موجودہ الیکشن کمیشن کا فوری احتساب ہو نا چاہیے،زاہد ذوالفقار خان

موجودہ الیکشن کمیشن کا فوری احتساب ہو نا چاہیے،زاہد ذوالفقار خان

  




لاہور(نمائندہ خصوصی)پیپلزپارٹی لاہور کے سینئرنائب صدر زاہد ذالفقار خان اور نائب صدر لاہور فضل الرحمن بٹ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے دھاندلی کی ذمہ داری قبول کرکے موجودہ حکومت کو بری الذمہ کر دیا ہے پیپلزپارٹی الیکشن کمیشن کو دھاندلی کا ذمہ دارسمجھتی ہے موجودہ الیکشن کمیشن کا فوری احتساب ہونا چا ہئے الیکشن کمیشن کے ممبران پر دھاندلی کا الزام ثابت ہونے کی صورت میں ان کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے وزیراعظم استعفیٰ نہیں دینا چاہتے تو پھر فوری ان ممبران کو مستعفی کر دینا چاہیے ملک میں افراتفری اور سیاسی بحران کو نرم کرنے کے لئے حکومت کوئی قدم اٹھائے اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان مل کر موجودہ الیکشن کمیشن کو فوری ختم کریں تاکہ نیا آنے والا الیکشن کمیشن دھاندلی کا کوئی حل نکال سکے حکومت کوئی ایسی پالیسی اختیار کرے جس سے مسائل حل ہوں ملک میں صرف تحریک انصاف ہی نہیں باقی دوسری سیاسی پارٹیاں بھی اہم مقام رکھتی ہیں دھرنے والوں کا غیرآئینی اور غیرسیاسی مطالبے کا کوئی وجود نہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ استعفیٰ کے بغیر نہیں جاؤں گا اس بات پر قائم رہنا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا ملک کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے سیاست میں کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی پر عمل کرنا چاہئے دھرنے والوں کو اپنے طریقہ کار پر صحیح سمت اختیار کرنی چاہئے،عمران خان کو یہ جان لینا چاہیے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی اور دوسری سیاسی پارٹیوں کے ہوتے ہوئے اقتدار پر ناجائزطریقے سے قبضہ نہیں کیا جاسکتا،عوام جن پارٹیوں کو مینڈیٹ دیتی ہے ان کو وقت پورا کرنے کا موقع بھی دیتی ہے عمران خان اگر سمجھتے ہیں کہ کوئی ایک پارٹی اٹھ کر بغیر ثبوت کے جب چاہے حکومت ختم کرسکتی ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے عوام جس کوبھی حکومت میں لائے گی وہ اپنا وقت پورا کرے گا لیکن اگر دھاندلی جن جن حلقوں میں ہوئی ہے اگر ثابت ہوجاتاہے تو وہاں دوبارہ الیکشن ہونے چاہیے اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ حکومتی نظام ایک سال بعد ہی مخصوص طبقے کے لوگوں کو اکٹھا کر کے ختم کرنے کی کوشش کی جائے اور کسی آمر کی آمد کا انتظار کیا جائے جس پر تمام سیاسی پارٹیاں پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر آئینی نظام کو تباہ وبرباد نہیں ہونے دیں گی عوام جانتی ہے کہ عمران خان کے پاس سیاسی ناپختگی ہے جس کی وجہ سے وہ کبھی سول نافرمانی کا کہتے ہیں کبھی پارلیمنٹ اورکبھی وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنے کا کہتے ہیں اور کبھی ٹیلی ویژن سٹیشن پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور بعد میں کسی بات پر قائم نہیں رہتے پاکستانی عوام اور سیاسی پارٹیاں متحد ہیں اور کبھی کسی کویہ موقع نہیں دیں گے کہ وہ آئین اورجمہوریت پر شب خون مارے دھاندلی والے حلقوں میں دوبارہ گنتی کروائی جائے اور جن حلقوں میں دھاندلی ثابت ہوتی ہے ان حلقوں میں فوری دوبارہ الیکشن کروائے جائیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...