اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک لاکھ 85ہزار ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی منظوری دیدی

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک لاکھ 85ہزار ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی منظوری ...

  



                 اسلام آباد(اے اےن اےن) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک لاکھ 85 ہزار ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی منظوری دے دی ،ربیع سیزن میں چھ لاکھ ٹن قلت کاامکان، خام لوہے کی درآمد پر پانچ فیصد ڈیوٹی کے اخراجات پورے کرنے کیلئے پاکستان اسٹیل مل کو 52 کروڑ 90 لاکھ روپے کے مالیاتی پیکیج کی منظوری، توویرکی سٹیل ملز کور عایتی نرخوں پر پانچ ارب روپے کی سالانہ گیس فراہم کرنے کی سمری مسترد کردی گئی،سیکرٹری صنعت وپیداوارکی سرزنش۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزارت صنعت و پیداوار نے توویرکی سٹیل ملز کورعایتی نرخوں پر پانچ ارب روپے کی سالانہ گیس فراہم کرنے کی سمری پیش کی جو پانچ سال تک فراہم کی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے اس سمری پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی ایک پارٹی کو رعایتی گیس دینے کا کوئی جواز نہیں ہے اور نہ ہی کسی کمپنی کو کوئی سبسڈی دی جائے گی۔ انہوں نے سیکرٹری صنعت و پیداوار کی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ وہ حقائق پر مبنی سمری پیش کریں جس میں کسی کو نوازنے کا پہلو نہ ہو۔ کمیٹی نے آئی پی پیز کی طرز پر بائیو میس منصوبہ کیلئے ڈرافٹ انرجی پرچیز ایگریمنٹ اور ڈرافٹ ایمپلی منٹیشن اگریمنٹ کے معاملے پر غور موخر کردیا یہ سمری وزارت پانی و بجلی نے پیش کی تھی۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ ان معاہدوں میں منصوبوں کی قیمت زائد لگائی گئی ہے لہذا اس پر نظرثانی کی جائے۔ کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار کی تجویز پر خام لوہے کی درآمد پر پانچ فیصد ڈیوٹی کے اخراجات پورے کرنے کیلئے پاکستان اسٹیل مل کو 52 کروڑ 90 لاکھ روپے کے مالیتی پیکیج کے اضافے کی منظوری دے دی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ایس آر او کلچر کو ختم کرنا چاہتی ہے اس لئے کسی کو چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو ڈویژن نے پہلے ہی پاکستان اسٹیل مل کیلئے رعایتی تجاویز کی منظوری دے دی ہے اور انہیں جنرل سیلز ٹیکس کی ادائیگی میں تین مہینے کا ٹائم دیا گیا ہے اسی طرح خام مال کی درآمد ایڈوانس انکم ٹیکس کی ادائیگی میں بھی چھوٹ دی گئی ہے تاکہ اسٹیل مل کو خسارے سے بچایا جاسکے اور اسے اپنے پاﺅں پر کھڑا کیا جاسکے۔ کمیٹی نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ کچھ ماہ قبل اسٹیل مل کو دئیے جانے والے مالیاتی پیکج کی وجہ سے اس کی پیداواری گنجائش بڑھ کر 30 فیصد ہوگئی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو بتایا کہ ربیع سیزن 2014-15 کیلئے یوریا کھاد کی6 لاکھ ٹن قلت کا سامنا ہوگا کیونکہ ملک میں پیداواری یونٹ پوری طرح کام نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ گیس کی قلت ہے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پرزور دیا کہ یوریا کھاد زیادہ سے زیادہ ملک کے اندر پیدا کی جائے تاکہ اس کی درآمد سے گریز کیا جاسکے۔ انہوں نے وزارت پیٹرولیم سے کہا کہ وہ کھاد کے کارخانوں کو آئندہ موسم سرما میں گیس کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے وزارت صنعت و پیداوار کو ہدایت کی کہ وہ کھاد کی غیر ضروری درآمد روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں تاکہ قیمتی زر مبادلہ بچایا جاسکے۔ کمیٹی نے اس موقع پر ایک لاکھ 85 ہزار ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی منظوری دی اور کہاکہ مزید 4 لاکھ 15 ہزار ٹن یوریا کھاد کی درآمد کے معاملے کو اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے اور حقائق پر مبنی تجویز لائی جائیں۔ وزارتیں ای سی سی کو سمریاں پیش کرنے سے قبل خود اپنے اپنے دفاتر میں اجلاس بلا کر تفصیلی غور کیا کریں اور غیر ضروری اقدامات کی حوصلہ شکنی کریں۔

 اقتصادی رابطہ کمیٹی

مزید : صفحہ آخر


loading...