ایمنسٹی سکیم ، گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کے دوران 50ارب کی بے ضابطگی کا انکشاف

ایمنسٹی سکیم ، گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کے دوران 50ارب کی بے ضابطگی کا ...

  



                        لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) ایمنسٹی سکیم کے تحت سمگل شدہ اور نان کسٹم گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کے دوران 50ارب روپے سے زائد مالیت کی بے ضابطگی کا انکشاف ہوا ہے۔ سکیم میں ایک طرف 23ہزار کی بجائے 51ہزار گاڑیوں کی ایمنسٹی دی گئی تو دوسری طرف ممکنہ ریونیو نے 30ارب روپے سے بڑھ کر 66ارب اکٹھا کرنے کی بجائے محض 16ارب روپے اکٹھا کیا جاسکا۔ایف بی آر نے آئندہ ایسی سکیم میں تو سیع نہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔معلوم ہواہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 5مارچ2013کو ایس آر او نمبر 172(1)/2013کے تحت ملک میں سمگل شدہ اور نان کسٹم گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کی غرض سے ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی۔طے پایا کہ مذکورہ سکیم کے تحت 23ہزارسمگل شدہ اور نان کسٹم گاڑیوں کو ایمنسٹی دی جائیگی۔ جن سے فی کس اوسطاً 13لاکھ روپے بطور ڈیوٹی وصول کی جائیگی۔ اور مجموعی طورپر 30ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوسکے گا۔ لیکن سکیم کے تحت 23ہزار کی بجائے 51ہزار گاڑیوں کے مالکان نے فائدہ اٹھایا۔ جو کہ طے شدہ گاڑیوں کی تعداد سے کہیں زیادہ تھا۔ لیکن اسی کے ساتھ ممکنہ مجموعی ریونیوجو 30ارب روپے وصول ہوناتھا ۔ بڑھ کر66ارب روپے تک پہنچنے کی بجائے گھٹ کر محض16ارب روپے رہ گیا۔ اور قومی خزانے کو 50ارب روپے سے زائد ریونیو خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قدر بھاری ریونیو خسارہ یقینی طورپر بے ضابطگی کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی معلوم ہواہے کہ ایف بی آر نے ایمنسٹی سکیم میں پائی جانے والی ان بے ضابطگیوں کی روشنی میں آئندہ اس سکیم کو توسیع نہ دیتے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایمنسٹی سکیم

مزید : صفحہ آخر


loading...