عمران خان کی پیپلز پارٹی پر تنقید سیاسی نا پختگی کا ثبوت ہے،نصیر احمد

عمران خان کی پیپلز پارٹی پر تنقید سیاسی نا پختگی کا ثبوت ہے،نصیر احمد

  




لاہور(نمائندہ خصوصی) پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ راوی ٹاؤن کے صدر فریاد خان کی رہائش گاہ پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ کے رہنماؤں نصیر احمد، عمر حیات تبسم، شیخ علی سعید ، شریف سجاد بھٹی نے کہا کہ عمران خان دھرنے کی ناکامی اور خیبر پختونخواہ میں غیر جمہوری روّیوں اور بیڈگورننس سے دلبرداشتہ ہو کرہذیان کی کیفیت میں چلے گئے ہیں ، عمران خان جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں عمران خان نے الیکشن کو فراڈ اور جعلی قرار دیا لیکن اسی الیکشن کو تسلیم کرکے اسمبلی میں بیٹھ گئے اور مراعات لیتے رہے وہ آج تک کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن فراڈ اور نااہل لوگوں پر مشتمل ہے لیکن جب خیبر پختونخواہ میں اسی الیکشن کمیشن کے زیر انتظام الیکشن جیت جاتے ہیں تو اسے بڑی فتح قرار دیتے ہیں۔

لیکن ہارنے کے بعد شام دشنام ترازیوں پر اتر آتے ہیں ، اسمبلیوں سے استعفیٰ بھی دیتے ہیں لیکن تصدیق بھی نہیں کرتے اور ضمنی الیکشن میں مسلسل حصہ بھی لیتے ہیں ، اسمبلی کے استعفیٰ کے باوجود سرکاری مراعات بھی حاصل کر رہے ہیں ، وی آئی پی کلچر کے خاتمہ کی بات کرتے ہیں لیکن خود پرائیویٹ ہیلی کاپٹر اور طیارے میں سفر کر تے ہیں پوری قوم کو ٹیکس نہ دینے اور سول نافرمانی کی تحریک کی ترغیب دیتے ہیں لیکن خود انکے جنرل سیکرٹری سیلز ٹیکس باقاعدگی سے جمع کرواتے ہیں ، لوگوں کو بجلی کے بل نہ دینے کی ہدایت کرنے والے خود اپنا بل آن لائن جمع کرواتے ہیں ، پاکستان کے ہر ادارے اور محب وطن سیاستدانوں کے خلاف ہرزہ سرائی انکی عادت بن چکی ہے انہوں نے کہا کہ جب عمران خان اپنے چیف منسٹر سے کنٹینر پر ڈانس کروارہا تھا پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکن اسوقت سیلاب زدگان کی مدد کر رہے تھے ، عمران خان نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر بہتان بازی کرکے ایک بار پھر اپنی سیاسی نا پختگی کا ثبوت دیا ہے

انہوں نے عمران خان سے کہا کہ اگر ان کی قیادت اور کارکن ڈانس ، دھمکا چوکڑی کرنے کی بجائے اتنی محنت سیلاب زدگان کے لئے کرتے تو سیلاب زدگان کی کافی مشکل کم ہو جاتی ، اگر صرف ڈی جے بٹ کے میوزک کابل سیلاب زدگان میں تقسیم کر دیا جاتا تو کئی دیہات از سر نو آبا د ہوجانے تھے ، انہوں نے عمران خان اورتحریک انصاف کی باقی قیادت سے سے مطالبہ کیا کہ وہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے خلاف بد زبانی بند کردیں اور اپنے الفاظ کی معافی مانگیں ورنہ پیپلز پارٹی کے کارکن زمان پارک میں دھرنا دینے پر مجبور ہونگے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1