۔ اخبار نویسوں کے علاوہ وہ ریڈیو کے فنکاروں میں بھی بڑے مقبول تھے اور اپنی بہترین فنی صلاحیتوں کے زور پر ترقی کرتے کرتے ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے تک پہنچے لیکن ان کی سادگی نے اُن کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ فیروز پور روڈ پر ماڈل ٹاﺅن موڑ سے پہلے ”چکیاں“ کا سٹاپ آتا ہے یہاں کی آبادی میں ان کی رہائش گاہ تھی اور ساری زندگی انہوں نے یہیں گزاری اور کسی بھی قسم کے تکلفات کو اپنے نزدیک نہیں آنے دیا۔

٭.... آج ہم ٹیلنٹ کی بات کرتے ہیں لیکن تمام قومی اداروں میں سفارش، اقربا پروری اور رشوت کا دور دورہ ہے۔ ٹیلنٹ کو تو بڑی مشکل سے پذیرائی ملتی ہے۔ اصل ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کا زمانہ تو وہی تھا جب اسلام شاہ جیسے مخلص اور باکردار لوگ اداروں سے وابستہ تھے۔ مَیں یقین سے کہتا ہوں کہ ان کی وفات کی خبر پڑھ کر کتنے ہی فنکاروں کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ہوں گے۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے انسان گزر جاتا ہے وقت وہیں رہتا ہے۔ وہی صبح، وہی شام، وہی موسم۔ بہار خزاں، پت جھڑ سارا کچھ وہی رہتا ہے، لیکن انسان آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں تاہم اسلام شاہ جیسے مخلص اور محبت کرنے والے لوگ اپنے دوستوں کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا

جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

٭٭٭

مزید : کلچر