پٹی پٹائی پی ٹی آئی کے پٹے ہوئے استعفے

پٹی پٹائی پی ٹی آئی کے پٹے ہوئے استعفے
پٹی پٹائی پی ٹی آئی کے پٹے ہوئے استعفے

  



عمران خان وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ لینے گئے تھے، وہ استعفے دے کر واپس آئیں گے ، انہوں نے حکومت پر دباﺅ ڈالنے کے لئے استعفوں کا ڈھونگ رچایا تھا، لیکن خود ان استعفوں کے بوجھ تلے دبے دکھائی دے رہے ہیں ، ان کے اردگرد کھڑ ے سیاست دان عمران خان کو بند گلی میں لے گئے ہیں، آخر کسی سبب سے تو شیخ رشید، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی اپنی اپنی پارٹیوں سے دھتکارے گئے تھے، دیکھئے عمران خان کب یہ کارثواب سرانجام دیتے ہیں!

آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 64 کے مطابق قومی اسمبلی میں استعفیٰ دینے کے ساتھ ممبر اسمبلی اپنی سیٹ سے مستعفی تصور کیا جاتا ہے، چنانچہ ایسے سوالات کہ پی ٹی آئی کے استعفے وسط اگست سے اب تک منظور کیوں نہیں کئے گئے اور سپیکر کب تک ان استعفوں کو التوا میں رکھ سکتا ہے آئین کی زبان نہیں ہیںبلکہ آئین کے آرٹیکل 64کی زبان یوں ہے کہ ”مجلس شوریٰ کا کوئی رکن سپیکر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنی نشست سے مستعفی ہو سکے گا اور اس کے بعد اس کی نشست خالی ہو جائے گی“۔ آئینی ماہرین کے مطابق اس آرٹیکل میں ”اس کے بعد“ کے الفاظ اہم ہیں ، اس میں سپیکر کہیں نہیں آتا۔ البتہ قومی اسمبلی کے رول نمبر 25میں یہ وضاحت موجود ہے کہ اگر ممبر خود سپیکر کے روبرو پیش ہو کر استعفیٰ دے تو وہ اسی لمحے اپنی نشست سے ہاتھ دھو بیٹھے گا لیکن اگر خود پیش نہ ہو تو سپیکر کی ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ وہ کسی ذرائع سے بھی اپنے آپ کو مطمئن کرے اس کو وصول شدہ تحریری استعفیٰ واقعی مستعفی رکن کا ہے ، تسلی ہو جانے پر وہ سیکرٹری قومی اسمبلی کو اپنے اس نتیجہ پر پہنچنے کی اطلاع دے دے ، اس کے بعد سارا معاملہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا ہے ، استعفیٰ منظور کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ متذکرہ بالا آئینی رائے خالی بابائے آئین ایس ایم ظفر ہی کی نہیں،بلکہ پی ٹی آئی کے وکیل جنا ب احمد اویس کی بھی ہے، ان آراءکے مطابق پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اب ممبران اسمبلی نہیں رہے ہیںاور شاہ محمود قریشی جن استعفوں کی سیاست کر رہے ہیں وہ مستعفی استعفوں کی سیاست ہے !

 البتہ اگر پی ٹی آئی کا کوئی ممبر سپیکر قومی اسمبلی کو تسلی کروادیتا ہے کہ ان کو وصول شدہ تحریری استعفیٰ پر اس کے دستخط جبرو اکراہ سے لئے گئے ہیں، جیسا کہ مخدوم جاوید ہاشمی کا دعویٰ ہے ، تو ایسے استعفوں کی حیثیت پر آئینی اور قانونی بحث تو ہو سکتی ہے، لیکن جن جھوٹ موٹ کے استعفوں کا غلغلہ شاہ محمود قریشی نے مچایا ہوا ہے ، ان کی آئینی اور قانونی حیثیت وہی ہے، جس کا تذکرہ اوپر کر دیا گیا ہے، ویسے کچھ بعید نہیں کہ شاہ محمود قریشی پہلے رکن ہو ں، جو سپیکر کو بتائیں کہ عمران خان نے زبردستی ان سے استعفیٰ لیا تھا!

دیکھا جائے تو استعفیٰ تو ایک بھی بہت ہوتا ہے، لیکن پی ٹی آئی تو پورے 29استعفے جمع کروابیٹھی ہوئی ہے، اس کے باوجود لگتا ہے کہ عوام کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہے اور اب بھی عوام کی اکثریت نے سڑکوں پر نکلنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے، کراچی میں پی ٹی آئی کا جلسہ بھرپور تھا، لیکن وفاقی وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ اس کا سبب پی ٹی آئی کا ایم کیو ایم سے مک مکا تھا، دیکھئے لاہور میں یہ مک مکا کون کرتا ہے، کیونکہ 30اکتوبر 2011ءکے جلسے کے بعد تو پرویز رشید صاحب نے بتایا تھا کہ ملک بھر کی این جی اوز نے اس جلسے میں لوگ بھرے تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کے جیالے بھی دبے الفاظ میں وہاں اپنی موجودگی کا اقرار کرتے تھے !

یہ بات بھی اب واضح ہو گئی ہے کہ پی ٹی آئی کے استعفوں سے پارلیمنٹ کے اندر بھی بھونچال نہیں آیا ہے، بلکہ دیکھا جائے تو ان استعفوں نے پارلیمنٹ کو متحد کر دیا اور ساری پارلیمانی جماعتیں حکومت کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو گئیں، پی ٹی آئی تنہا ہو گئی اور اس کے استعفے بھی!

 ممبران پارلیمنٹ سپیکر سے گلہ کرتے پائے گئے کہ اب تک استعفے منظور کیوں نہیں کئے گئے، جبکہ پیچارے سپیکر صاحب شاہ محمود قریشی کو پیچھے سے آوازیں دیتے ہی رہ گئے اور وہ تھوکوں سے بھری تقریر کرکے اسمبلی کے فلور سے رفو چکر ہو گئے، اب کہتے ہیں کہ دستخطوں کی تصدیق کے لئے اکٹھے جائیں گے ، علیحدہ علیحدہ نہیں، لیکن جب سے مخدوم جاوید ہاشمی نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر علی الاعلان استعفیٰ دیا ہے ، پی ٹی آئی کے 29استعفے اب اس کے ماتھے کا جھومر بننے کے بجائے اس کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں، اگلے بن رہی ہے نہ نگلے !

ادھر امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی پی ٹی آئی کے استعفوں کی چوکیداری کرتے کرتے تھک چکے ہیں،لیکن عمران خان ہیں کہ سننے کے لئے تیارہیں نہ سمجھنے کے لئے ، انہوں نے پہلے انتخابات کو مذاق بنایا تھا اب استعفوں کو بنارہے ہیں، تبھی تو آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ جب استعفے موثر ہو چکے، تو سپیکر کو آئین اور قانون کے مطابق اگلی کاروائی کا آغاز کرنا چاہئے، لیکن سپیکر ہیں کہ ابھی بھی پچھلی کارروائی پر غور کر رہے ہیں!

مزید : کالم