گوجرانوالہ: سی آئی اے پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا

گوجرانوالہ: سی آئی اے پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا

  




گوجرانوالہ (بیورو رپورٹ)چاردچار دیواری کا تقدس پامال سی آئی اے پولیس کے دو نکے تھانیدار کی ٹیم کے ہمراہ گھر میں سوئے نوجوان کو زبردستی اٹھا کر چوبیس گھنٹے تک وحشیانہ تشدد ، خاتون خانہ پر بھی تھپڑوں اور گھونسوں ک بارش ، بد ترین تشدد کے بعد تھانہ باغبان پورہ میں چھوٹا اور خود ساختہ 9-C کا مقدمہ درج کرادیا متاثرہ کی درخواست پر عدالت کا مفرور نو جوان کا بطی معائنہ کا حکم ، باغبانپورہ کا سب انسپکٹر اور ریسکیو کی آفیسر بھی آزاد نہ تھڑڈ ڈگری کا استعمال کرتے رہے ، متاثرہ کے گھر میں شدید توڑ پھوڑ ، نوجوان کے چہرے اور جسم کا بدترین تشدد کرکے حلیہ بگاڑ دیا تفصیل کے مطابق محلہ سیالوی ٹاؤن چاہ تیلیاں گلی نمبر9 کے رہائشی نوجوان رانا خرم اپنے گھر میں اہل خانہ سمیت سو رہاتھا کہ سی آئی اے کے اہلکاروں اے سی آئیز محمد ارشد بٹ ، بٹیوالہ ، محمد خلیل ،ملازمین طارق چُٹکا ، علی اصغر ، تھانہ باغبان پورہ کا سکیورٹی آفیسر اعجاز چہل اور دیگر نے چادر چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے باہر کا آہنی دروازہ بھاری پتھر کی مدد سے توڑا اور بیٹھک میں سوئے خرم کو سوتے میں اٹھا کر اسلحہ کے بٹ مار مار کر بدتر ین تشدد کرنے لگے اسکی بیوی اور بہن نے مداخت کی تو شیر جوانوں نے انہیں بھی تھپڑوں اور گھونسوں پر رکھ لیا اور گھر کے قیمتی سامان کو بری طرح توڑ پھوڑ ڈالا اور نوجوان کو زبردستی اٹھا کر چوبیس گھٹنے تک نجی ٹارچر سیل میں رکھ کر انسانیت سوز سلوک کرتے ہوئے اسکے نازک اعضاء سمیت چہرے اور جسم کا بری طرح حلیہ بگاڑ دیا بعد ازاں اسے تھانہ باغبانپورہ میں لیجا کر بند رکدیا اور بلے سے 1215 گرام چرس کا جھوٹا اور خود ساختہ مقدمہ درج کروادیا ، جہاں پر بھی سب انسپکٹر اور سکیورٹی آفیسر اعجاز چہل اسے پر آزادنہ تھرڈ ڈگری کا استعمال کرتے رہے بند کریں تشدد کے با عث حالت ناز ک ہونے پر متاثرہ نوجوان نے اپنے بھائیوں کی مدد سے علاقہ مسجٹر یٹ کی عدالت میں تشدد کیلئے طبی معائنہ کے احکامات حاصل کرلئے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دوران حراست نوجوان بد ترین تشدد کرتے ہوئے سی آئی اے اور باغبانپورہ پولیس کے مذکورہ اہلکاروں نے تھرڈ ڈگری کا آزادانہ استعمال کیا ہے سول ہسپتال میں طبی معائنہ کے دوران مضروب نوجوان رانا خرم نے صحافیوں کو بتایا کہ قبل ازین بھی مذکورہ سی آئی اے اہلارک اسے زبردستی منشیات فروشی کیلئے مجبور کرتے رہتے اور حراساں کرکے اسے رقوم بٹورتے رہتے ، حالانکہ اہل علاقہ کے درجنوں معززین نے اسکی بے گناہی کے بیان حلفی بھی دئیے مگر سی آئی اے اور تھانہ باغبانپورہ کے مذکورہ اہلکار مسلسل بھتہ طلب کرتے رہتے اب انکار پر یہ گھر سے زبردستی اٹھا کر جھوٹا اور خود ساختہ وقوعہ بنا کر بھاری منشیات فروشی کا مقدمہ بنا دیا ہے جبکہ وہ بالکل بے گناہ ہے متاثرہ نے آرپی او سی پی او گوجرانوالہ سے داد رسی کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید : علاقائی


loading...